@princessofnature1: کبھی کبھی ہم اپنی زندگی میں خود ایسے فیصلے کر لیتے ہیں جن کا پچھتاوا ہماری روح کو کھا جاتا ہے۔ شاید میں نے بھی کوئی ایسی خطا کی تھی کوئی ایسا گناہ کیا تھا جس کا کفارہ ادا ہونا باقی تھا۔ ... اور پھر تم ملے محبت بن کر نہیں بلکہ میری غلطیوں کا حساب لینے کے لیے۔ تمہارا آنا کوئی اتفاق نہیں تھا تم میری ہی زندگی کے کسی پرانے گناہ کی وہ سزا تھے جو مجھے ٹوٹ کر ملنی تھی۔ میں نے تمہیں اپنا سکون سمجھا اور تم میری اذیت کا ذریعہ بن گئے۔ جب انسان خود کو گنہگار سمجھنے لگے تو وہ سزا پر بھی احتجاج نہیں کرتا بس خاموشی سے بکھر جاتا ہے۔ آج میرا یہ بکھرنا اس بات کی گواہی ہے کہ حساب برابر ہو چکا ہے۔ مگر دکھ اس بات کا ہے کہ سزا دینے کے لیے بھی قدرت نے اسی کو چنا جس سے ہم نے سب سے زیادہ محبت کی تھی۔