@asianazeer4: ہمارے نبی کا جنازہ ایسے نہیں ہوا اللہ اکبر اور پیچھے صفیں آپ کی چارپائی کے پاس آکر صحابہ کھڑے ہو جاتے تھے آپ کے جانے میں پانچ دن باقی تھے تو آپ نے فرمایا مجھے سات کنوں کے پانی سے غسل کرواؤ تو سات کنوں سے پانی لایا گیا مشکیزوں میں بھر کے تو حضرت عائشہ کے گھر میں کوئی ایسا ٹب نہیں تھا جس میں بیٹھ کے وہ آپ نہا سکتے تو حضرت حفظہ کے گھر سے ٹب منگوایا گیا آپس میں بیٹھے تہمت باندھا ہوا تھا کرتا اتارا اور آپ پر سات کنوؤں کا پانی ڈالا گیا تھوڑا تھوڑا تھوڑا تھوڑا تھوڑا تو اس سے بخار کی شدت. کم ہوئی اور آپ سر درد کی وجہ سے آپ نے ایسے پٹی باندھی سرخ رنگ کی اور اس کے بعد حضرت علی اور فضل بن عباس کے کندھوں کا آسرالے کر آپ مسجد میں تشریف لائے اور اور آپ ممبر پر بیٹھے اور آپ نے فرمایا لوگو میرے جانے کا وقت آچکا ہے میں نے کسی پر زیادتی کی ہو کسی کو تھپڑ مارا ہو کسی کو چھڑی ماری ہوکسی کاحق دبایا ہو تو میں آپنی جان کے ساتھ مال کے ساتھ حاضر ہوں مجھ سے یہی بدلہ لوآخرت میں میرے خلاف کوئی دعویٰ نہ کریں میں آخرت کی حساب کو برداشت نہیں کر سکتے جن کے طفیل لوگوں کا حساب معاف ہوگا جن کے طفیل جن کی شفاعت پر لوگ بےحساب جنت میں جائیں گے وہ روتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ میں آخرت حساب کو نہیں دے سکتا تو سارے صحابہ رونے لگے لیکن آپ اپنی بات کو دہراتے رہے کوئی بھی نہیں اٹھا تو آپ نے ظہر کی نماز پڑھائی ظہر کے بعد پھر ممبر پر آئے اور فرمایا کہ لوگوں یہیں. مجھ سے حساب کتاب کر لو آگے نہ کرنا بتاؤ میں نے کسی کا کوئی حق دینا ایک صحابی کھڑے ہو کر یارسول اللہ آپ نے میرے تین روپے دینے ہیں تین درہم تو آپ نے فرمایا دینے ہوں گے ضرور پر مجھے یاد نہیں بتاؤ گے کس طرح دینے ہیں کہا یا رسول اللہ آپ کے پاس سائل آیا تھا آپ سے مانگا آپ کے پاس تھے نہیں تو آپ نے مجھ سے کہا تیرے پاس کچھ ہیں تو میرے پاس تین درہم تھے تو میں نے آپ نے فرمایا تو دے میں بعد میں اداکار دوں گا تو کہا یاد آگیا میرے نبی کے گھر میں تو تیل نہیں تھا ایک چھٹانک جس سے چراغ جلتا پیسہ کہاں سے آتا تو آپ کے سامنے آپ کے کزن فضل بن عباس کھڑے تھے آپ نے فرمایا فضل میرا قرضہ ذمہ لیتے ہو جن کے لیے کائنات سجائ گئ جنت کی چابیاں جن کو پکڑایا گی جاتے ہوئے تین روپے دینے کی ہمت نہیں تھی کہا فضل میرا قرضہ ذمہ لیتے ہو کہا جی یارسول میں اپنے ذمے لیتا ہوں کہا اس سے لینا آپ گھر تشریف لے گئے نماز کے لیے آتے تھے پڑھاتے تھے جمعرات کو عشاء کی نماز پڑھانے کے لیے آٹھے آٹھ نہیں سکے گر گئے پھر اٹھنے لگے اٹھ نہیں سکے گر گے پھر اٹھنے لگے آٹھ نہیں سکے تو آپ نے فرمایا ابوبکر سے کہو نماز پڑھانے عشاء کی نماز ابوبکر زراپیچھے کھڑے تھے عمر آگے کھڑے تھے تو لوگوں نے کہا نماز ہی پڑھانی ہے کوئی پڑھا دے تو انہوں نے حضرت عمر کو آگے کیا انہوں نے کہا اللہ اکبر جب حضرت عمر کی تکبیر سنی تو آپ نے اندر سے زور سے فرمایا عمر کو پیچھے کرؤ ابوبکر کو آگے کرؤ میرے رب کا فرمان ہے میرے مصلے پر ابوبکر کے سوا اور کوئی کھڑا نہیں ہو سکتا جمرات کی عشاء جمعہ ہفتہ اتوار کی پندرہ نمازیں اور پیر کی فجر کی سولہ اور جمعرات والی سترہ نمازیں ابوبکر نے پڑھائی میرے نبی کی موجودگی میں ہفتے کے دن ظہر یا عصر میں آپ علی اور فضل بن عباس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کے مسجد میں داخل ہوے اور ابوبکر نماز پڑھا رہے تھے ادھر محسوس ہوا کہ اللہ کے نبی آرہے ہیں تو ابوبکر نے یوں پیچھے ہٹنا شروع کیا ایسے تاکہ مصلے سے ہٹ جائیں تو آپ ایسے ہاتھ کا اشارہ فرمایا کہ کھڑے رہو ہٹو نہیں کھڑےرہو تو وہ آگے مصلے پر آگے تو آپ تشریف لاے اور الٹے ہاتھ ابوبکر کے ساتھ بیٹھ کر آپ نے ظہر یا عصر کی چار رکعت نماز ابوبکر کی امامت میں ادافرمائ یہ آپ کی آخری نماز تھی مسجد کے اندر امت کے ساتھ اور تشریف لے کے #الھم_صلی_علی_محمد_وال_محمد #@For You