@mahiwxss: богиня 🩷🌸 scp:annkssk #muhteşemyüzyıl #махидеврансултан #fyp #рек #mahidevransultan

mahiwxss
mahiwxss
Open In TikTok:
Region: MD
Saturday 11 July 2026 09:00:27 GMT
2027
239
30
95

Music

Download

Comments

hatice_sultn
София🧚‍♀️ :
МОЯШКА
2026-07-11 18:29:26
3
hurremixs
𝐇𝐔𝐑𝐑𝐄𝐌𝐈𝐗𝐒 :
Отвечайте, лайкайте этот ком, я хочу это вспоминать 😍
2026-07-12 18:46:39
7
bibikovaaxs
𝓑𝓲𝓫𝓲𝓴𝓸𝓿𝓪𝔁𝓼𝓼 :
шикарная Махидевран🙏
2026-07-14 10:07:24
4
tanyushka531
🩷Tanyusha🩷 :
прекрасно 😍
2026-07-11 09:22:20
3
hurksi
𝗛𝗨𝗥𝗞𝗦𝗜 :
Махидевран>>>
2026-07-11 09:20:36
4
hatice_sultn
София🧚‍♀️ :
тудааа
2026-07-11 18:29:19
3
s4toshi17
сатоши❤‍🩹 :
❤️❤️❤️
2026-07-12 04:19:11
2
korona_hurrem
корона Хюррем :
кто хочет к нам во флуд по ВВ и ввик можете даже стать админом или монтажёром
2026-07-14 09:52:04
0
To see more videos from user @mahiwxss, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

POST
POST"127/#viralpoetry🥀🥺 ✨️✨️✨️✨️⚘️⚘️⚘️ #Mirzaabubakarwrites✍️ 🕊🕊🕊🕊⚘️⚘️⚘️ #deeplinespeotry🥀 #fyp✨️🙌 تیرے بدلنے کا دکھ نہیں ہے مجھے، میں تو اپنے یقین پر شرمندہ ہوں۔ تجھ کو پانے کی ضد میں اے ظالم، خود کو کھو کر بھی آج زندہ ہوں۔ ​💔 پہلا مصرعہ: "تیرے بدلنے کا دکھ نہیں ہے مجھے" ​اس مصرعے میں شاعر اپنے محبوب سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ مجھے اس بات کا کوئی افسوس یا گلہ نہیں ہے کہ تم بدل گئے ہو 😔۔ دنیا کا اصول ہے کہ لوگ بدل جاتے ہیں، وقت بدل جاتا ہے، اس لیے تمہاری بے وفائی یا تمہارا بدل جانا میرے لیے اتنی بڑی بات نہیں ہے۔ ​🤦‍♂️ دوسرا مصرعہ: "میں تو اپنے یقین پر شرمندہ ہوں" ​اصل درد اس مصرعے میں چھپا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ مجھے دکھ تمہارے بدلنے کا نہیں، بلکہ خود پر غصہ اور شرمندگی ہے 🤦‍♂️۔ میں اس بات پر شرمندہ ہوں کہ میں نے تم پر اتنا اندھا یقین کیوں کیا؟ میں سمجھتا تھا کہ تم باقی سب جیسے نہیں ہو، لیکن میرا وہ یقین، میرا وہ بھروسہ ٹوٹ گیا، اور اب مجھے اپنی ہی سادگی پر شرمندگی ہو رہی ہے۔ ​🥀 تیسرا مصرعہ: "تجھ کو پانے کی ضد میں اے ظالم" ​یہاں شاعر اپنی اس نادانی اور جنون کا ذکر کر رہا ہے جہاں انسان کسی کو پانے کے لیے ضد پر اڑ جاتا ہے 💔۔ محبوب کو "ظالم" کہہ کر پکارا گیا ہے کیونکہ اس نے محبت کی قدر نہیں کی۔ شاعر کہتا ہے کہ میں نے تمہیں اپنی زندگی بنانے کی ایسی ضد پکڑ لی تھی کہ مجھے آگے پیچھے کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ ​🩹 چوتھا مصرعہ: "خود کو کھو کر بھی آج زندہ ہوں" ​اس آخری مصرعے میں ایک بہت گہرا تضاد (Irony) ہے 🥺۔ شاعر کہتا ہے کہ تمہاری محبت کی ضد میں، میں نے اپنی عزتِ نفس، اپنی خوشیاں، اور اپنی ذات تک کو داؤ پر لگا دیا (خود کو کھو دیا)۔ اب حالت یہ ہے کہ اندر سے سب کچھ ختم ہو چکا ہے، روح مر چکی ہے، لیکن پھر بھی یہ دنیاوی سانسیں چل رہی ہیں اور میں صرف دکھاوا کرنے کے لیے "آج زندہ ہوں"۔ ​📝 خلاصہ (Conclusion) 🎯 ​یہ شعر محبت میں ملنے والے دھوکے، اندھے یقین کے ٹوٹنے اور اس کے بعد پیدا ہونے والے پچھتاوے کی عکاسی کرتا ہے 🌧️۔ یہ بتاتا ہے کہ انسان جب کسی کی خاطر اپنی ذات کو مٹا دیتا ہے اور بدلے میں اسے صرف بے وفائی ملتی ہے، تو وہ اندر سے بالکل خالی ہو جاتا ہے 🥀۔ #TIKTOKPOETRY

About