@jim_yy00: اِنَا لِلّٰہِ وَاِنَآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ💔😭 چکوال شہر کا بائیس سالہ حیدر رضا پلمبری کا کام کرتا تھا۔ والد رکشہ چلاتے ہیں۔ حیدر کا ایک چھوٹا بھائی ہے اور پانچ بہنیں ہیں۔ والد کا ہاتھ بٹانے والا حیدر رضا جمعرات کو اپنے دوست محمد عمر عبداللہ کی بہن کی شادی میں شرکت کرنے کے لیے راولپنڈی گیا۔ جمعرات کی رات سوا آٹھ بجے کے لگ بھگ حیدر رضا، محمد عبداللہ عمر اور دو اور دوست حنان اور حماد راولپنڈی کے پرانے قلعہ میں درزی سے کپڑے لینے کے لیے نکلے۔ جب یہ دوست ڈھوک رتہ میں پولیس چوکی کے پاس پہنچے تو وہاں موڑ پر ٹریفک جام تھی۔ حیدر رضا اور محمد حنان ایک موٹر سائیکل پر تھے جبکہ محمد عمر عبداللہ اور حماد دوسرے موٹر سائیکل پر تھے۔ ٹریفک رش کی وجہ سے حیدر رضا کی موٹر سائیکل ایک آلٹو کار سے ذرا سی ٹکرا گئی۔ کار ایک بیس بائیس سالہ نوجوان چلا رہا تھا جس کی شناخت علی آفریدی کے نام سے ہوئی۔ لمبے بالوں والا یہ بگڑا امیر زادہ ہاتھ میں چاقو لیے گاڑی سے نیچے اترا اور حیدر رضا کے جسم میں چاقو گھونپ دیا۔ حیدر رضا کو چاقو کے دو مہلک زخم آئے۔ دوستوں نے چھڑانے کی کوشش کی کہ اس کوشش میں محمد عمر عبداللہ کو بھی زخم آ گیا۔ تھانہ رتہ امرال کے ایک پولیس افسر نے تھری اسٹارز میڈیا گروپ چکوال کو بتایا کہ حیدر رضا کو ڈسرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہ رستے میں ہی جانبحق ہو گیا۔ قاتل فرار ہو گیا اور ابھی تک پولیس گرفتار نہ کر سکی۔ ایک پولیس افسر کے مطابق قاتل کے باقی گھر والے بھی گھر کو تالہ لگا کر کہیں روپوش ہو گئے ہیں۔ ملزم بااثر خاندان سے تعلق رکھتا ہے جبکہ چکوال کا حیدر رضا ایک انتہائی غریب گھرانے کا چشم و چراغ تھا۔ یہ خاندان سر پاک کے نزدیک ایک بوسیدہ مکان میں رہتا ہے۔ جوان بیٹا جو دوست کی بہن کی شادی میں شرکت کرنے کے لیے گھر سے نکلا تھا، خون میں لت پت لاش کی صورت میں گھر واپس آیا جسے کل چکوال کے محلہ حسنین آباد کے قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ حیدر رضا کے گھر والوں پر جوان بیٹے کی موت کی صورت میں ایک قیامت تو ٹوٹی ہی ہے لیکن اس غریب خاندان کو اب راولپنڈی کے تھانہ رتہ امرال اور کچہری کے چکر بھی لگانے پڑیں گے۔ وکیل کو فیس، اور آنے جانے کا کرایہ الگ دینا پڑے گا۔ قاتل اور اس کے خاندان کی طرف سے دباؤ بھی سہنا پڑے گا۔ یہ غریب خاندان حیدر رضا کے خون کا انصاف کیسے لے سکے گا؟ حیدر رضا کی قاتل علی آفریدی سے کوئی زاتی دشمنی نہیں تھی۔ موٹر سائیکل اگر گاڑی سے ٹکرا گئی تھی تو یہ کون سا بڑا مسئلہ ہو گیا تھا؟ ہماری نوجوان نسل کو نہ روڈ سینس ہے، نہ برداشت ہے اور نہ ہی کوئی احساس۔ ایک بدقماش امیر زادہ چاقو لے کر گاڑی میں گھوم رہا ہے اور معمولی سی بات پر ایک گھر اجاڑ کر رکھ دیتا ہے۔ #Foryou #Foryoupage