@tasawaf1: یہ شعر تصوف کے اس باطنی مقام کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں انسان کا دل دنیا کی دولت، شہرت اور اقتدار سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ جب دل میں فقیری آتی ہے تو وہ صرف اللہ کی رضا کو معیار بناتا ہے، اس لیے وہ کسی ظاہری طاقت یا بادشاہت سے مرعوب نہیں ہوتا۔ حقیقی فقیری کمزوری نہیں بلکہ روحانی آزادی اور حق پر ثابت قدمی کا نام ہے۔ دل فقیری پر اتر آئے، تو الجھ پڑتا ہے بادشاہوں سے۔ جب دل دنیا کی محبت سے خالی اور اللہ کی محبت سے آباد ہو جائے، تو پھر اسے تخت و تاج کی چمک متاثر نہیں کرتی۔ اہلِ تصوف کے نزدیک حقیقی فقیری وہ دولت ہے جو انسان کو ہر غیر اللہ سے بے نیاز کر دیتی ہے۔ ایسا شخص حق بات کہنے سے نہیں ڈرتا، کیونکہ اس کا سہارا صرف اللہ ہوتا ہے، نہ کہ دنیا کی طاقت۔ 🤍 اللہ ہمیں بھی ایسی فقیری، اخلاص اور معرفت عطا فرمائے۔ #تصوف #فقیری #معرفت #اللہ_کی_محبت #تصوف_کی_باتیں