@kusuma_lovers_007:

kusuma_lovers_007_official
kusuma_lovers_007_official
Open In TikTok:
Region: ID
Friday 10 July 2026 02:15:13 GMT
7703
494
84
84

Music

Download

Comments

istarjianto_faiz
BENGKEL RUMAH JOGJA :
yesssssss.....
2026-07-10 03:04:35
2
si3k74
🇦🇪 Annur '74 :
👍🏼👍🏼👍🏼👍🏼👍🏼👍🏼 toellll
2026-07-10 03:50:09
1
tunasharapancilacap
Tanaman cilacap :
betuuull banget mbak
2026-07-10 02:24:15
21
alfabet_abcde
abcde :
mantaap bunda
2026-07-10 02:58:42
21
zyaid.ali6
gak nanya sih😜 :
semangat mba atiku lega wis di wakilke
2026-07-10 04:03:00
15
mbah.kakung057
Mbah Kakung :
lanjut mbak bersuara mantap👍
2026-07-10 03:19:53
12
karyani400
Karyani :
betul sekalli bunda terus bersuara
2026-07-10 03:59:29
8
masdjon4
Masdjon :
terwakili
2026-07-10 03:58:07
4
amir_20027
Arman M :
lanjuut mba
2026-07-10 02:37:46
9
ld.trans
LD TRANS :
tul
2026-07-10 02:54:32
3
anaratnawati862
Ana Ratnawati862 :
Leres bun teruslah bersuara 👍👍👍
2026-07-10 02:54:39
7
tiktoku9157
tiktoku :
betul mbak
2026-07-10 03:55:21
1
hasnishop02
Hasnishop01 :
betul e mba cantik👍
2026-07-10 03:45:39
5
user61657184859
user61657184859 :
Marem atiku ,wes di wakili sama embak e
2026-07-10 06:27:00
1
langitbening7
langitbening :
wes entek2no bunda aq wakilkan semua unek2 saya😂💪💪💪
2026-07-10 03:35:17
3
kokok.koko985
Kokok Koko :
manteeep MB.e
2026-07-10 03:14:39
2
user1997450011871
user1997450011871 :
betul banget mba...
2026-07-10 02:43:27
3
father9626
father :
mantap mbak👍👍👍
2026-07-10 02:34:00
3
toplekcity
toplekcity :
kok iyo
2026-07-10 04:01:23
1
juwarti7727
Juwarti :
leres mba
2026-07-10 02:30:26
2
wasispintardi
wasis :
josss mbak
2026-07-10 03:51:49
1
user7505673071012
user7505673071012 :
betul mbak
2026-07-10 03:50:17
1
sulistyo1385
Sulistyo :
betuuuuul bun
2026-07-10 04:05:43
1
gauri.085
Mama suka :
bener mbk
2026-07-10 04:27:33
1
sam.shafina
sam shafina :
beneeeer bgt bu...
2026-07-10 04:00:30
1
To see more videos from user @kusuma_lovers_007, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ہزاروں اچھائیوں کی کوئی رسید نہیں ہوتی، مگر ایک غلطی کا پورا حساب رکھا جاتا ہے۔ زندگی کا شاید سب سے تلخ سبق یہی ہے کہ لوگ اکثر ہماری کامیابیوں، قربانیوں، محبتوں، وفاداریوں اور بے شمار اچھائیوں کو بھول جاتے ہیں، لیکن ایک چھوٹی سی غلطی برسوں تک ان کے ذہن میں زندہ رہتی ہے۔ انسان اپنی پوری زندگی دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا رہتا ہے، کسی کے دکھ میں ساتھ کھڑا ہوتا ہے، کسی کے آنسو پونچھتا ہے، کسی کی عزت بچاتا ہے، کسی کی خاموشی کو سمجھتا ہے، کسی کے لیے اپنی خواہشات قربان کرتا ہے، مگر یہ سب کچھ اکثر کسی رجسٹر میں درج نہیں ہوتا۔ جیسے ہی ایک قدم غلط پڑ جائے، ایک فیصلہ توقعات کے مطابق نہ ہو، یا ایک لفظ دل کو لگ جائے، تو وہی ایک لمحہ انسان کی پوری شخصیت پر بھاری کر دیا جاتا ہے۔ یہ دنیا اکثر انسان کو اس کی نیت سے نہیں بلکہ اس کی غلطیوں سے پہچانتی ہے۔ لوگ برسوں کی وفاداری بھول کر ایک لمحے کی لغزش کو یاد رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے اچھے لوگ خاموش ہو جاتے ہیں، کیونکہ انہیں احساس ہو جاتا ہے کہ یہاں ہر نیکی کا اعتراف نہیں ہوتا، لیکن ہر غلطی کا چرچا ضرور ہوتا ہے۔ یاد رکھیں، انسان کامل نہیں ہوتا۔ کامل صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ ہم سب سے غلطیاں ہوتی ہیں، کبھی لاعلمی میں، کبھی جلد بازی میں، کبھی جذبات میں، اور کبھی حالات کے دباؤ میں۔ لیکن کسی ایک غلطی کی بنیاد پر پورے انسان کا فیصلہ کر دینا انصاف نہیں۔ افسوس یہ ہے کہ معاشرے میں انصاف سے زیادہ فیصلے جذبات، انا اور مفاد کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ اگر آپ نے کبھی کسی کے لیے بے لوث محبت کی، اس کی عزت کی، اس کے مشکل وقت میں اس کا ہاتھ تھاما، اور پھر ایک دن وہی شخص آپ کی ایک غلطی کو بنیاد بنا کر آپ سے منہ موڑ گیا، تو یقین جانیں آپ اکیلے نہیں ہیں۔ دنیا میں بے شمار لوگ اس احساس سے گزرے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اچھا ہونا چھوڑ دیں۔ اچھائی کا صلہ ہمیشہ انسانوں سے نہیں ملتا، بعض اوقات اللہ تعالیٰ ایسے دروازے کھول دیتا ہے جن کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔ کبھی کبھی ہماری خاموشی کو غرور سمجھ لیا جاتا ہے، ہماری نرمی کو کمزوری، ہماری معافی کو مجبوری، اور ہماری وفاداری کو عادت۔ لیکن وقت گزرنے کے بعد لوگوں کو احساس ہوتا ہے کہ انہوں نے کس شخص کو کھو دیا۔ بدقسمتی سے اس وقت تک اکثر بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ اس دنیا میں اگر آپ ہر ایک کو خوش کرنے نکلیں گے تو خود کو کھو بیٹھیں گے۔ ہر شخص کی توقعات الگ ہیں، ہر کسی کی سوچ مختلف ہے، اور ہر کسی کا معیار جدا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اپنی نیت کو اللہ کے لیے خالص رکھیں۔ اگر آپ کی نیت صاف ہے، آپ کسی کا حق نہیں مار رہے، کسی کو جان بوجھ کر تکلیف نہیں دے رہے، تو لوگوں کی بے جا تنقید سے خود کو مت توڑیں۔ کامیاب لوگ بھی غلطیاں کرتے ہیں۔ عظیم انسان بھی غلطیاں کرتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہیں، ان میں بہتری لاتے ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں۔ جو لوگ صرف دوسروں کی غلطیاں گنتے رہتے ہیں، وہ اکثر اپنی اصلاح سے محروم رہ جاتے ہیں۔ زندگی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ دوسروں کی غلطیوں پر پردہ ڈالنا سیکھیں۔ جس طرح ہم چاہتے ہیں کہ ہماری لغزشوں کو معاف کیا جائے، اسی طرح دوسروں کو بھی معاف کرنا چاہیے۔ اگر معاشرے میں معافی، برداشت اور حسنِ ظن بڑھ جائے تو بہت سے رشتے ٹوٹنے سے بچ سکتے ہیں۔ اگر آج کوئی آپ کی ایک غلطی کی وجہ سے آپ سے دور ہو گیا ہے، تو دل چھوٹا نہ کریں۔ وقت سب سے بڑا گواہ ہے۔ وقت ہی لوگوں کو ان کی غلطیوں کا احساس دلاتا ہے اور وقت ہی سچ کو سامنے لے آتا ہے۔ آپ اپنا کردار اچھا رکھیں، اپنی زبان نرم رکھیں، اپنی نیت صاف رکھیں اور اپنی محنت جاری رکھیں۔ کیونکہ اصل حساب لوگوں کے پاس نہیں، اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ لوگ آپ کی ایک غلطی یاد رکھ سکتے ہیں، مگر اللہ تعالیٰ آپ کی ہر سچی توبہ، ہر آنسو، ہر نیکی، ہر دعا، ہر قربانی اور ہر صبر کو جانتا ہے۔ اس کے ہاں کوئی عمل ضائع نہیں ہوتا۔ اس لیے اپنی امید لوگوں سے نہیں بلکہ اللہ سے رکھیں۔ جب رب راضی ہو جائے تو لوگوں کی ناراضی بھی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ آخر میں بس اتنا یاد رکھیں کہ دوسروں کی رائے آپ کی حقیقت نہیں ہوتی۔ اپنی زندگی اس طرح گزاریں کہ آپ کا ضمیر مطمئن رہے اور اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو۔ اگر دنیا آپ کی ہزاروں اچھائیوں کو بھول بھی جائے تو غم نہ کریں، کیونکہ آسمان والا ایک بھی نیکی نہیں بھولتا۔ یہی یقین انسان کو مضبوط بناتا ہے، یہی ایمان اسے ہر آزمائش میں ثابت قدم رکھتا ہے، اور یہی امید اسے دوبارہ اٹھ کر چلنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دوسروں کی اچھائیاں دیکھنے والی نظر، غلطیوں کو معاف کرنے والا دل، اور ایسا کردار عطا فرمائے جو لوگوں کی تعریف کے لیے نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لیے ہو۔ آمین۔ #ubaidtypist70 #foryoupage
ہزاروں اچھائیوں کی کوئی رسید نہیں ہوتی، مگر ایک غلطی کا پورا حساب رکھا جاتا ہے۔ زندگی کا شاید سب سے تلخ سبق یہی ہے کہ لوگ اکثر ہماری کامیابیوں، قربانیوں، محبتوں، وفاداریوں اور بے شمار اچھائیوں کو بھول جاتے ہیں، لیکن ایک چھوٹی سی غلطی برسوں تک ان کے ذہن میں زندہ رہتی ہے۔ انسان اپنی پوری زندگی دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا رہتا ہے، کسی کے دکھ میں ساتھ کھڑا ہوتا ہے، کسی کے آنسو پونچھتا ہے، کسی کی عزت بچاتا ہے، کسی کی خاموشی کو سمجھتا ہے، کسی کے لیے اپنی خواہشات قربان کرتا ہے، مگر یہ سب کچھ اکثر کسی رجسٹر میں درج نہیں ہوتا۔ جیسے ہی ایک قدم غلط پڑ جائے، ایک فیصلہ توقعات کے مطابق نہ ہو، یا ایک لفظ دل کو لگ جائے، تو وہی ایک لمحہ انسان کی پوری شخصیت پر بھاری کر دیا جاتا ہے۔ یہ دنیا اکثر انسان کو اس کی نیت سے نہیں بلکہ اس کی غلطیوں سے پہچانتی ہے۔ لوگ برسوں کی وفاداری بھول کر ایک لمحے کی لغزش کو یاد رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے اچھے لوگ خاموش ہو جاتے ہیں، کیونکہ انہیں احساس ہو جاتا ہے کہ یہاں ہر نیکی کا اعتراف نہیں ہوتا، لیکن ہر غلطی کا چرچا ضرور ہوتا ہے۔ یاد رکھیں، انسان کامل نہیں ہوتا۔ کامل صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ ہم سب سے غلطیاں ہوتی ہیں، کبھی لاعلمی میں، کبھی جلد بازی میں، کبھی جذبات میں، اور کبھی حالات کے دباؤ میں۔ لیکن کسی ایک غلطی کی بنیاد پر پورے انسان کا فیصلہ کر دینا انصاف نہیں۔ افسوس یہ ہے کہ معاشرے میں انصاف سے زیادہ فیصلے جذبات، انا اور مفاد کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ اگر آپ نے کبھی کسی کے لیے بے لوث محبت کی، اس کی عزت کی، اس کے مشکل وقت میں اس کا ہاتھ تھاما، اور پھر ایک دن وہی شخص آپ کی ایک غلطی کو بنیاد بنا کر آپ سے منہ موڑ گیا، تو یقین جانیں آپ اکیلے نہیں ہیں۔ دنیا میں بے شمار لوگ اس احساس سے گزرے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اچھا ہونا چھوڑ دیں۔ اچھائی کا صلہ ہمیشہ انسانوں سے نہیں ملتا، بعض اوقات اللہ تعالیٰ ایسے دروازے کھول دیتا ہے جن کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔ کبھی کبھی ہماری خاموشی کو غرور سمجھ لیا جاتا ہے، ہماری نرمی کو کمزوری، ہماری معافی کو مجبوری، اور ہماری وفاداری کو عادت۔ لیکن وقت گزرنے کے بعد لوگوں کو احساس ہوتا ہے کہ انہوں نے کس شخص کو کھو دیا۔ بدقسمتی سے اس وقت تک اکثر بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ اس دنیا میں اگر آپ ہر ایک کو خوش کرنے نکلیں گے تو خود کو کھو بیٹھیں گے۔ ہر شخص کی توقعات الگ ہیں، ہر کسی کی سوچ مختلف ہے، اور ہر کسی کا معیار جدا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اپنی نیت کو اللہ کے لیے خالص رکھیں۔ اگر آپ کی نیت صاف ہے، آپ کسی کا حق نہیں مار رہے، کسی کو جان بوجھ کر تکلیف نہیں دے رہے، تو لوگوں کی بے جا تنقید سے خود کو مت توڑیں۔ کامیاب لوگ بھی غلطیاں کرتے ہیں۔ عظیم انسان بھی غلطیاں کرتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہیں، ان میں بہتری لاتے ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں۔ جو لوگ صرف دوسروں کی غلطیاں گنتے رہتے ہیں، وہ اکثر اپنی اصلاح سے محروم رہ جاتے ہیں۔ زندگی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ دوسروں کی غلطیوں پر پردہ ڈالنا سیکھیں۔ جس طرح ہم چاہتے ہیں کہ ہماری لغزشوں کو معاف کیا جائے، اسی طرح دوسروں کو بھی معاف کرنا چاہیے۔ اگر معاشرے میں معافی، برداشت اور حسنِ ظن بڑھ جائے تو بہت سے رشتے ٹوٹنے سے بچ سکتے ہیں۔ اگر آج کوئی آپ کی ایک غلطی کی وجہ سے آپ سے دور ہو گیا ہے، تو دل چھوٹا نہ کریں۔ وقت سب سے بڑا گواہ ہے۔ وقت ہی لوگوں کو ان کی غلطیوں کا احساس دلاتا ہے اور وقت ہی سچ کو سامنے لے آتا ہے۔ آپ اپنا کردار اچھا رکھیں، اپنی زبان نرم رکھیں، اپنی نیت صاف رکھیں اور اپنی محنت جاری رکھیں۔ کیونکہ اصل حساب لوگوں کے پاس نہیں، اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ لوگ آپ کی ایک غلطی یاد رکھ سکتے ہیں، مگر اللہ تعالیٰ آپ کی ہر سچی توبہ، ہر آنسو، ہر نیکی، ہر دعا، ہر قربانی اور ہر صبر کو جانتا ہے۔ اس کے ہاں کوئی عمل ضائع نہیں ہوتا۔ اس لیے اپنی امید لوگوں سے نہیں بلکہ اللہ سے رکھیں۔ جب رب راضی ہو جائے تو لوگوں کی ناراضی بھی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ آخر میں بس اتنا یاد رکھیں کہ دوسروں کی رائے آپ کی حقیقت نہیں ہوتی۔ اپنی زندگی اس طرح گزاریں کہ آپ کا ضمیر مطمئن رہے اور اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو۔ اگر دنیا آپ کی ہزاروں اچھائیوں کو بھول بھی جائے تو غم نہ کریں، کیونکہ آسمان والا ایک بھی نیکی نہیں بھولتا۔ یہی یقین انسان کو مضبوط بناتا ہے، یہی ایمان اسے ہر آزمائش میں ثابت قدم رکھتا ہے، اور یہی امید اسے دوبارہ اٹھ کر چلنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دوسروں کی اچھائیاں دیکھنے والی نظر، غلطیوں کو معاف کرنے والا دل، اور ایسا کردار عطا فرمائے جو لوگوں کی تعریف کے لیے نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لیے ہو۔ آمین۔ #ubaidtypist70 #foryoupage

About