@qurantarjuma11: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، وہ بھلائی کی بات کرے یا خاموش رہے۔” یہ فرمان ہمیں زبان کی حفاظت اور اچھی گفتگو کی تعلیم دیتا ہے۔ انسان کے الفاظ دوسروں کے دل خوش بھی کر سکتے ہیں اور انہیں تکلیف بھی دے سکتے ہیں۔ اس لیے مسلمان کو سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہیے۔ بھلائی کی باتوں میں سچ بولنا، کسی کو اچھی نصیحت کرنا، سلام کرنا، دعا دینا، کسی کی حوصلہ افزائی کرنا اور مشکل وقت میں تسلی دینا شامل ہے۔ ایسے الفاظ لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا کرتے ہیں اور ماحول کو بہتر بناتے ہیں۔ اس کے برعکس جھوٹ بولنا، گالی دینا، کسی کا مذاق اڑانا، غیبت کرنا، لڑائی کی باتیں پھیلانا اور دوسروں کو نیچا دکھانا بہت بری عادتیں ہیں۔ اگر ہمیں کسی بات کا یقین نہ ہو، یا ہماری بات سے کسی کو تکلیف پہنچنے کا خطرہ ہو، تو خاموش رہنا بہتر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سکھایا کہ زبان ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ جو شخص اپنی زبان کو قابو میں رکھتا ہے، وہ بہت سی غلطیوں اور جھگڑوں سے بچ جاتا ہے۔ اس فرمان سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں ہمیشہ نرم، سچی اور فائدہ دینے والی بات کرنی چاہیے۔ اگر ہم اچھی بات نہیں کر سکتے تو خاموشی اختیار کرنا بھی نیکی ہے۔