@qureshidx5: کبھی گمان کبھی اعتبار بن کے رہا دیار چشم میں وہ انتظار بن کے رہا
ہزار خواب مری ملکیت میں شامل تھے میں تیرے عشق میں سرمایہ دارین کے رہا
تمام عمر اسے چاہنا نہ تھا ممکن! کبھی کبھی تو وہ اس دل پہ بار بن کے رہا
اس کے نام کروں میں تمام عہد خیال درون جاں جو مرے سوگوار بن کے رہا
اگر چہ شہر میں ممنوع تھی حملات خواب مگر یہ دل سبب انتشار بن کے رہا...!!!