@omeirmahmood: اسلامی علماء اس وقت کرپٹو کرنسی کے بارے میں مختلف آراء رکھتے ہیں۔ بعض ممتاز علماء، جیسے مفتی محمد تقی عثمانی، نے فتویٰ دیا ہے کہ کرپٹو کرنسی کی خرید و فروخت، ٹوکنز اور اسٹیبل کوائنز میں سرمایہ کاری ناجائز (حرام) ہے، کیونکہ ان کے نزدیک ان میں ذاتی (Intrinsic) قدر موجود نہیں اور یہ اسلامی اصولوں کے مطابق معتبر مال یا جائیداد کی تعریف پر پورا نہیں اترتیں۔ دوسری جانب، بعض شریعہ بورڈز اور اسلامی مالیاتی ماہرین کی رائے ہے کہ اگر کرپٹو کرنسی کو ایک ڈیجیٹل اثاثہ (Digital Asset) کے طور پر رکھا جائے اور اس کی خرید و فروخت صرف اسپاٹ ٹریڈنگ (Spot Trading) کی صورت میں ہو، جس میں سود (ربا)، قرض پر مبنی لین دین یا دیگر غیر شرعی عناصر شامل نہ ہوں، تو اسے جائز (حلال) قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان کے نزدیک ایسی صورت میں کرپٹو کرنسی کا حکم عام فیاٹ کرنسی (جیسے روپے یا ڈالر) یا دیگر قابلِ تجارت اثاثوں کے مشابہ ہو سکتا ہے- News #foryoupage #pakitancryptocurrency #omeirpakistani #fatwa #fyp