ہو دید کا جو شوق تو آنکھوں کو بند کر
ہے دیکھنا یہی کہ نہ دیکھا کرے کوئی
2026-07-10 18:12:51
7
S H A H B A Z :
اپنی آنکھوں میں خواب وصل تنہائی ندیم
اجنبی کوئی ہمارا تعبیر پسند بھی تھا
2026-07-10 18:01:50
6
S H A H B A Z :
یقتبس کے دم سے پتھر بولتا ہے
مے میں جاں ہو تو ساغر بولتا ہے
کہیں پرواز رکی ہے فضا میں
پرندے کا گرا پر بولتا ہے
مجھے گرداب یہ کل کہہ رہا تھا
تیرے اندر سمندر بولتا ہے
بے زبانی ہے تیرے محلوں میں
میرا ٹوٹا ہوا گھر بولتا ہے
چھپا مت مجھ سے داستان ہجر
تیری آنکھوں میں منظر بولتا ہے
ایسے آئی تیرے قدموں کی آہٹ
جیسے روٹھا مقدر بولتا ہے
دل تو کب کا چرا لیا تم نے
یہ کیا سینے کے اندر بولتا ہے
🌻یقتبس نامہ 🌻
2026-07-10 18:06:13
6
S H A H B A Z :
جینا مرنا رب دے ہتھ باقی سب دنیا دا کھیل
بلھیا رب دا جو رنگ وہ نہ بدلے کدے بھی میل
2026-07-10 18:51:29
6
S H A H B A Z :
روز کہتا تھا آج مرنا ہے میں
شرم آتی ہے میں مرا ہی نہیں
سب رہے غرق اپنے کاموں میں
میں بجز طنز کچھ کیا ہی نہیں
جانے کس کو رہی تلاش مری
میں بھی چھپتا رہا ملا ہی نہیں
ہر کوئی اجنبی تھا میرے لیے
دکھ کہ اپنا بھی میں ہوا ہی نہیں
سب نے کوشش تو کی بہت لیکن
بھاگ میں تو سدھرنا تھا ہی نہیں
کتنا مایوس ہوں کیا بتلاؤں
اب تباہی کو کچھ بچا ہی نہیں
اب کسے بھولے سے کریں ہم یاد
نہ میاں اب کوئی رہا ہی نہیں
اِس جہاں میں خطا سے بھیجا گیا
مگر کیونکر مجھے پتا ہی نہیں
ٹل گئی آس کی بلا جب سے
تب یہ جانا کوئی مرا ہی نہیں
🌻یقتبس نامہ 🌻
2026-07-10 18:42:19
7
S H A H B A Z :
چشمِ بد دور حضور پیارے دن ہی چڑھا دیا سرکار آدھی رات میں آپ
2026-07-10 17:52:28
7
S H A H B A Z :
میں تیری جھیل سی آنکھوں میں ڈوبنا چاہتا ہوں
مجھے نہ روکو میں اسی سمندر میں اترنا چاہتا ہوں
نہیں ہے پیار یہ کہہ کر مُکھ موڑ لیا ہم سے
میں تو تیرے پیار میں جینا مرنا چاہتا ہوں
میں تیری زلفوں میں الجھنے کی خاطر جاناں
دنیا سے ساری اُلجھنا چاہتا ہوں
نہ سمیٹے کوئی آکر ریزہ ریزہ دل کو
میں اسی روگ میں خود ہی بکھرنا چاہتا ہوں
آؤ آکر مجھے اپنے غم سے آزاد کر دو
میں اب تیرے عشق میں سنورنا چاہتا ہوں
🌻یقتبس نامہ 🌻
2026-07-10 18:53:44
6
S H A H B A Z :
ڈوبنا ہی پڑتا ہے اُبھرنے سے پہلے
غروب ہونے کا مطلب زوال نہیں ہوتا
مشکل جو آے ہر آسانی سے پہلے
غم بھی جو آے شادمانی سے پہلے
پیدا نہیں ہوتا کوی سیکھا سکھایا
اٹکتی زباں ہے روانی سے پہلے
ناداں سکھا گیا ہے تجربہ جو مجھ کو
عقل آگی ہے نادانی سے پہلے
وقت کی ہے ترتیب وقت ہی بتاے
بڑھاپا نہ آے جوانی سے پہلے
لکھ سب دیا زد قلم کر دیا ہے
ہم پہ جو بیتا کہانی سے پہلے
🌻یقتبس نامہ 🌻
2026-07-10 19:05:03
8
S H A H B A Z :
زُلْفِ شَب گُوں کا نشہ رِنْد کو بھولا کب تھا
نام لے لے کہ پکاریں تو یہ اچھا کب تھا
تُم ہمیں چاہو گے یہ بھی بھلا سوچا کب تھا
اور پھر تم کو بھی چاہیں یہ ارادہ کب تھا
رشکِ مقتل ! میں اس اِحْساس سے مر جاتا ہوں
تو نے دیکھا تھا فقط جان سے مارا کب تھا
طُورسے اٹھتا تو بھنبھور چلا آتا وہ
سرمیں موسیٰ کے ترے پیار کا سَودا کب تھا
تُم جب آتے ہو نئی بزم سجا لیتی ہو یقتبس
میرا مرنا تو عبادت تھی تماشہ کب تھا
🌻یقتبس نامہ 🌻