@solow_visuals: 🎧 Song:[] NOT ALL GOODBYES ARE LOUD, SOME JUST WALK AWAY.🖤 📌Save this for the nights you can't explain. 📤Shareit with someone who'll understand this feeling. ✨Follow@solow_visuals for daily cinematic edits. ━━━━━━━━━━━━━━━ 🎬SOLO+WVISUALS 🌙 00:01AM #musicedit #cinematic #visuals #editing #fyp

solow_visuals
solow_visuals
Open In TikTok:
Region: IR
Thursday 09 July 2026 19:10:30 GMT
32547
4404
19
220

Music

Download

Comments

biti_r4
bitiiii🎀 :
عکس رو از کجا پیدا کردی؟
2026-07-11 07:37:31
7
sagede06
𝚂𝙰𝙶𝙴𝙳𝙴𝙷 :
هعی
2026-07-09 19:41:41
5
user183111923
Elina :
مامان من حالم بده!
2026-07-16 14:48:16
0
yu3avvea4
Ava. :
چقدر حق:)💔
2026-07-11 21:30:24
0
nameees5
batmany :
2026-07-10 16:46:18
8
arash021kill
arash021kill :
2026-07-10 22:17:22
2
diana.1388a
دُژَم. :
2026-07-09 19:29:47
6
romina13566
romina :
:)
2026-07-09 19:13:19
2
arni_kaaa
Arnika :
😁😁😁
2026-07-11 15:47:43
0
rim_rhythm
rim_rhythm :
🥀💔
2026-07-10 12:39:51
0
rahawko
raha :
🤝🤝
2026-07-14 10:21:26
0
To see more videos from user @solow_visuals, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

مختلف مہمات کے علاوہ سفر و حضر کے دوران بھی اکثر و بیشتر صحابہ کرام ؓ رسول اکرم ﷺ کے ساتھ قصواء پر سوار ہوئے۔   حجة الوداع کا سفر بھی آپﷺ نے قصواء پر کیا۔ روایات میں آتا ہے کہ 9 ذوالحجہ کو آپ ﷺ کے حکم پر قصواء پر کجاوہ کسا گیا اور آپ ﷺ بطن وادی میں تشریف لے گئے جہاں ایک لاکھ 24ہزار یا ایک لاکھ 44 ہزار صحابہ کرام کا مجمع تھا۔ آپ ﷺ نے وہاں ایک جامع خطبہ دیا، یہ خطبہ حجة الوداع کے نام سے معروف ہے۔ یہ مساواتِ انسانیت اور ذات پات کے خاتمے کا اولین چارٹر ہے۔  قصواءکو یہ شرف حاصل ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ اس کی پیٹھ پر بیٹھ کر یہ جامع خطبہ ارشاد فرمایا:  ”لوگو! میری بات سنو، میں نہیں جانتا کہ شاید اس سال کے بعد اس مقام پر میں تم سے کبھی مل سکوں۔ تمہارا خون اور تمہارا مال ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہے جس طرح تمہارے آج کے دن کی، رواں مہینے کی اور اس شہر کی حرمت ہے۔ سن لو! جاہلیت کی ہر چیز میرے پاؤں تلے روند دی گئی ۔  عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو کیونکہ تم نے انہیں اللہ کی امانت کے ساتھ لیا ہے اور اللہ کے کلمے کے ذریعہ حلال کیا ہے ۔  میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم نے اسے مضبوطی سے پکڑے رکھاتم اس کے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے، وہ ہے اللہ کی کتاب اور میری سنت۔  تم سے میرے بارے میں پوچھا جانے والا ہے تو تم لوگ کیا کہو گے۔ صحابہ نے کہا کہ ہم شہادت دیتے ہیں کہ آپ ﷺ نے تبلیغ کر دی، پیغام پہنچا دیا اور خیر خواہی کا حق ادا فرما دیا۔ یہ سن کر آپ ﷺ انگشتِ شہادت کو آسمان کی طرف اٹھایا اور لوگوں کی طرف جھکاتے ہوئے 3مرتبہ فرمایا:  اے اللہ گواہ رہ۔  واضح رہے کہ رسول اکرم ﷺ کے تمام خطبات میں یہ خطبہ جو حجة الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا گیا ، آپ ﷺ کا طویل ترین خطبہ ہے۔   ”خطبہ ارشاد فرمانے اور ظہر و عصر کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ ﷺ جائے وقوف پر تشریف لے گئے۔ قصواء کا شکم چٹانوں کی جانب کیا اور جبل مشاة کو سامنے کیا اور قبلہ رخ وقوف فرمایا یہاں تک کہ سورج غروب ہونے لگا۔اس کے بعد آپ ﷺ قصواء پر سوار ہوئے اور حضرت اسامہ بن زیدؓ کو پیچھے بٹھایا۔ وہاں سے مزدلفہ تشریف لے گئے۔“  رسول اکرم ﷺ کو قصواءاس قدر محبوب تھی کہ اسے دیگر اونٹنیوں کی طرح کھونٹے سے باندھ کر نہیں رکھا جاتا تھا بلکہ اسے کھلا چھوڑا جاتا تھا۔ قصواءکا دائمی مسکن جنت البقیع کے قریب ایک چراہ گاہ تھی۔ قصواءوہاں قرب وجوار کی جھاڑیوں سے چرتی تھی۔رسول اکرم ﷺ قصواء کو پیار سے کبھی ”جدعائ“ بھی کہہ کر بلاتے، کبھی ”قضبائ“ اور کبھی” عصباء“کہتے۔ گویا یہ سب قصواء کے نام ہیں۔قصواء کواونٹوں کے دوڑ کے مقابلوں میں بھی کبھی کبھار شریک کرایا جاتا تھا۔حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں:  ”جب کبھی قصواءکو اونٹوں کے مقابلوں میں شریک کروایا گیا تو قصواءدوڑ میں ہمیشہ بازی لے گئی۔“  حضرت سعید بن المسیبؓ کہتے ہیں:  ایک مرتبہ دوڑ کے مقابلے میں قصواءپیچھے رہ گئی اور دوسری اونٹنی اس پر سبقت لے گئی۔ اس پر مسلمانوں کو افسوس ہوا ۔ جب نبی کریم ﷺ کو معلوم ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا:  ”دنیا کی چیزوں میں جس چیز کو لوگ بہت زیادہ بلند مقام دینے لگتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ضرور اسے اس کے مقام سے گراتا ہے۔“  قصواء رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں11 سال تک رہی۔ آپ ﷺ کا ظاہری وصال جہاں تمام صحابہ کرام کےلئے عظیم صدمہ تھا وہاں قصواء کےلئے بھی حضور ﷺ کا وصال کسی بڑی مصیبت سے کم نہ تھا قصواء کو رسول اکرم ﷺ کی جدائی برداشت نہ ہو سکی۔ شدت غم کی وجہ سے خود اپنا بوجھ اٹھانے کے قابل نہ رہی۔ قصواء نے کھانا پینا ترک کر دیا۔ آنکھوں سے مسلسل آنسو بہتے رہتے تھے، یہاں تک صحابہ کرامؓ نے اس پر رحم کھاتے ہوئے اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی رسول اکرم ﷺ کی وصال کے بعد قصواء پر کوئی سوار نہ ہوا، پھر حضرت ابوبکر ؓ کی خلافت کا ایک سال بھی پورا نہیں ہوا کہ قصواء بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئی شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ ﷲ علیہ تاجدارِ مدینہ راحتِ قلب و سینہ احمدِ مصطفیٰ محمدِ مجتبیٰ ﷺ  کے ظاہری وصالِ مبارک کے بعد ہجرو فراق کی کیفیت کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظاہری وصال کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُونٹنی قصوا نے مرتے دم تک کچھ کھایا اور نہ پیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظاہری وصال کے بعد جو عجیب کیفیات رونما ہوئیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ جس دراز گوش (دلدل) پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری فرماتے تھے وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فراق میں اتنا مغموم ہوا کہ اس نے ایک کنویں میں چھلانگ لگا دی اور اپنی جاں جاں آفریں کے حوالے کر دی۔‘‘  عبدالحق محدث دهلوی، مدارج النبوه، 2 : 2444 حلبی، السيرة الحلبيه، 3 : 433 💞 اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ 💞 الصلوة والسلام عليک یا سیدی يارسول الله ﷺ وعلیٰ آلکـــــ واصحابکـــــ ياسیدی یا حبیب الله ﷺ
مختلف مہمات کے علاوہ سفر و حضر کے دوران بھی اکثر و بیشتر صحابہ کرام ؓ رسول اکرم ﷺ کے ساتھ قصواء پر سوار ہوئے۔ حجة الوداع کا سفر بھی آپﷺ نے قصواء پر کیا۔ روایات میں آتا ہے کہ 9 ذوالحجہ کو آپ ﷺ کے حکم پر قصواء پر کجاوہ کسا گیا اور آپ ﷺ بطن وادی میں تشریف لے گئے جہاں ایک لاکھ 24ہزار یا ایک لاکھ 44 ہزار صحابہ کرام کا مجمع تھا۔ آپ ﷺ نے وہاں ایک جامع خطبہ دیا، یہ خطبہ حجة الوداع کے نام سے معروف ہے۔ یہ مساواتِ انسانیت اور ذات پات کے خاتمے کا اولین چارٹر ہے۔ قصواءکو یہ شرف حاصل ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ اس کی پیٹھ پر بیٹھ کر یہ جامع خطبہ ارشاد فرمایا: ”لوگو! میری بات سنو، میں نہیں جانتا کہ شاید اس سال کے بعد اس مقام پر میں تم سے کبھی مل سکوں۔ تمہارا خون اور تمہارا مال ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہے جس طرح تمہارے آج کے دن کی، رواں مہینے کی اور اس شہر کی حرمت ہے۔ سن لو! جاہلیت کی ہر چیز میرے پاؤں تلے روند دی گئی ۔ عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو کیونکہ تم نے انہیں اللہ کی امانت کے ساتھ لیا ہے اور اللہ کے کلمے کے ذریعہ حلال کیا ہے ۔ میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم نے اسے مضبوطی سے پکڑے رکھاتم اس کے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے، وہ ہے اللہ کی کتاب اور میری سنت۔ تم سے میرے بارے میں پوچھا جانے والا ہے تو تم لوگ کیا کہو گے۔ صحابہ نے کہا کہ ہم شہادت دیتے ہیں کہ آپ ﷺ نے تبلیغ کر دی، پیغام پہنچا دیا اور خیر خواہی کا حق ادا فرما دیا۔ یہ سن کر آپ ﷺ انگشتِ شہادت کو آسمان کی طرف اٹھایا اور لوگوں کی طرف جھکاتے ہوئے 3مرتبہ فرمایا: اے اللہ گواہ رہ۔ واضح رہے کہ رسول اکرم ﷺ کے تمام خطبات میں یہ خطبہ جو حجة الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا گیا ، آپ ﷺ کا طویل ترین خطبہ ہے۔ ”خطبہ ارشاد فرمانے اور ظہر و عصر کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ ﷺ جائے وقوف پر تشریف لے گئے۔ قصواء کا شکم چٹانوں کی جانب کیا اور جبل مشاة کو سامنے کیا اور قبلہ رخ وقوف فرمایا یہاں تک کہ سورج غروب ہونے لگا۔اس کے بعد آپ ﷺ قصواء پر سوار ہوئے اور حضرت اسامہ بن زیدؓ کو پیچھے بٹھایا۔ وہاں سے مزدلفہ تشریف لے گئے۔“ رسول اکرم ﷺ کو قصواءاس قدر محبوب تھی کہ اسے دیگر اونٹنیوں کی طرح کھونٹے سے باندھ کر نہیں رکھا جاتا تھا بلکہ اسے کھلا چھوڑا جاتا تھا۔ قصواءکا دائمی مسکن جنت البقیع کے قریب ایک چراہ گاہ تھی۔ قصواءوہاں قرب وجوار کی جھاڑیوں سے چرتی تھی۔رسول اکرم ﷺ قصواء کو پیار سے کبھی ”جدعائ“ بھی کہہ کر بلاتے، کبھی ”قضبائ“ اور کبھی” عصباء“کہتے۔ گویا یہ سب قصواء کے نام ہیں۔قصواء کواونٹوں کے دوڑ کے مقابلوں میں بھی کبھی کبھار شریک کرایا جاتا تھا۔حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں: ”جب کبھی قصواءکو اونٹوں کے مقابلوں میں شریک کروایا گیا تو قصواءدوڑ میں ہمیشہ بازی لے گئی۔“ حضرت سعید بن المسیبؓ کہتے ہیں: ایک مرتبہ دوڑ کے مقابلے میں قصواءپیچھے رہ گئی اور دوسری اونٹنی اس پر سبقت لے گئی۔ اس پر مسلمانوں کو افسوس ہوا ۔ جب نبی کریم ﷺ کو معلوم ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”دنیا کی چیزوں میں جس چیز کو لوگ بہت زیادہ بلند مقام دینے لگتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ضرور اسے اس کے مقام سے گراتا ہے۔“ قصواء رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں11 سال تک رہی۔ آپ ﷺ کا ظاہری وصال جہاں تمام صحابہ کرام کےلئے عظیم صدمہ تھا وہاں قصواء کےلئے بھی حضور ﷺ کا وصال کسی بڑی مصیبت سے کم نہ تھا قصواء کو رسول اکرم ﷺ کی جدائی برداشت نہ ہو سکی۔ شدت غم کی وجہ سے خود اپنا بوجھ اٹھانے کے قابل نہ رہی۔ قصواء نے کھانا پینا ترک کر دیا۔ آنکھوں سے مسلسل آنسو بہتے رہتے تھے، یہاں تک صحابہ کرامؓ نے اس پر رحم کھاتے ہوئے اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی رسول اکرم ﷺ کی وصال کے بعد قصواء پر کوئی سوار نہ ہوا، پھر حضرت ابوبکر ؓ کی خلافت کا ایک سال بھی پورا نہیں ہوا کہ قصواء بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئی شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ ﷲ علیہ تاجدارِ مدینہ راحتِ قلب و سینہ احمدِ مصطفیٰ محمدِ مجتبیٰ ﷺ کے ظاہری وصالِ مبارک کے بعد ہجرو فراق کی کیفیت کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظاہری وصال کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُونٹنی قصوا نے مرتے دم تک کچھ کھایا اور نہ پیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظاہری وصال کے بعد جو عجیب کیفیات رونما ہوئیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ جس دراز گوش (دلدل) پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری فرماتے تھے وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فراق میں اتنا مغموم ہوا کہ اس نے ایک کنویں میں چھلانگ لگا دی اور اپنی جاں جاں آفریں کے حوالے کر دی۔‘‘ عبدالحق محدث دهلوی، مدارج النبوه، 2 : 2444 حلبی، السيرة الحلبيه، 3 : 433 💞 اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ 💞 الصلوة والسلام عليک یا سیدی يارسول الله ﷺ وعلیٰ آلکـــــ واصحابکـــــ ياسیدی یا حبیب الله ﷺ

About