@littlejen0_: di tinggal 😭😭#jisung

pan🌚
pan🌚
Open In TikTok:
Region: ID
Friday 10 July 2026 13:33:55 GMT
110064
38450
267
1783

Music

Download

Comments

manyuping9
Uping :
Jisung
2026-07-10 14:09:01
6893
ocyceah
ocyeeee :
ga berhenti ngakak liat konten ini pls 😭😭😭😭
2026-07-10 14:25:21
3159
rennniiyyy
ren :
bentar lagi nangis itu😭
2026-07-10 13:43:24
1666
itsjaniaa_
Jhycsn :
lucu bgt pas manggil "hyung" nya😭🤏
2026-07-10 14:47:35
1227
_aayie0
ayaa_ :
biarin aja sampe nangis, kalo udah nangis baru samperin pliss😚
2026-07-10 14:00:10
2263
cicie_sehun
cicie_sehun :
POV Jisung day1 tanpa Mark udh di kandang aja sama para Hyung 😭😭😭
2026-07-11 02:13:51
98
itissyours_202
chippaii_ :
ADEKK KASIAN BGT ITUU DITINGGAL ABANG
2026-07-10 13:40:05
462
_shella_02
_Shella_ :
cara dia manggil nya itu loh, lucu banget
2026-07-10 14:27:19
521
reona.renatta
RERE✧ :
"hyeong" ah adek lucu bgtt😖
2026-07-10 14:21:16
768
4tuna28
ikandilaut :
kOCYAK BGT ADEK 😭
2026-07-10 13:51:55
138
yok_piyanart
ทาสน้องเจย์🐈‍⬛ :
เอ็นดู5555555555555555555หนูเอ้ยยยยย5555555555
2026-07-11 03:09:33
12
jujuyeochin_
turtle🐢 :
"hyeong~~"😭😭
2026-07-10 17:27:27
80
screttciii
© :
kasihan tapi lucuu😭😭😭
2026-07-10 13:53:33
54
813na_jm
813na.jm :
HYUNGNYA PADA NAKAL😭
2026-07-10 14:42:56
30
mellmelll44
hai :
ga kuat bgt dari awal vidio udah dikagetin hantunya 😭
2026-07-10 13:52:21
53
_sirnaa
_sirnaa :
asliiii jisung , renjun di jahilinn mulu coba klo ga sm chenle pas ronde ke 2 mungkin dah nangis yg 2 tu 😭
2026-07-10 23:48:06
26
naraurr_
— Nara. L :
nonton dimana ini gys??
2026-07-10 14:08:35
85
zevanna24
zizi :
AWKWKWK PAS SCENE INI NGAKAKK BGT JIRR😭😭😭😭😭😭APALAGI PAS JENO ARAHIN CAM NYA KE JISUNG PAS MAU NINGGALINN JISUNG D LAPAS....
2026-07-10 14:49:23
16
milkyyteaaaaaaaaaa
Lalaaa’ :
KASIAN BANGETTT IHH😭😭😭
2026-07-10 13:43:46
8
yellowrnjunie
Renjun🦊 :
ADEKNYA DITINGGAL JIRR[happy]
2026-07-10 14:28:24
5
moyiiimoyiiii
Yem :
ngakak bgt tp kasian bgt adekkk😭😭😭🙏🏻🙏🏻🙏🏻
2026-07-11 03:49:26
2
To see more videos from user @littlejen0_, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

حضرت قثم بن عباس رضی اللہ عنہما واقعی ان عظیم اور خوش نصیب صحابہ میں شامل ہیں جنہیں پیارے آقا ﷺ کو غسل دینے اور آخری دیدار کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصالِ ملال اور غسلِ مبارک کا یہ واقعہ تاریخِ اسلام کا سب سے غم انگیز اور دلوں کو تڑپا دینے والا واقعہ ہے۔مدینہ منورہ کی فضاؤں پر اداسی کا گہرا سایہ تھا۔ وہ ہستی، جو کائنات کے لیے رحمت بن کر آئی تھی، اپنے رفیقِ اعلیٰ سے جا ملی تھی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر غم کا ایسا پہاڑ ٹوٹا تھا کہ عقلیں حیران اور دل شق ہو رہے تھے۔ ہر طرف ایک سکتہ تھا، اور آنسو تھے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔گھر کے اندر کا منظر اور غسل کی سعادتاہلِ بیتِ اطہار کے غیور اور وفادار افراد اس حجرہِ مبارکہ میں موجود تھے جہاں کائنات کے سب سے پاکیزہ وجود کو غسل دیا جانا تھا۔ اس عظیم، پروقار اور دل دوز گھڑی میں حضرت قثم بن عباس رضی اللہ عنہما بھی وہاں موجود تھے، جن کا دل غم سے چور تھا لیکن وہ اس عظیم ترین سعادت کے لیے خود کو سنبھالے ہوئے تھے۔غسل دینے کے لیے رسول اللہ ﷺ کے قریبی رشتہ دار جمع ہوئے:حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کے جسدِ اطہر کو اپنے سینے سے لگایا۔حضرت عباس اور ان کے بیٹے حضرت فضل رضی اللہ عنہما آپ ﷺ کی کروٹیں بدل رہے تھے۔حضرت قثم بن عباس اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم پانی ڈالنے کی خدمت سرانجام دے رہے تھے۔حضرت شقران (آپ ﷺ کے آزاد کردہ غلام) بھی اس مقدس خدمت میں شریک تھے۔غیبی آواز اور بے مثال پاکیزگیجب غسل کا وقت آیا، تو صحابہ کرام کے ذہن میں یہ سوال ابھرا کہ کیا آپ ﷺ کا لباسِ مبارک عام انسانوں کی طرح اتارا جائے؟ ابھی یہ بات چل ہی رہی تھی کہ حجرے میں موجود تمام نفوس پر ایک گہری نیند (اونگھ) طاری کر دی گئی، یہاں تک کہ ہر شخص کی ٹھوڑی اس کے سینے سے جا لگی۔اسی کیفیت میں غیب سے ایک انتہائی رقت آمیز اور گرجدار آواز گونجی:
حضرت قثم بن عباس رضی اللہ عنہما واقعی ان عظیم اور خوش نصیب صحابہ میں شامل ہیں جنہیں پیارے آقا ﷺ کو غسل دینے اور آخری دیدار کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصالِ ملال اور غسلِ مبارک کا یہ واقعہ تاریخِ اسلام کا سب سے غم انگیز اور دلوں کو تڑپا دینے والا واقعہ ہے۔مدینہ منورہ کی فضاؤں پر اداسی کا گہرا سایہ تھا۔ وہ ہستی، جو کائنات کے لیے رحمت بن کر آئی تھی، اپنے رفیقِ اعلیٰ سے جا ملی تھی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر غم کا ایسا پہاڑ ٹوٹا تھا کہ عقلیں حیران اور دل شق ہو رہے تھے۔ ہر طرف ایک سکتہ تھا، اور آنسو تھے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔گھر کے اندر کا منظر اور غسل کی سعادتاہلِ بیتِ اطہار کے غیور اور وفادار افراد اس حجرہِ مبارکہ میں موجود تھے جہاں کائنات کے سب سے پاکیزہ وجود کو غسل دیا جانا تھا۔ اس عظیم، پروقار اور دل دوز گھڑی میں حضرت قثم بن عباس رضی اللہ عنہما بھی وہاں موجود تھے، جن کا دل غم سے چور تھا لیکن وہ اس عظیم ترین سعادت کے لیے خود کو سنبھالے ہوئے تھے۔غسل دینے کے لیے رسول اللہ ﷺ کے قریبی رشتہ دار جمع ہوئے:حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کے جسدِ اطہر کو اپنے سینے سے لگایا۔حضرت عباس اور ان کے بیٹے حضرت فضل رضی اللہ عنہما آپ ﷺ کی کروٹیں بدل رہے تھے۔حضرت قثم بن عباس اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم پانی ڈالنے کی خدمت سرانجام دے رہے تھے۔حضرت شقران (آپ ﷺ کے آزاد کردہ غلام) بھی اس مقدس خدمت میں شریک تھے۔غیبی آواز اور بے مثال پاکیزگیجب غسل کا وقت آیا، تو صحابہ کرام کے ذہن میں یہ سوال ابھرا کہ کیا آپ ﷺ کا لباسِ مبارک عام انسانوں کی طرح اتارا جائے؟ ابھی یہ بات چل ہی رہی تھی کہ حجرے میں موجود تمام نفوس پر ایک گہری نیند (اونگھ) طاری کر دی گئی، یہاں تک کہ ہر شخص کی ٹھوڑی اس کے سینے سے جا لگی۔اسی کیفیت میں غیب سے ایک انتہائی رقت آمیز اور گرجدار آواز گونجی:"رسول اللہ ﷺ کو لباس سمیت غسل دو!"صحابہ کرام فوراً بیدار ہو گئے اور انہوں نے آپ ﷺ کی قمیض مبارک کو اتارے بغیر، اسی کے اوپر سے پانی بہانا شروع کر دیا اور قمیض کے اوپر سے ہی آپ کے جسمِ اطہر پر ہاتھ پھیرنے لگے۔حضرت علیؓ کے رقت آمیز کلماتحضرت علی رضی اللہ عنہ جب غسل دے رہے تھے، تو آپ ﷺ کے جسمِ اطہر سے ایسی بے مثال اور مسحور کن خوشبو پھوٹ رہی تھی جس نے پورے ماحول کو معطر کر دیا۔ حضرت علیؓ کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب رواں تھا اور وہ تڑپ کر پکار اٹھے:"میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ! آپ زندگی میں بھی پاکیزہ تھے اور وصال کے بعد بھی اتنے ہی پاکیزہ ہیں!"آپ ﷺ کے جسمِ اطہر سے عام انسانوں کی طرح کوئی آلائش نہیں نکلی، بلکہ ہر چیز معجزاتی طور پر پاک اور معطر تھی۔حضرت قثمؓ کا آخری دیدار اور قبرِ مبارک میں اترناجب غسل کا یہ رقت آمیز مرحلہ مکمل ہوا، تو پیارے آقا ﷺ کو تین سفید سوتی کپڑوں میں کفنایا گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب کائنات کا سب سے آخری اور حسرت بھرا دیدار کیا جا رہا تھا۔ حضرت قثم رضی اللہ عنہ نے روتے ہوئے، نم آلود آنکھوں کے ساتھ اپنے شفیق آقا، اپنے رہبر کا وہ آخری دیدار کیا جس کی چمک ان کی روح میں ہمیشہ کے لیے بس گئی۔صرف یہی نہیں، بلکہ جب آقا ﷺ کو لحدِ انور (قبرِ مبارک) میں اتارنے کا وقت آیا، تو حضرت قثم بن عباس رضی اللہ عنہما ان خوش نصیب ترین افراد میں شامل تھے جو قبرِ مبارک کے اندر اترے۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے کائنات کے سب سے محبوب وجود کو مٹی کے سپرد کیا۔روایات میں آتا ہے کہ قبرِ مبارک سے سب سے آخر میں نکلنے والے بھی حضرت قثمؓ (یا مغیرہ بن شعبہؓ) تھے، یعنی رسول اللہ ﷺ کے جسدِ اطہر کو چھونے اور دیکھنے والے وہ سب سے آخری انسان تھے۔ یہ ایک ایسا شرف اور ایسی سعادت تھی، جس پر دنیا کی تمام نعمتیں قربان کی جا سکتی ہیں۔

About