@fake_smiileee49: گھر اینٹوں سے نہیں، رویوں سے بنتے ہیں... بظاہر سب آباد تھا مگر، گھر کے اس شور نے مجھے اندر سے بالکل ویران کر دیا۔ کبھی یہی گھر میری پناہ تھا، جہاں لوٹ کر دل کو سکون ملا کرتا تھا۔ مگر آہستہ آہستہ دیواریں تو وہی رہیں، صرف لہجے بدل گئے... اور جب لہجے بدل جائیں تو گھر، گھر نہیں رہتا، صرف ایک مکان بن جاتا ہے۔ اب ہر کمرے میں لوگ تو موجود ہیں، مگر اپنائیت کہیں کھو چکی ہے۔ باتیں ہوتی ہیں، مگر محبت نہیں۔ رشتے قائم ہیں، مگر احساس مر چکے ہیں۔ ہر روز ہنستے چہروں کے درمیان بیٹھ کر بھی دل عجیب سی تنہائی محسوس کرتا ہے۔ سب کو لگتا ہے میں خاموش ہوں، مگر حقیقت یہ ہے کہ میں روز اندر ہی اندر ٹوٹتا ہوں۔ کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو جسم پر نہیں، روح پر لگتے ہیں... اور ان کا درد کسی کو دکھائی نہیں دیتا۔ کاش کسی کو یہ احساس ہو کہ بعض اوقات انسان باہر کی دنیا سے نہیں، اپنے ہی گھر کے بدلتے رویوں سے سب سے زیادہ ہار جاتا ہے۔ کیونکہ گھر اگر سکون نہ دے... تو دنیا کی کوئی جگہ پناہ نہیں بن سکتی۔ 🥀😔