ہم حقوقُالعباد کے معاملے میں سب سے زیادہ غفلت کا شکار ہیں۔ ہمیں اکثر اس بات کی پروا ہی نہیں ہوتی کہ ہمارے الفاظ، ہمارے رویّے اور ہمارے اندازِ گفتگو کا دوسرے انسان کے دل پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔
اگر ہماری کسی بات سے کسی کا دل دکھ جائے تو ہم یہ کہہ کر خود کو بری الذمہ سمجھ لیتے ہیں کہ "اگر اسے برا لگا ہے تو یہ اس کا مسئلہ ہے، میرا نہیں۔" یا پھر معافی مانگنے کے بجائے صرف اتنا کہہ دیتے ہیں: "میرا وہ مطلب نہیں تھا۔"
حالانکہ اسلام ہمیں صرف اپنی نیت کا نہیں، بلکہ اپنے الفاظ، اپنے رویّے اور دوسروں کے حقوق کا بھی جواب دہ بناتا ہے۔ اگر ہماری زبان سے کسی کا دل ٹوٹ جائے تو صرف نیت کا اچھا ہونا کافی نہیں، بلکہ اس کی دلجوئی کرنا، اپنی غلطی تسلیم کرنا اور خلوصِ دل سے معافی مانگنا بھی حقوقُالعباد کا حصہ ہے۔
یاد رکھیے! بعض اوقات ایک تلخ جملہ برسوں تک کسی کے دل میں زخم بن کر رہ جاتا ہے، جبکہ ایک سچی معافی وہ زخم بھر بھی سکتی ہے۔
2026-07-10 19:03:25
0
Alikhan686 :
or woh saari batay humare logo me h
2026-07-10 23:09:47
0
Usman ♨️🇯🇴 :
❣️❣️❣️
2026-07-10 19:34:27
0
muhammad kashif :
🥰🥰🥰
2026-07-10 17:29:59
0
SARFRAZ DHILLON💫 :
🥰🥰🥰
2026-07-10 17:25:28
0
Usman ♨️🇯🇴 :
🥰🥰🥰
2026-07-10 19:34:30
0
To see more videos from user @urduzaat, please go to the Tikwm
homepage.