@triniverse.aep: <> ||IB:@martluta <> #fyp #goviral #aftereffets #treandingsounds #edit #triniverse #fypage #ae #theboys✓ #nigeria #nigeriatiktok🇳🇬🇳🇬🇳🇬naija #blowthisup #editingnews ・ Upload Method → @editingnews.com

Tʀɪɴɪx✞
Tʀɪɴɪx✞
Open In TikTok:
Region: JP
Friday 10 July 2026 21:08:29 GMT
1823
577
16
30

Music

Download

Comments

osmondblinks
OSMOND :
Ayyyyy I love everything
2026-07-11 09:04:19
1
he_is_clinton0
『🇳🇬』CLINTON 『🤬』 :
been trying to edit with this sound 😪💔
2026-07-11 10:33:24
0
justclifford0
it's all sad... :
bro create new account this account is shadowbanned
2026-07-10 21:32:01
1
peakvfx0
Peakvfx :
I've engaged wher is my pocket tots
2026-07-10 22:15:33
0
sexy.diva3
Dîva🥹❤️ :
I thought you said u weren't going to use the sound 😂😂
2026-07-11 08:53:40
0
001oracle
ØRΩÇL€–₱RÏM£™🇳🇬🦅 :
3rd mentor in editing ❤️❤️
2026-07-11 01:50:43
0
sizzy650
Sizzy😉 :
omo bro u rock🔥
2026-07-11 09:07:25
0
star_fire_1
STAR_FIRE 🔥🔥🔥 :
Edit meee please🙏🙏🙏🙏
2026-07-10 21:36:52
0
iam_cruzycee0
†CruzƴCeé🖤🦇 :
😁😁😁
2026-07-10 21:23:00
1
amarachi0961
Jessica🩷🫦 :
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥
2026-07-10 22:17:39
0
.vibe.withvicky
VickyPaul💋 :
🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰
2026-07-11 08:53:59
0
To see more videos from user @triniverse.aep, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

میں عبدالرشید صاحب ایڈوکیٹ کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اپنا قیمتی وقت نکال کر اپنے یوٹیوب چینل ساڈا دیش پنجاب میں میرے والد صاحب حاجی عبدالرشید ملک کی ویڈیو بنا کر لگائی۔ یہ سچی کہانی 1947 سے پہلے کی ہے، جب ہمارے بزرگوں نے اسلام کی خاطر اپنا گھر بار، کاروبار، چاندی کے سکوں سے بھری بوریاں، جانور، پراپرٹی اور قیمتی سامان سب کچھ اسلام کی خاطر ہجرت کی اپنے دیس پاکستان کی خاطر۔ یہ کہانی انڈیا کے گاؤں جس کا نام تھا رام پور بلروں تحصیل گڑھ شنکر ضلع ہوشیار پور انڈیا کی ہے۔  یہ کہانی ہے خوشی محمد عرف خیوا جن کا پہلا بیٹا نبی بخش اور نبی بخش کا ایک ہی بیٹا تھا خیر دین۔ خیر دین کے تین بیٹے، ملک محمد شفیع، ملک محمد اشرف، اور ملک محمد دین اور تین بیٹیاں تھیں۔ دوسرا بیٹا میرے دادا جی ملک عبدالعلی، عرف چھجو خان تھے۔ جن کے تین بیٹے، میرے تایا ملک محمد حنیف  ننکانہ صاحب، میرے ابو حاجی  عبدالرشید ملک اور میرے چچا ملک بشیر احمد تھے۔ میرے دادا کی دو بیٹیاں تھیں یعنی میری دو پھوپیاں تھی۔ دوسری بیوی سے چوہدری محکم دین اور ایک بیٹی تھی۔ جن کےپانچ بیٹے شاہد، زاہد، عابد، پرویز اور جاوید تھے اور دو بیٹیاں تھیں۔ چوہدری محکم دین انسپیکٹر تھے پنجاب پولیس جھنگ شہر میں۔ نیک آدمی تھے۔ کبھی رشوت نہیں لی۔ ایمانداری سے نوکری کی۔ میرے دادا جی کی بھی دو شادیاں تھی پہلی بیوی سے کوئی اولاد نہ تھی عبدالعلی عرف چھجو خان جن کے بڑے بیٹے ملک محمد حنیف تھے جن کے بیٹے صابر جعفر پرویز شاہد اصف یاسر تھے اور ان کی چار بہنیں تھی دوسرے بیٹے یعنی میرے والد حاجی عبدالرشید کے دو بیٹے ملک محمد شہباز رشید اور ملک عبدالوہاب اور چھ بہنیں تھیں اور چچا ملک بشیر احمد کے بیٹے بابر صفدر سرفراز افتخار عبداللہ وقاص وہ تین بیٹیاں تھیں بڑی پھوپوں کے بیٹے ملک محمد اسلم ملک محمد اکرم ایک بیٹی تھی دوسری پھوپوں کے تین بیٹے دو بیٹیاں تھی محمود الحسن مقصود الحسن ملک فیاض تھے ان کی کی دو بہنیں تھیں ملک اسلم کے بیٹے ملک طاہر، ملک زاہد حسین ایڈوکیٹ، ملک شاہد  حسین ایس ڈی او واپڈا تھے، ملک راشد اور ملک شمائل تھے اور تین بیٹیاں تھیں۔ خوشی محمد عرف خیوا  کی میرے پردادا جن کا بہت بڑا خاندان ہزاروں افراد پر مشتمل ہوگیا۔ میرے دادا جی عبدالعلی  ایک با روب کاروباری شخصیت تھے۔ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ اسلام کی خاطر ہجرت کی اپنا کاروبار اور چاندی کے سکوں سے بھری بوریاں، اپنا گھر دکانیں، گودام، جانور، بہت ساری پراپرٹی چھوڑی، ایک مسجد کی تعمیر کی جو چار کنال پر محیط تھی لیکن کبھی بھی گورنمنٹ سے کوئی کلیم نہیں کیا بہت سادہ طبیعت کے مالک تھے جب پاکستان آئے تو بہت فاقے برداشت کیے۔ اجناس کا بہت بڑا کاروبار تھا, جسکا نقصان برداشت نہ کر سکے ذہنی مریض ہو گئے۔ اس وقت میرے والد حاجی عبدالرشید ملک کی عمر صرف نو سال تھی میرے والد نے نو سال کی عمر سے ہی کام کرنا شروع کر دیا۔ میرے والد شروع شروع میں میرے دادا جی کے ساتھ سائیکل پر فروٹ وغیرہ بیچ بیچ کر گزارا کرتے اور جلد ہی گھر میں میرے دادا جی کو بٹھا دیا، اور خود محنت کرنے لگے۔ یہ  تعلق رکھتے تھے۔ یہ تقریبا سات نسلوں کی کہانی ہے جو ہزاروں افرا ہر افراد پر مشتمل ہیں۔ یہ لوگ سب سے پہلے لاہور پھر ننکانہ صاحب اور پھر فیصل آباد میں آکر آباد ہوئے۔ دادا جی کی دعاؤں سے والد صاحب نے بہت محنت کی اور بہت بڑی کاروباری شخصیت بن گئے۔
میں عبدالرشید صاحب ایڈوکیٹ کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اپنا قیمتی وقت نکال کر اپنے یوٹیوب چینل ساڈا دیش پنجاب میں میرے والد صاحب حاجی عبدالرشید ملک کی ویڈیو بنا کر لگائی۔ یہ سچی کہانی 1947 سے پہلے کی ہے، جب ہمارے بزرگوں نے اسلام کی خاطر اپنا گھر بار، کاروبار، چاندی کے سکوں سے بھری بوریاں، جانور، پراپرٹی اور قیمتی سامان سب کچھ اسلام کی خاطر ہجرت کی اپنے دیس پاکستان کی خاطر۔ یہ کہانی انڈیا کے گاؤں جس کا نام تھا رام پور بلروں تحصیل گڑھ شنکر ضلع ہوشیار پور انڈیا کی ہے۔ یہ کہانی ہے خوشی محمد عرف خیوا جن کا پہلا بیٹا نبی بخش اور نبی بخش کا ایک ہی بیٹا تھا خیر دین۔ خیر دین کے تین بیٹے، ملک محمد شفیع، ملک محمد اشرف، اور ملک محمد دین اور تین بیٹیاں تھیں۔ دوسرا بیٹا میرے دادا جی ملک عبدالعلی، عرف چھجو خان تھے۔ جن کے تین بیٹے، میرے تایا ملک محمد حنیف ننکانہ صاحب، میرے ابو حاجی عبدالرشید ملک اور میرے چچا ملک بشیر احمد تھے۔ میرے دادا کی دو بیٹیاں تھیں یعنی میری دو پھوپیاں تھی۔ دوسری بیوی سے چوہدری محکم دین اور ایک بیٹی تھی۔ جن کےپانچ بیٹے شاہد، زاہد، عابد، پرویز اور جاوید تھے اور دو بیٹیاں تھیں۔ چوہدری محکم دین انسپیکٹر تھے پنجاب پولیس جھنگ شہر میں۔ نیک آدمی تھے۔ کبھی رشوت نہیں لی۔ ایمانداری سے نوکری کی۔ میرے دادا جی کی بھی دو شادیاں تھی پہلی بیوی سے کوئی اولاد نہ تھی عبدالعلی عرف چھجو خان جن کے بڑے بیٹے ملک محمد حنیف تھے جن کے بیٹے صابر جعفر پرویز شاہد اصف یاسر تھے اور ان کی چار بہنیں تھی دوسرے بیٹے یعنی میرے والد حاجی عبدالرشید کے دو بیٹے ملک محمد شہباز رشید اور ملک عبدالوہاب اور چھ بہنیں تھیں اور چچا ملک بشیر احمد کے بیٹے بابر صفدر سرفراز افتخار عبداللہ وقاص وہ تین بیٹیاں تھیں بڑی پھوپوں کے بیٹے ملک محمد اسلم ملک محمد اکرم ایک بیٹی تھی دوسری پھوپوں کے تین بیٹے دو بیٹیاں تھی محمود الحسن مقصود الحسن ملک فیاض تھے ان کی کی دو بہنیں تھیں ملک اسلم کے بیٹے ملک طاہر، ملک زاہد حسین ایڈوکیٹ، ملک شاہد حسین ایس ڈی او واپڈا تھے، ملک راشد اور ملک شمائل تھے اور تین بیٹیاں تھیں۔ خوشی محمد عرف خیوا کی میرے پردادا جن کا بہت بڑا خاندان ہزاروں افراد پر مشتمل ہوگیا۔ میرے دادا جی عبدالعلی ایک با روب کاروباری شخصیت تھے۔ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ اسلام کی خاطر ہجرت کی اپنا کاروبار اور چاندی کے سکوں سے بھری بوریاں، اپنا گھر دکانیں، گودام، جانور، بہت ساری پراپرٹی چھوڑی، ایک مسجد کی تعمیر کی جو چار کنال پر محیط تھی لیکن کبھی بھی گورنمنٹ سے کوئی کلیم نہیں کیا بہت سادہ طبیعت کے مالک تھے جب پاکستان آئے تو بہت فاقے برداشت کیے۔ اجناس کا بہت بڑا کاروبار تھا, جسکا نقصان برداشت نہ کر سکے ذہنی مریض ہو گئے۔ اس وقت میرے والد حاجی عبدالرشید ملک کی عمر صرف نو سال تھی میرے والد نے نو سال کی عمر سے ہی کام کرنا شروع کر دیا۔ میرے والد شروع شروع میں میرے دادا جی کے ساتھ سائیکل پر فروٹ وغیرہ بیچ بیچ کر گزارا کرتے اور جلد ہی گھر میں میرے دادا جی کو بٹھا دیا، اور خود محنت کرنے لگے۔ یہ تعلق رکھتے تھے۔ یہ تقریبا سات نسلوں کی کہانی ہے جو ہزاروں افرا ہر افراد پر مشتمل ہیں۔ یہ لوگ سب سے پہلے لاہور پھر ننکانہ صاحب اور پھر فیصل آباد میں آکر آباد ہوئے۔ دادا جی کی دعاؤں سے والد صاحب نے بہت محنت کی اور بہت بڑی کاروباری شخصیت بن گئے۔

About