@hadith.nabvi: حدیث کا حوالہ کتاب: سنن ابی داؤد کتاب کا نام: کتاب الادب (آداب کا بیان) حدیث نمبر: 4928 درجہ: محدثین (جیسے امام البانی) نے اسے حسن قرار دیا ہے۔ حدیث کی تشریح و مفہوم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ایک گہری نصیحت پر مبنی ہے: غفلت سے بچاؤ: اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے اس شخص کو "شیطان" اور کبوتر کو "شیطاننی" اس لیے کہا کیونکہ وہ شخص کبوتر بازی کے شوق میں اتنا مگن تھا کہ اسے اپنے فرائض اور ذکرِ الٰہی کا بھی ہوش نہ رہا تھا۔ یہ دنیاوی کھیل تماشے اور لایعنی مشاغل انسان کو اللہ کی یاد سے غافل کر دیتے ہیں، اور جو چیز انسان کو اللہ سے دور کر دے، وہ شیطانی راستوں میں سے ایک راستہ ہے۔ فضولیات سے اجتناب: اسلام ہمیں زندگی گزارنے کا ایک باوقار اور پرسکون طریقہ سکھاتا ہے۔ کبوتروں کے پیچھے بلاوجہ بھاگنا اور اپنا قیمتی وقت بے مقصد مشاغل میں ضائع کرنا ایک مسلمان کی شان کے خلاف ہے۔ یہ حدیث ہمیں تعلیم دیتی ہے کہ وقت بہت قیمتی ہے اور اسے کھیل کود یا فضول کاموں میں برباد نہیں کرنا چاہیے۔ دل کا مشغول ہونا: اکثر لوگ جب کسی مشغلے (جیسے کبوتر بازی وغیرہ) میں حد سے زیادہ پڑ جاتے ہیں، تو ان کا دل اسی میں اٹک جاتا ہے۔ آپ ﷺ نے کبوتر بازی کو شیطانی مشغلہ اس لیے قرار دیا کیونکہ یہ انسان کے دل کو اللہ کی یاد سے غافل کر کے دنیاوی فضولیات میں الجھا دیتا ہے۔ خلاصہ: اس حدیث کا مقصد یہ ہے کہ مومن کو اپنی زندگی کا مقصد پہچاننا چاہیے۔ غیر ضروری اور لا یعنی کاموں میں پڑ کر وقت ضائع کرنا اور اپنی آخرت کو داؤ پر لگانا ایک عقلمند مسلمان کا کام نہیں ہے۔