@general.knowledge453: *میں نے آدھی زندگی تنہائی میں گزار دی ہے۔ یہ وہم دور کر دو کہ میں تمہارے بغیر نہیں پا گا*
تنہائی ایک ایسا زخم ہے جو نظر نہیں آتا لیکن اندر تک چھلنی کر دیتا ہے۔ آدھی زندگی تنہائی میں گزارنے کا مطلب ہے ہر خوشی کو اکیلے سہنا، ہر غم کو اکیلے پی جانا، ہر رات اپنی ہی سوچوں کے ساتھ گزار دینا۔
شروع میں بہت مشکل لگتا ہے۔ دل چاہتا ہے کوئی ہو جو سمجھے، جو سنے، جو کندھا دے۔ لیکن جب بار بار امیدیں ٹوٹتی ہیں، جب اپنوں سے بھی بے وفائی ملتی ہے، تو انسان سیکھ جاتا ہے۔ وہ سیکھ جاتا ہے کہ اپنا درد خود سہنا ہے، اپنے آنسو خود پونچھنے ہیں، اور اپنی جنگ خود لڑنی ہے۔
اور پھر ایک دن ایسا آتا ہے کہ تنہائی عادت بن جاتی ہے۔ اکیلے چائے پینا، اکیلے سفر کرنا، اکیلے فیصلے کرنا۔ لوگ سمجھتے ہیں یہ کمزور ہے اس لیے اکیلا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ اب اتنا مضبوط ہو چکا ہے کہ اسے کسی سہارے کی ضرورت نہیں رہی۔
"تمہارے بغیر نہیں جی پاؤں گا" یہ جملہ اب کمزوری لگتا ہے۔ کیونکہ جس نے آدھی عمر خود سے گزار دی ہو، وہ جانتا ہے کہ جینے کے لیے کسی اور کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ضرورت ہوتی ہے تو بس خود پر یقین کی، اللہ کی ذات پر بھروسے کی۔
تنہائی نے بہت کچھ سکھایا۔ سکھایا کہ توقعات مت رکھو، سکھایا کہ ہر کوئی اپنا وقت پورا کر کے چلا جاتا ہے، سکھایا کہ اپنی قدر خود کرو۔
اس لیے اب اگر کوئی آئے تو خیر مقدم ہے، اور اگر جائے تو کوئی افسوس نہیں۔ کیونکہ میں نے وہ وقت دیکھ لیا ہے جب کوئی نہیں تھا۔ اور میں پھر بھی زندہ تھا۔
تنہائی نے مجھے توڑا ضرور تھا، لیکن ساتھ میں نکھار بھی دیا۔ اب میں اکیلا ضرور ہوں، مگر لاچار نہیں۔