@hebamohsen811:

🦂•𓆩𝐇𝐄𝐁𝐀╏𝐌𝐎𝐇𝐒𝐄𝐍•🦂
🦂•𓆩𝐇𝐄𝐁𝐀╏𝐌𝐎𝐇𝐒𝐄𝐍•🦂
Open In TikTok:
Region: EG
Saturday 11 July 2026 20:37:53 GMT
6255
444
24
7

Music

Download

Comments

emadmohamed7208
🇹🇷🔥Kanky ♕ڪانڪي* :
العشق♥♥
2026-07-11 20:39:24
0
r409679
𝐑𝐚𝐦𝐚𝐝𝐚𝐧 🎖️ :
جيت بدري صح😂😂😂
2026-07-11 20:41:31
0
karemahmed587
كريم الجهمى ⚖️ :
عسل 😂🥰
2026-07-11 20:41:56
0
skanderbenchalbbi
Sondes :
الحمدلله
2026-07-12 08:24:18
0
mustafa.alzoksh
Mustafa AlZOKSH :
يغتي قميله☺️♥️
2026-07-18 19:28:47
0
hananahmed77777
hanan7777777 :
😂😂😂😂😂😂😂😂😂
2026-07-11 22:39:35
0
ahmed.alkhawaja4
آحً 𝓪𝓱𝓶🫅𝓮𝓭 مًدٍ 🎭 :
🥰🥰🥰
2026-07-11 21:09:04
0
user8350396748844
الهو9اري ✌️✨ :
♥️♥️♥️
2026-07-12 00:21:33
0
mohamed.fathy9136
محمد ابو طه :
🌹🌹🌹
2026-07-11 22:51:24
0
abdullah.ahmed.rashid
Abdullah Ahmed Rashid :
🥰🥰🥰🥰
2026-07-11 21:20:05
0
user941718624
Ali Mohamed :
🥰🥰🥰
2026-07-12 04:34:45
0
user7650306320217
محمود نجاح احمد :
🥰
2026-07-11 20:41:21
0
heba1064
🥹♥H̶E̶B̶A̶ مصٍممہ :
🥰🥰
2026-07-24 11:33:42
0
To see more videos from user @hebamohsen811, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

#سننِ ترمذی کی روایت: حضرت انس بن مالك رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کو جب کوئی پریشانی یا سخت معاملہ پیش آتا تو آپ یہ دعا پڑھتے: «يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث...»، كما نقل في سنن ترمذي.حضرت فاطمہؓ کے لیے وصیت: آپ ﷺ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بھی یہ وظیفہ صبح و شام پڑھنے کی تلقین فرمائی تھی۔#يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِ#يَاَسْتَغيثُ أَصْلِحْ لِي شَأْنِيَ كُلَّهُ وَلاَ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ#یہ دعا صحیح حدیث میں سیدنا انس بن#یہلک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو فرمایا: (جو تاکیدی بات میں تمہیں اب کرنے لگا ہوں اسے سننے سے تمہیں کوئی چیز نہ روکے، یا اسے صبح و شام پڑھنے سے کوئی چیز مانع نہ ہو:   يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغيثُ أَصْلِحْ لِي شَأْنِيَ كُلَّهُ وَلاَ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ  ترجمہ: اے ہمیشہ سے زندہ ذات! اے ہر چیز کو قائم رکھنے والی ذات! میں تجھ سے تیری ہی رحمت کا واسطہ دے کر مدد طلب کرتا ہوں، میرے سارے معاملات سنوار دے، اور مجھے آنکھ جھپکنے کے برابر بھی میرے اپنے سپرد مت فرما۔) اس روایت کو امام نسائی رحمہ اللہ نے
#سننِ ترمذی کی روایت: حضرت انس بن مالك رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کو جب کوئی پریشانی یا سخت معاملہ پیش آتا تو آپ یہ دعا پڑھتے: «يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث...»، كما نقل في سنن ترمذي.حضرت فاطمہؓ کے لیے وصیت: آپ ﷺ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بھی یہ وظیفہ صبح و شام پڑھنے کی تلقین فرمائی تھی۔#يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِ#يَاَسْتَغيثُ أَصْلِحْ لِي شَأْنِيَ كُلَّهُ وَلاَ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ#یہ دعا صحیح حدیث میں سیدنا انس بن#یہلک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو فرمایا: (جو تاکیدی بات میں تمہیں اب کرنے لگا ہوں اسے سننے سے تمہیں کوئی چیز نہ روکے، یا اسے صبح و شام پڑھنے سے کوئی چیز مانع نہ ہو: يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغيثُ أَصْلِحْ لِي شَأْنِيَ كُلَّهُ وَلاَ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ ترجمہ: اے ہمیشہ سے زندہ ذات! اے ہر چیز کو قائم رکھنے والی ذات! میں تجھ سے تیری ہی رحمت کا واسطہ دے کر مدد طلب کرتا ہوں، میرے سارے معاملات سنوار دے، اور مجھے آنکھ جھپکنے کے برابر بھی میرے اپنے سپرد مت فرما۔) اس روایت کو امام نسائی رحمہ اللہ نے "السنن الكبرى" (6/147) ، اسی طرح "عمل اليوم والليلة" (46) میں اور امام حاکم نے "المستدرك" (1/730) میں جبکہ امام بیہقی نے اسے اپنی کتاب: "الأسماء والصفات" (112) میں بیان کیا ہے، ان کے علاوہ دیگر محدثین بھی اس دعا کو اپنی کتب حدیث میں بیان کر چکے ہیں۔ کچھ محدثین نے " صبح و شام اس کو پڑھیں" کے الفاظ سے روایت کیا ہے۔ علامہ منذری رحمہ اللہ "الترغيب والترهيب" (1/313) میں یہ دعا بیان کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے، جبکہ علامہ البانی رحمہ اللہ "السلسلة الصحيحة" (227) میں کہتے ہیں کہ: اس کی سند حسن ہے۔ نیز یہی دعا معمولی سے فرق کے ساتھ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: مصیبت زدہ شخص کی دعا یہ ہے: اَللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ یا اللہ! میری تیری رحمت کی امید رکھتا ہوں، اس لیے آنکھ جھپکنے کے برابر بھی مجھے اپنے آپ کے سپرد مت کرنا اور میرے سارے معاملات سنوار دے، تیرے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ہے۔ اس دعا کو امام احمد : (27898) ، اسی طرح ابو داود :(5090) نے اور علامہ البانی نے اسے صحيح الجامع (3388) میں حسن قرار دیا ہ

About