@sar_jaf: #الشعراء_وذواقين_الشعر_الشعبي #اشعار #اكسبلور #ريبوست #foryou

🐈‍⬛
🐈‍⬛
Open In TikTok:
Region: DE
Friday 10 July 2026 12:41:50 GMT
34568
3404
3
129

Music

Download

Comments

user2498325506139
حسوني القياده🦅 :
💔💔💔
2026-07-10 13:31:50
2
g.rea4
R :
💔💔😔
2026-07-17 19:42:10
2
To see more videos from user @sar_jaf, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ایک فالور نے سوال پوچھا ہی کہ سورہ مائدہ آیت نمبر 22 میں مجھے سمجھ نہیں آئی کہ اس میں اللہ پاک نے دو آدمیوں کا ذکر کیا ہے جس میں ان دونوں کو جبابرین کی طرف بھیجا گیا ہے لیکن اس میں اللہ تعالیٰ نے جس انعام کی بات کی ہے وہ کیا ان دو آدمیوں کو ملنا تھا یا پھر حضرت موسیٰ اور ہارون علیہ السلام کو ملنا تھا۔ مجھے اس میں کنفیوژن ہے اگر آپ بتا دیں تو۔ میں نے ویسے تو اس کی تفسیر پڑھ لی لیکن سمجھ نہیں آئی۔ آپ کو اگر پتا ہے تو بتا دیں۔ ( again I copied whole question) آئیے اس کو دیکھتے ہیں  آپ کی کنفیوژن بالکل جائز ہے کیونکہ جب ہم تسلسل کے بغیر ترجمہ یا تفسیر پڑھتے ہیں تو اکثر یہ بات واضح نہیں ہو پاتی۔ آپ کی اس الجھن کو دور کرنے کے لیے قرآن پاک کی ان آیات کا پس منظر اور ترتیب سمجھنا ضروری ہے۔ اصل میں یہ پورا واقعہ آیت نمبر 20 سے لے کر 26 تک چلتا ہے ۔ آپ نے جس انعام (نعمت) اور جن دو آدمیوں کا ذکر کیا ہے، وہ آیت نمبر 22 میں نہیں، بلکہ اس کے آگے پیچھے کی آیات میں آتا ہے۔  آپ کی کنفیوژن کو دور کرنے کے لیے اہم نکات درج ذیل ہیں:  1۔ وہ دو آدمی کون تھے اور انہیں کہاں بھیجا گیا تھا؟ آیت نمبر 22 میں جب بنی اسرائیل نے ڈر کر شہر میں داخل ہونے سے انکار کر دیا ،تو اگلی ہی آیت یعنی آیت نمبر 23 میں اللہ پاک فرماتا ہے: قَالَ رَجُلَانِ مِنَ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمَا...
ایک فالور نے سوال پوچھا ہی کہ سورہ مائدہ آیت نمبر 22 میں مجھے سمجھ نہیں آئی کہ اس میں اللہ پاک نے دو آدمیوں کا ذکر کیا ہے جس میں ان دونوں کو جبابرین کی طرف بھیجا گیا ہے لیکن اس میں اللہ تعالیٰ نے جس انعام کی بات کی ہے وہ کیا ان دو آدمیوں کو ملنا تھا یا پھر حضرت موسیٰ اور ہارون علیہ السلام کو ملنا تھا۔ مجھے اس میں کنفیوژن ہے اگر آپ بتا دیں تو۔ میں نے ویسے تو اس کی تفسیر پڑھ لی لیکن سمجھ نہیں آئی۔ آپ کو اگر پتا ہے تو بتا دیں۔ ( again I copied whole question) آئیے اس کو دیکھتے ہیں آپ کی کنفیوژن بالکل جائز ہے کیونکہ جب ہم تسلسل کے بغیر ترجمہ یا تفسیر پڑھتے ہیں تو اکثر یہ بات واضح نہیں ہو پاتی۔ آپ کی اس الجھن کو دور کرنے کے لیے قرآن پاک کی ان آیات کا پس منظر اور ترتیب سمجھنا ضروری ہے۔ اصل میں یہ پورا واقعہ آیت نمبر 20 سے لے کر 26 تک چلتا ہے ۔ آپ نے جس انعام (نعمت) اور جن دو آدمیوں کا ذکر کیا ہے، وہ آیت نمبر 22 میں نہیں، بلکہ اس کے آگے پیچھے کی آیات میں آتا ہے۔ آپ کی کنفیوژن کو دور کرنے کے لیے اہم نکات درج ذیل ہیں: 1۔ وہ دو آدمی کون تھے اور انہیں کہاں بھیجا گیا تھا؟ آیت نمبر 22 میں جب بنی اسرائیل نے ڈر کر شہر میں داخل ہونے سے انکار کر دیا ،تو اگلی ہی آیت یعنی آیت نمبر 23 میں اللہ پاک فرماتا ہے: قَالَ رَجُلَانِ مِنَ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمَا... "ان ڈرنے والوں میں سے دو شخص بول اٹھے جن پر اللہ نے انعام فرمایا تھا..." یہ دو آدمی کون تھے؟ مفسرین (جیسے ابن عباسؓ) کے مطابق یہ دو آدمی حضرت یوشع بن نون علیہ السلام اور کالب بن یوفنا تھے انہیں کہاں بھیجا گیا تھا؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان دونوں سمیت اپنی قوم کے 12 سرداروں کو خفیہ طور پر اس شہر (ارضِ مقدسہ/فلسطین) کے حالات معلوم کرنے کے لیے بھیجا تھا جہاں وہ جبارین (طاقتور لوگ) رہتے تھے ۔ جب وہ واپس آئے تو باقی لوگ ڈر گئے، لیکن ان دو آدمیوں نے بہادری دکھا کر اپنی قوم کو حوصلہ دیا کہ "تم شہر کے دروازے میں داخل ہو جاؤ، تم ہی غالب آؤ گے" 2۔ ۔ اللہ پاک نے جس "انعام" کا ذکر کیا، وہ کس کے لیے تھا؟ آیت نمبر 23 میں جو لفظ آیا ہے "أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمَا" (اللہ نے ان دونوں پر انعام کیا تھا) اس سے مراد یقیناً وہ دو آدمی ہی ہیں۔ یہاں انعام سے مراد کوئی مادی چیز یا مال و دولت نہیں تھی، بلکہ ایمان، شجاعت (بہادری)، اللہ کا خوف اور حق پر قائم رہنے کی توفیق تھی جہاں پوری قوم بزدلی کا شکار ہو گئی، وہاں اللہ نے ان دو آدمیوں کو یہ خاص انعام اور توفیق دی کہ وہ حق بات پر ڈٹے رہے اور انہوں نے قوم کو جہاد کی ترغیب دی بعد میں اس انعام کا صلہ یہ ملا کہ جب وہ پوری نافرمان قوم 40 سال کے لیے صحرا میں بھٹکنے کی سزا کا شکار ہوئی ، تو یہ دو آدمی اس عذاب سے محفوظ رہے اور بعد میں حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کو اللہ نے نبوت سے بھی سرفراز فرمایا۔ 3۔ حضرت موسیٰ اور ہارون علیہم السلام کا معاملہ اس واقعے میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام تو اللہ کے جلیل القدر انبیاء تھے، ان کا مقام اور ان پر اللہ کے انعامات تو سب سے اعلیٰ تھے ہی لیکن آیت نمبر 23 میں جس مخصوص انعام یافتہ جوڑی کا ذکر ہے، وہ حضرت موسیٰ اور ہارون نہیں، بلکہ ان کے وہ دو مخلص صحابی (یوشع اور کالب) تھے جنہوں نے اپنی قوم کو سمجھانے کی کوشش کی تھی۔ حضرت موسیٰؑ اور ہارونؑ تو اللہ کے نبی تھے۔ نبوت، وحی، رسالت کا سب سے بڑا انعام تو ان کو پہلے ہی مل چکا تھا۔ یہاں جو "انعام/فتح" کا ذکر ہے وہ دنیا کی کامیابی ہے۔ وہ ان دونوں وفادار ساتھیوں کو ملی۔ مثال سے سمجھیں استاد کلاس سے کہے "بلیک بورڈ صاف کرو"۔ سارے بچے ڈر جائیں۔ لیکن 2 بچے کھڑے ہو کر صاف کر دیں۔ تو استاد شاباش ان 2 بچوں کو دے گا نا؟ استاد کو شاباش نہیں ملے گی۔ بالکل ایسے ہی یہاں اللہ نے ان 2 آدمیوں کی تعریف کی اور انعام کا وعدہ کیا۔ خلاصہ یہ ہے کہ: وہ دو آدمی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی تھے، انہیں جبارین کے شہر کی جاسوسی کے لیے بھیجا گیا تھا، اور آیت میں جس انعام کا ذکر ہے وہ انہی دو آدمیوں کو ملنے والی "ایمانی طاقت اور توفیق" کی شکل میں تھا۔ امید ہے آپ کو سمجھ آگیا ہوگا، کوئی سوال ہو تو آپ پوچھ سکتے ہیں ۔ #jihansikandar_23 #xyzabc #goviral #fypシ゚ #fyppppppppppppppppppppppp

About