Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@titasama.clips: Por qué el CHUP4L4 es un insulto??? • twitch.tv/titasama • #titasama #titabruh #twitch #humor #ooc #opinion
TitaSama Clips
Open In TikTok:
Region: AR
Friday 10 July 2026 15:00:05 GMT
722
129
1
0
Music
Download
No Watermark .mp4 (
0.75MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
1.94MB
)
Watermark .mp4 (
2.03MB
)
Music .mp3
Comments
To see more videos from user @titasama.clips, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
হুম.! #bdtiktokofficial🇧🇩 #foryoupage #lyricsvideo #viralvideo #1m @TikTok @TikTok Bangladesh
#blackfathers #blackdad #blackdads #blackmen
تصویر میں ، بڈہ بیری زبیر" کے مشہور تاریخی کیس کا ذکر ہے۔ یہ پشاور کے علاقے بڈہ بیر سے تعلق رکھنے والے ایک پختون مجاہد کا واقعہ ہے۔ بڈہ بیر کے یہ غیرت مند پختون انگریز راج کے خلاف کھل کر بولتے تھے اور انگریزوں کے مقامی نمائندوں کے خلاف بھی ان کا موقف بہت سخت تھا۔ اسی وجہ سے برطانوی حکومت ان سے بہت تنگ تھی اور انہیں خاموش کرانے کے لیے ایک منصوبہ بنایا گیا۔ ایک طوائف کمار گلا ،کو آگے لایا گیا اور اس پر الزام لگایا گیا کہ زبیر نے اس کے ساتھ زنا بالجبر کیا ہے۔ 21 ستمبر 1935ء کو تھانہ بڈھ بیر میں FIR نمبر 34، علت نمبر 109 کے تحت مقدمہ درج ہوا۔ پھر 10 جنوری 1936ء کو عدالت نے زبیر کو ڈھائی سال قید اور 15 روپے جرمانے کی سزا سنائی، جبکہ کمار گلا کو صرف 15 روپے انعام نہیں دیا گیا بلکہ برطانوی تاج نے اسے آفیشل طوائف کا درجہ بھی دے دیا۔ انگریزوں کا خیال تھا کہ اس سے زبیر بدنام ہو جائے گا، لیکن ہوا اس کے برعکس۔ پختون قوم اس کے ساتھ کھڑی ہو گئی اور اس واقعے نے انگریزوں کے خلاف نفرت کو مزید بڑھا دیا۔ اسی کیس کے بعد پختونوں میں ایک محاورہ بہت مشہور ہوا ۔غم مہ بے دا بڈہ بیرے زبیر کوئی یعنی غم نہ کرو، بڈہ بیر کا زبیر ابھی زندہ ہے، جو ظلم کے سامنے ڈٹ جانے کی علامت بن گیا۔ اگر اس کی تاریخی حیثیت دیکھی جائے تو یہ کیس عوامی سطح پر ایک لوک تاریخ اور استعمار مخالف مزاحمت کی علامت کے طور پر زندہ ہے۔ اس کے نام سے 1935-1936 کا کوئی مصدقہ برطانوی سرکاری دستاویز یا عدالتی فیصلہ ڈیجیٹل آرکائیو میں ابھی تک نہیں ملا۔ ہو سکتا ہے وہ ریکارڈ پشاور ہائی کورٹ کے پرانے رجسٹر یا برطانیہ کی India Office Records میں بند فائلوں میں موجود ہو جو ابھی ڈیجیٹائز نہیں ہوئیں۔ لیکن بڈہ بیر، اور پشاور کے بزرگوں میں یہ واقعہ نسل در نسل سنا جاتا ہے اور کمار گلا کا نام اور 15 روپے کا ذکر اسی لوک روایت کا حصہ ہے۔ انگریز دور میں سرحدی علاقوں کے کئی مجاہدین پر زنا، چوری یا غداری کے جھوٹے مقدمے بنائے گئے تاکہ انہیں بدنام کر کے خاموش کرایا جائے، اس لیے یہ کہانی مقامی لوگوں کے اجتماعی حافظے میں سچ کے قریب محسوس ہوتی ہے۔
#xuhuong #trending #danhnguyenbanbandj
Can someone answer me 🤷🏽♂️ #africa #nigeria #christianity #islamic_media #truestory
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy