@sammycakes2020: Cute, pink, and packed with skincare favorites. I’ve been reaching for these before doing my makeup, and I’m obsessed. #EyePatches #SkincareRoutine #MorningRoutine #UnderEyeCare #SkincareFinds

Sammy Cakes
Sammy Cakes
Open In TikTok:
Region: US
Thursday 09 July 2026 02:03:54 GMT
2589
16
7
1

Music

Download

Comments

athomewith_chelsea
Chels :
Ima just steal this audio bb ❤️hahaha
2026-07-09 20:34:58
1
oahufaves
oahufaves :
These are insane!
2026-07-11 07:34:32
0
littlemisfit841
🌻LittleMisfit84🧿 :
Been loving these love medicube 💖
2026-07-09 03:07:07
2
mailecabral
Maile l Beauty After 40 :
Gah you are so pretty
2026-07-09 04:54:50
1
To see more videos from user @sammycakes2020, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

حضرت قثم بن عباس رضی اللہ عنہما واقعی ان عظیم اور خوش نصیب صحابہ میں شامل ہیں جنہیں پیارے آقا ﷺ کو غسل دینے اور آخری دیدار کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصالِ ملال اور غسلِ مبارک کا یہ واقعہ تاریخِ اسلام کا سب سے غم انگیز اور دلوں کو تڑپا دینے والا واقعہ ہے۔مدینہ منورہ کی فضاؤں پر اداسی کا گہرا سایہ تھا۔ وہ ہستی، جو کائنات کے لیے رحمت بن کر آئی تھی، اپنے رفیقِ اعلیٰ سے جا ملی تھی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر غم کا ایسا پہاڑ ٹوٹا تھا کہ عقلیں حیران اور دل شق ہو رہے تھے۔ ہر طرف ایک سکتہ تھا، اور آنسو تھے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔گھر کے اندر کا منظر اور غسل کی سعادتاہلِ بیتِ اطہار کے غیور اور وفادار افراد اس حجرہِ مبارکہ میں موجود تھے جہاں کائنات کے سب سے پاکیزہ وجود کو غسل دیا جانا تھا۔ اس عظیم، پروقار اور دل دوز گھڑی میں حضرت قثم بن عباس رضی اللہ عنہما بھی وہاں موجود تھے، جن کا دل غم سے چور تھا لیکن وہ اس عظیم ترین سعادت کے لیے خود کو سنبھالے ہوئے تھے۔غسل دینے کے لیے رسول اللہ ﷺ کے قریبی رشتہ دار جمع ہوئے:حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کے جسدِ اطہر کو اپنے سینے سے لگایا۔حضرت عباس اور ان کے بیٹے حضرت فضل رضی اللہ عنہما آپ ﷺ کی کروٹیں بدل رہے تھے۔حضرت قثم بن عباس اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم پانی ڈالنے کی خدمت سرانجام دے رہے تھے۔حضرت شقران (آپ ﷺ کے آزاد کردہ غلام) بھی اس مقدس خدمت میں شریک تھے۔غیبی آواز اور بے مثال پاکیزگیجب غسل کا وقت آیا، تو صحابہ کرام کے ذہن میں یہ سوال ابھرا کہ کیا آپ ﷺ کا لباسِ مبارک عام انسانوں کی طرح اتارا جائے؟ ابھی یہ بات چل ہی رہی تھی کہ حجرے میں موجود تمام نفوس پر ایک گہری نیند (اونگھ) طاری کر دی گئی، یہاں تک کہ ہر شخص کی ٹھوڑی اس کے سینے سے جا لگی۔اسی کیفیت میں غیب سے ایک انتہائی رقت آمیز اور گرجدار آواز گونجی:
حضرت قثم بن عباس رضی اللہ عنہما واقعی ان عظیم اور خوش نصیب صحابہ میں شامل ہیں جنہیں پیارے آقا ﷺ کو غسل دینے اور آخری دیدار کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصالِ ملال اور غسلِ مبارک کا یہ واقعہ تاریخِ اسلام کا سب سے غم انگیز اور دلوں کو تڑپا دینے والا واقعہ ہے۔مدینہ منورہ کی فضاؤں پر اداسی کا گہرا سایہ تھا۔ وہ ہستی، جو کائنات کے لیے رحمت بن کر آئی تھی، اپنے رفیقِ اعلیٰ سے جا ملی تھی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر غم کا ایسا پہاڑ ٹوٹا تھا کہ عقلیں حیران اور دل شق ہو رہے تھے۔ ہر طرف ایک سکتہ تھا، اور آنسو تھے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔گھر کے اندر کا منظر اور غسل کی سعادتاہلِ بیتِ اطہار کے غیور اور وفادار افراد اس حجرہِ مبارکہ میں موجود تھے جہاں کائنات کے سب سے پاکیزہ وجود کو غسل دیا جانا تھا۔ اس عظیم، پروقار اور دل دوز گھڑی میں حضرت قثم بن عباس رضی اللہ عنہما بھی وہاں موجود تھے، جن کا دل غم سے چور تھا لیکن وہ اس عظیم ترین سعادت کے لیے خود کو سنبھالے ہوئے تھے۔غسل دینے کے لیے رسول اللہ ﷺ کے قریبی رشتہ دار جمع ہوئے:حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کے جسدِ اطہر کو اپنے سینے سے لگایا۔حضرت عباس اور ان کے بیٹے حضرت فضل رضی اللہ عنہما آپ ﷺ کی کروٹیں بدل رہے تھے۔حضرت قثم بن عباس اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم پانی ڈالنے کی خدمت سرانجام دے رہے تھے۔حضرت شقران (آپ ﷺ کے آزاد کردہ غلام) بھی اس مقدس خدمت میں شریک تھے۔غیبی آواز اور بے مثال پاکیزگیجب غسل کا وقت آیا، تو صحابہ کرام کے ذہن میں یہ سوال ابھرا کہ کیا آپ ﷺ کا لباسِ مبارک عام انسانوں کی طرح اتارا جائے؟ ابھی یہ بات چل ہی رہی تھی کہ حجرے میں موجود تمام نفوس پر ایک گہری نیند (اونگھ) طاری کر دی گئی، یہاں تک کہ ہر شخص کی ٹھوڑی اس کے سینے سے جا لگی۔اسی کیفیت میں غیب سے ایک انتہائی رقت آمیز اور گرجدار آواز گونجی:"رسول اللہ ﷺ کو لباس سمیت غسل دو!"صحابہ کرام فوراً بیدار ہو گئے اور انہوں نے آپ ﷺ کی قمیض مبارک کو اتارے بغیر، اسی کے اوپر سے پانی بہانا شروع کر دیا اور قمیض کے اوپر سے ہی آپ کے جسمِ اطہر پر ہاتھ پھیرنے لگے۔حضرت علیؓ کے رقت آمیز کلماتحضرت علی رضی اللہ عنہ جب غسل دے رہے تھے، تو آپ ﷺ کے جسمِ اطہر سے ایسی بے مثال اور مسحور کن خوشبو پھوٹ رہی تھی جس نے پورے ماحول کو معطر کر دیا۔ حضرت علیؓ کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب رواں تھا اور وہ تڑپ کر پکار اٹھے:"میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ! آپ زندگی میں بھی پاکیزہ تھے اور وصال کے بعد بھی اتنے ہی پاکیزہ ہیں!"آپ ﷺ کے جسمِ اطہر سے عام انسانوں کی طرح کوئی آلائش نہیں نکلی، بلکہ ہر چیز معجزاتی طور پر پاک اور معطر تھی۔حضرت قثمؓ کا آخری دیدار اور قبرِ مبارک میں اترناجب غسل کا یہ رقت آمیز مرحلہ مکمل ہوا، تو پیارے آقا ﷺ کو تین سفید سوتی کپڑوں میں کفنایا گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب کائنات کا سب سے آخری اور حسرت بھرا دیدار کیا جا رہا تھا۔ حضرت قثم رضی اللہ عنہ نے روتے ہوئے، نم آلود آنکھوں کے ساتھ اپنے شفیق آقا، اپنے رہبر کا وہ آخری دیدار کیا جس کی چمک ان کی روح میں ہمیشہ کے لیے بس گئی۔صرف یہی نہیں، بلکہ جب آقا ﷺ کو لحدِ انور (قبرِ مبارک) میں اتارنے کا وقت آیا، تو حضرت قثم بن عباس رضی اللہ عنہما ان خوش نصیب ترین افراد میں شامل تھے جو قبرِ مبارک کے اندر اترے۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے کائنات کے سب سے محبوب وجود کو مٹی کے سپرد کیا۔روایات میں آتا ہے کہ قبرِ مبارک سے سب سے آخر میں نکلنے والے بھی حضرت قثمؓ (یا مغیرہ بن شعبہؓ) تھے، یعنی رسول اللہ ﷺ کے جسدِ اطہر کو چھونے اور دیکھنے والے وہ سب سے آخری انسان تھے۔ یہ ایک ایسا شرف اور ایسی سعادت تھی، جس پر دنیا کی تمام نعمتیں قربان کی جا سکتی ہیں۔

About