جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ آزاد کشمیر میں ہر چیز مفت یا بہت سستی ہے، وہ زمینی حقائق سے بالکل ناواقف ہیں یا پھر محض سنی سنائی باتوں پر یقین رکھتے ہیں۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے:
مہنگائی کا طوفان: جو کولڈ ڈرنک (بوتل) پاکستان کے دوسرے شہروں میں 200 روپے کی ملتی ہے، وہ کشمیر میں ٹرانسپورٹ کے کٹھن اخراجات کی وجہ سے 250 روپے کی ملتی ہے۔
خوراک اور روزمرہ کی اشیاء: گھی کا پیکٹ جو یہاں 450 کا ملتا ہے، وہاں 550 روپے تک کا فروخت ہوتا ہے۔ دالیں، چاول اور دیگر ضرورت کی اشیاء بھی پاکستان کے مقابلے میں مہنگی ہیں۔ بچوں کے پیمپر اور انڈے تک عام مارکیٹ سے زیادہ مہےنگے داموں (تقریباً 30 سے 35 روپے فی انڈا) ملتے ہیں۔
ٹرانسپورٹ کے ہوشربا اخراجات: پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کا نظام انتہائی مہنگا ہے۔ اگر کوئی شخص گھر بنانے کے لیے بلاک یا کوئی دوسرا سامان لے کر جائے، تو گاڑی کا کرایہ ہی 10 سے 12 ہزار روپے تک بن جاتا ہے۔ سامان کی کُھپت اور ترسیل کے اس کٹھن عمل کی وجہ سے ہر چیز کی لاگت خود بخود بڑھ جاتی ہے۔
لہٰذا، یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ کشمیر میں زندگی بہت سستی ہے۔ پہاڑی علاقوں کے جغرافیائی چیلنجز کی وجہ سے وہاں کے لوگوں کو روزمرہ کی زندگی میں میدانی علاقوں کی نسبت کہیں زیادہ مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
2026-07-30 09:08:27
0
Hassan KOKHER 631 :
❤️❤️❤️
2026-07-29 14:15:24
0
To see more videos from user @yousafraja63, please go to the Tikwm
homepage.