@lahasil399: انسان جب ڈر کے سائے میں جینا سیکھ لیتا ہے، تو وہ اپنی روح کے دروازے بند کر دیتا ہے۔ خوف اور محبت کبھی ایک جگہ نہیں رہ سکتے، کیونکہ محبت کو پروان چڑھنے کے لیے آزادی، اعتماد اور خود سپردگی کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ خوف انسان کو ہر لمحہ محتاط، شکی اور محدود رکھتا ہے۔ جو شخص ڈر کے حصار میں مقید ہے، وہ دوسروں کے لیے اپنا دل نہیں کھول سکتا، کیونکہ محبت کرنے کے لیے خطرہ مول لینا پڑتا ہے، اور ڈرپوک انسان خطرے سے بھاگتا ہے۔ درحقیقت، جو شخص زندگی کو صرف بچا کر رکھنا چاہتا ہے، وہ زندگی گزارتا نہیں، بلکہ صرف وقت کاٹ رہا ہوتا ہے۔ سانس لینے، کھانا کھانے اور روزمرہ کے کاموں کو انجام دینے کا نام زندگی نہیں ہے۔ زندگی تو نام ہے جذبات کی شدت، تجربات کی وسعت اور خوف سے ماورا ہو کر جینے کا۔ جس شخص کے اندر ڈر نے ڈیرے جما لیے ہوں، وہ کبھی اپنی ذات کی بلندیوں کو نہیں چھو سکتا، کیونکہ خوف اس کی تخلیقی صلاحیتوں، اس کے خوابوں اور اس کے پیار کرنے کے ہنر کو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے۔ جو ڈرتا ہے، وہ حقیقت میں مردہ ضمیر ہو جاتا ہے اور زندگی کی حقیقی رعنائیوں سے محروم رہ جاتا ہے۔#foryoupage #standwithkashmir #unfreezemyacount #flypシ