مجھے نہیں لگتا کہ دنیا میں کوئی ایسا شخص ہوگا جس نے تنہائی کے لمحوں میں اپنے محبوب کو یاد نہ کیا ہو۔ کیونکہ جب انسان اکیلا ہوتا ہے تو سب سے زیادہ یاد اُسی کی آتی ہے جس سے وہ دل کی گہرائیوں سے محبت کرتا ہے۔
پھر وہ اپنی یادوں کے دریچے کھولتا ہے، ساتھ گزارے ہوئے حسین لمحوں کو ایک ایک کر کے محسوس کرتا ہے، اُن باتوں پر مسکرا دیتا ہے جو کبھی اُس کی زندگی کا سب سے خوبصورت حصہ تھیں، اور اُن لمحوں کو سوچ کر اپنے دل کو کچھ دیر کے لیے سکون دینے کی کوشش کرتا ہے۔
کیونکہ خیالوں کی دنیا ہی ایک ایسی جگہ ہے جہاں نہ کوئی جدائی ہوتی ہے، نہ فاصلے، نہ وقت کی پابندی۔ وہاں صرف وہی ہوتا ہے جو دل چاہتا ہے۔ کبھی کبھی انسان اپنے خیالوں میں وہ سکون ڈھونڈ لیتا ہے جو حقیقت کی پوری دنیا بھی اُسے نہیں دے پاتی۔
اگر محبت سچی ہو تو تنہائی بھی محبوب کی یادوں سے آباد رہتی ہے۔ پھر خاموش راتیں، ادھورے خواب، اُس کی ہنسی، اُس کی آواز، اُس کی باتیں اور اُس کی مسکراہٹ ہر لمحہ دل کے آس پاس رہتی ہیں۔ وقت تو گزر جاتا ہے، مگر یادیں کبھی پرانی نہیں ہوتیں۔
اور آخر میں انسان بس یہی سوچتا رہ جاتا ہے کہ...
کاش کچھ لمحے ہمیشہ کے لیے ٹھہر جاتے، کاش کچھ لوگ کبھی بچھڑتے ہی نہ، اور کاش محبت کرنے والوں کی دعائیں وقت سے زیادہ طاقتور ہوتیں۔ مگر زندگی کا سب سے بڑا سچ یہی ہے کہ بعض لوگ قسمت میں ہمیشہ کے لیے نہیں، صرف خوبصورت یادیں بننے کے لیے آتے ہیں۔ پھر بھی سچی محبت کبھی ختم نہیں ہوتی، وہ صرف خاموش ہو کر دل کے کسی کونے میں ہمیشہ کے لیے رہ جاتی ہے۔