جی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بھائی جان میں نے جو بھی ہے سینڈ کی ہیں اس کو ایک بار لازمی پڑھیں اور خود فیصلہ کریں اور جو میں نے ضیا بھائی کے کمنٹ میں کی ہیں
2026-07-11 06:02:22
0
𝓩𝓪𝓲𝓫𝓲 :
Allah in sb ko hidayat dy Ameen
2026-07-11 08:12:37
3
Ziahabib795 :
یہ جاہلیت ہے بس۔اور کچھ نہیں۔۔۔۔
صرف یا اللّٰہ مدد 🤲🤲
2026-07-10 23:49:31
25
Mohammed Irfan :
مشکل کشا ایک خدا
2026-07-11 03:34:09
6
Mr Umar official :
جی عمر بھائی، الحمدللہ
چلیں اس حدیث *"صحیح مسلم 969"* کی تھوڑی مزید شرح کر لیتے ہیں:
*1. یہ حدیث کس موقع پر تھی؟*
حضرت علی رضی اللہ عنہ کو نبی ﷺ نے یمن بھیجا۔ وہاں جا کر آپ نے یہ 2 کام کیے:
1. *تصویروں کو مٹایا* - تاکہ شرک کا ذریعہ ختم ہو
2. *اونچی قبروں کو زمین کے برابر کیا* - تاکہ لوگ ان سے غلو نہ کریں
*2. علماء نے کیا فرمایا؟*
*ام نووی رحمہ اللہ* فرماتے ہیں:
"اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قبر کو ایک بالشت سے زیادہ اونچا کرنا مکروہ ہے۔ سنت یہ ہے کہ قبر زمین سے تھوڑی سی اونچی ہو تاکہ اس کی بے حرمتی نہ ہو اور پہچان بھی رہے"
*ام شافعی رحمہ اللہ* فرماتے ہیں:
"میں پسند کرتا ہوں کہ قبر کو نہ پختہ کیا جائے، نہ اس پر عمارت بنائی جائے"
*3. آج کل کا حکم:*
قبرستان میں صرف مٹی ڈال کر قبر کی نشاندہی کر دیں۔
کتبہ لگانا اگر صرف نام کے لیے ہو تو بعض علماء جائز کہتے ہیں، لیکن اس پر لکھائی، رنگ، گنبد بنانا منع ہے۔
*یاد رکھیں:*
قبر کی زیارت سنت ہے۔ زیارت کا مقصد *موت اور آخرت کی یاد* ہے۔ دعا کریں، عبرت لیں، لیکن قبر سے کچھ مانگیں نہیں۔
اللہ ہمیں بدعات سے بچائے اور سنت پر چلائے۔ آمین
کوئی اور سوال ہے عمر بھائی؟
2026-07-11 05:58:46
0
Mr Umar official :
جی عمر بھائی
آپ اس حدیث کے بارے میں پوچھ رہے ہیں جس میں *اونچی قبروں کو زمین کے برابر کرنے* کا حکم ہے۔
*وہ حدیث یہ ہے:*
*صحیح مسلم: 969*
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا:
*"أَلَا أَبْعَثُكَعَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُاللّهِ ﷺ؟ أَنْلَا تَدَعَتِمْثَالًا إِلّا طَمَسْتَهُ، وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إِلّا سَوّيْتَهُ"*
*ترجمہ:*
*"کیا میں تمہیں اس کام پر نہ بھیجوں جس پر رسول اللہ ﷺ نے مجھے بھیجا تھا؟ کہ کوئی تصویر نہ چھوڑو مگر مٹا دو، اور کوئی اونچی قبر نہ چھوڑو مگر اسے زمین کے برابر کر دو"*
*اس حدیث کی 2 باتیں:*
1. *کوئی اونچی قبر ہو* = اسے زمین کے برابر کر دو۔ صرف 1 بالشت کے قریب اونچی رکھنا جائز ہے تاکہ پہچان رہے۔
2. *کوئی مزار، گنبد، عمارت بنی ہو* = اسے گرا دو۔
*وجہ:*
تاکہ قبروں کی تعظیم غلو کی حد تک نہ پہنچے اور شرک کا دروازہ بند ہو جائے۔ نبی ﷺ نے خود اپنی قبر کو سادہ رکھنے کی وصیت فرمائی۔
صحابہ کرام اور تابعین کے زمانے میں بھی قبروں کو پختہ نہیں کیا جاتا تھا۔
اللہ ہمیں سنت پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین
کیا آپ چاہتے ہیں میں اس حدیث کی مزید شرع علماء کی رائے کے ساتھ بتاؤں؟
2026-07-11 05:58:30
0
mehak Fatima :
😁😁😁
2026-07-11 03:21:05
1
🌹Usama Mehar 🌹 :
❤️❤️❤️
2026-07-11 02:44:37
2
😈Bilal Bhatti😈🦅 :
💞💞💞
2026-07-11 04:12:58
1
✌️ Saqlain ✌️ :
🥰🥰🥰
2026-07-11 03:30:27
1
~_Dua Fatma_~┗→ :
😂😂😂😂
2026-07-11 03:15:59
1
Nawaz sharif :
❤️❤️❤️
2026-07-11 03:47:25
1
Ali Haidar :
🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰
2026-07-11 09:52:58
0
ranaAnas👑👑👑👀 :
🥰🥰🥰
2026-07-11 10:37:51
0
چوھدری علی گوجّر(صباح الدین) :
❤️❤️❤️
2026-07-11 10:55:17
0
user2294147031783 :
🥰🥰🥰
2026-07-11 10:45:21
0
Pome Imtiaz :
🌹🌹🌹
2026-07-11 09:00:57
0
RH😘RH🌷 :
🌹🌹🌹
2026-07-10 17:34:25
0
To see more videos from user @alikhokhar.804, please go to the Tikwm
homepage.