@shahzada.choudary: ہمارے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ بیٹی کی پیدائش کے ساتھ ہی والدین کے ذہن میں جہیز کے بوجھ کا خیال پلنے لگتا ہے۔ سالہا سال کی کمائی، قرضے، زیورات، فرنیچر، گاڑیاں—سب کچھ اس دن کے لیے جمع کیا جاتا ہے جسے خوشی کا دن کہا جاتا ہے، مگر حقیقت میں وہ دن اکثر ایک معاشرتی دباؤ کی تکمیل بن کر رہ جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب واقعی بیٹی کی خوشی اور تحفظ کی ضمانت ہے؟ افسوس کی بات یہ ہے کہ لاکھوں روپے خرچ کر کے بھی والدین اپنی بیٹی کو وہ تحفظ نہیں دے پاتے جس کی اسے اصل میں ضرورت ہوتی ہے۔ اگر خدانخواستہ رشتہ ٹوٹ جائے، یا حالات خراب ہو جائیں، تو ماں باپ کا گھر بیٹی کے لیے عزت اور تحفظ کی ضمانت ہوتا ہے۔ اسے کسی کے در پر دھکے نہیں کھانے پڑتے، نہ ہی وہ معاشرے کے رحم و کرم پر رہتی ہے۔ عزت اس میں ہے کہ بیٹی کو خودمختار بنایا جائے، اسے سہارا دیا جائے، نہ کہ اسے رسموں کی زنجیروں میں جکڑ دیا جائے۔ آج وقت ہے کہ ہم اپنی ترجیحات بدلیں۔ بیٹی کو قیمتی سامان نہیں، مضبوط بنیاد دیں۔ جہیز کے نام پر دولت لٹانے کے بجائے اس کی زندگی کو محفوظ بنائیں۔ کیونکہ کل اگر حالات بدل جائیں، تو یہی فیصلہ اس کی زندگی بدل سکتا ہے۔۔۔💯🙇🏻♂️🖤#onthisday