@0543980147..1: میری تحریریں محض کاغذ پر بکھری سیاہی نہیں ہیں، یہ وہ خاموش گفتگو ہے جو میں نے ہمیشہ تم سے کرنی چاہی۔ جب تم ان لفظوں سے گزرو گی، تو شاید تمہیں ہماری وہ پرانی باتیں، وہ چھوٹی چھوٹی شرارتیں یاد آئیں اور تمہارے لبوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ کھل اٹھے۔ لیکن جیسے ہی تم سطروں کے پیچھے چھپی میری تنہائی اور اس اداس الوداع کو چھوؤ گی، شاید تمہاری آنکھیں بھی بھر آئیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ان لفظوں کے روپ میں، میں نے اپنے وجود کا ایک حصہ ہمیشہ کے لیے تمہارے پاس چھوڑ دیا ہے۔ اب یہ تم پر ہے کہ تم انہیں ہنس کر پڑھتی ہو یا رو کر... لیکن تم انہیں جب بھی پڑھو گی، مجھے اپنے ہی پاس پاؤ گی۔ ازقلم رضو بلوچ ✍🏼 #رپوسٹ۔کریسو۔سنگت۔کمال۔مہربانی۔🙌❤️