@sachisochofficial01: مدینہ منورہ کی پاکیزہ اور خوبصورت تاریخ جہاں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے تقوے اور قربانیوں سے سجی ہے، وہیں اس مبارک معاشرے میں کچھ ایسے ایمان افروز لمحات بھی تھے جو دلوں کو موہ لیتے ہیں۔ صحابہ کرام میں ایک بہت ہی منفرد اور جلیل القدر انصاری صحابی تھے جن کا نام حضرت نعیمان بن عمرو رضی اللہ عنہ تھا، وہ غزوہِ بدر سمیت تمام بڑے معرکوں میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شان بشانہ شریک رہے، لیکن ان کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ وہ بہت زندہ دل اور خوش مزاج انسان تھے۔ وہ اکثر ایسی معصوم اور انوکھی شرارتیں کرتے تھے جنہیں دیکھ کر رحمتِ عالم، پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے چہرہِ انور پر خوبصورت مسکراہٹ آ جاتی تھی، اور خود آپ ﷺ ان کی اس معصومیت سے بہت پیار فرماتے تھے۔ تاریخ کی مستند کتابوں میں حضرت نعیمانؓ کا ایک ایسا ہی انوکھی شرارت کا واقعہ درج ہے جو انہوں نے براہِ راست پیارے نبی ﷺ کے ساتھ مدینہ منورہ کے بازار میں کیا تھا اور اس کا تذکرہ جب بھی ہوتا، سب کے چہروں پر مسکراہٹ آ جاتی۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ ایک دن مدینہ منورہ کے بازار میں باہر سے کوئی تاجر آیا جو بہت ہی عمدہ، تازہ اور بہترین قسم کا گھی اور شہد بیچ رہا تھا، حضرت نعیمانؓ بازار سے گزر رہے تھے تو ان کی نظر اس بہترین شہد پر پڑی۔ انہوں نے سوچا کہ یہ شہد تو اتنا لاجواب ہے کہ یہ صرف اور صرف کائنات کی سب سے عظیم ہستی، یعنی میرے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بارگاہ میں ہی پیش ہونا چاہیے، لیکن اس وقت حضرت نعیمانؓ کی جیب بالکل خالی تھی اور ان کے پاس پیسے نہیں تھے۔ انہوں نے اپنی مخصوص زندہ دلی کا استعمال کیا اور اس تاجر سے کہا کہ "تم یہ پورا شہد اور گھی اٹھاؤ اور میرے ساتھ چلو"، وہ تاجر کو ساتھ لے کر سیدھے رسول اللہ ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں پہنچ گئے اور عرض کیا کہ "یا رسول اللہ ﷺ! یہ میری طرف سے آپ کی خدمت میں ایک ادنیٰ سا تحفہ ہے، آپ اسے قبول فرمائیں"۔ آقا ﷺ اپنے اس سچے غلام کی محبت دیکھ کر بہت خوش ہوئے، انہوں نے تحفہ قبول فرما لیا اور شہد اندر گھر بھجوا دیا۔ اب جیسے ہی حضرت نعیمانؓ باہر آئے، تو وہ اس تاجر کو وہیں چھوڑ کر خود چپکے سے وہاں سے نکل گئے، تاجر کافی دیر تک باہر کھڑا رہا اور جب اسے کوئی پیسے دینے نہ آیا تو اس نے مزارِ اقدس کے باہر کھڑے ہو کر آواز لگانا شروع کر دی کہ "اے محمد (ﷺ)! اگر آپ نے شہد رکھ لیا ہے تو مہربانی کر کے اس کی قیمت تو ادا کر دیں کیونکہ مجھے واپس نکلنا ہے"۔ پیارے نبی ﷺ نے جب باہر تاجر کی یہ آواز سنی تو آپ ﷺ فوراً باہر تشریف لائے اور حیرت سے پوچھا کہ "کیا وہ شہد تحفہ نہیں تھا؟" تاجر نے کہا کہ "نہیں حضور! وہ شخص مجھے یہاں لایا تھا اور اس نے کہا تھا کہ قیمت آپ ادا کریں گے"۔ آقا ﷺ فوراً سمجھ گئے کہ یہ مدینہ کے اسی البیلے اور پیارے صحابی نعیمان کی کوئی معصوم شرارت ہے، آپ ﷺ نے مسکراتے ہوئے اپنے پاس سے تاجر کو شہد کی پوری قیمت ادا کر دی اور اسے رخصت کیا۔ اس کے بعد جب ایک دن رسول اللہ ﷺ کی ملاقات حضرت نعیمانؓ سے ہوئی، تو آپ ﷺ نے مسکرا کر ان سے پوچھا کہ "نعیمان! تم نے میرے ساتھ وہ کیا معاملہ کیا تھا کہ تحفہ کہہ کر شہد دیا اور قیمت مجھ سے ہی دلوائی؟" حضرت نعیمانؓ نے بڑے ہی معصومانہ اور پیارے انداز میں سر جھکا کر عرض کیا کہ "یا رسول اللہ ﷺ! خدا کی قسم، میری جیب میں ایک درہم بھی نہیں تھا، لیکن میرا دل تڑپ اٹھا کہ وہ بہترین شہد صرف آپ کے ہی تناول فرمانے کے لائق ہے اور میں اسے چھوڑ نہیں سکتا تھا، اس لیے میں نے سوچا کہ شہد آپ تک پہنچ جائے اور قیمت آپ خود ہی ادا فرما دیں گے"۔ حضرت نعیمانؓ کا یہ محبت بھرا اور انوکھا جواب سن کر رحمتِ عالم ﷺ کے چہرہِ انور پر ایک نایاب مسکراہٹ آ گئی اور آپ ﷺ نے ان کی اس محبت پر انہیں دعاؤں سے نوازا (یہ سچا واقعہ امام ابن عبدالبر کی کتاب 'الاستیعاب' اور دیگر مستند تاریخی کتابوں میں موجود ہے)۔ اگر اللہ کے نبی ﷺ کی اپنے اس البیلے صحابی کے ساتھ اس شفقت اور حضرت نعیمانؓ کے اس سچے اور خوبصورت واقعے نے آپ کے دل کو چھو لیا ہے، تو کمنٹ میں "سبحان اللہ" ضرور لکھیں! اس پیاری اور سچی اسلامی تاریخ کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے ابھی ویڈیو کو لائک اور اکاؤنٹ کو فالو کریں، تاکہ ایسی مزید نایاب اور ایمان افروز داستانیں آپ کو ملتی رہیں۔ #DeeniMalomat #SubhanAllah #QuranFacts #urduquotes #fyp @𝕊𝕠𝕦𝕝 𝕠𝕗 𝕋𝕚𝕝𝕒𝕨𝕒𝕥
کتنے خوش نصیب تھے صحابہ کرام دنیا میں ہی جنت کے مزے لے گئے
یااللہ ہم سب کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نقش قدم پر چلا
2026-07-14 01:10:44
1012
umarshah9435 :
کاش میں دور نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم میں اٹھایا جاتا
2026-07-14 05:30:28
265
ukasha mqyo :
جناب الفاظ کا چنائو ٹھیک کرو شرارت نہیں مزاح کا استعمال کرو
2026-07-14 02:06:42
203
Yaseen Kamal ummati :
حضرت نعمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ
2026-07-13 16:11:46
181
Ashair Awan :
Sub Han Allah🥹
2026-07-14 09:29:38
1
M Mashhood Awan :
Hazrat noim r.a🥰❤️❤️
2026-07-14 03:01:44
1
Samar Samarabas :
subhanAllsh
2026-07-14 14:55:52
1
مـعـاویـہ عـبـدالـرحـمٰـن :
صحابہ ہمارے بڑی شان والے ❤️
2026-07-14 04:20:33
34
sabir sahiv :
hayeee ❤
2026-07-14 06:54:37
1
AmAar Khan :
qurban jau HAZRAT HASSAN HAZRAT HUSSAIN RZ PAY
2026-07-14 07:18:04
34
Syedaummaarsaln :
کتنے خوش نصیب تھے صحابہ اکرام دنیا میں بھی سرکار صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی رفاقت اور جنت میں بھی سرکار صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی رفاقت نصیب ہو گئی
2026-07-14 02:59:42
17
Hina :
SubhanAllah
Me apny expressions blkl bhi express nhi kr pa rhi
kamal tha 🥺
2026-07-14 03:21:46
3
Muhammad Shaher Yar :
subhah
2026-07-14 01:44:27
4
SADA BAHAR :
کتنے خوش نصیب تھے صحابہ کرام دنیا میں ہی جنت کے مزے لے گئے
یااللہ ہم سب کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نقش قدم پر چلا
نعیمان بن عمرو رض اور حضرت عبداللہ یہ عہ دو صحابہ تھے جو کبھی کبھار حضور کیساتھ خوش طبعی کرتے اور سرکار تبسم فرمایا کرتے تھے
2026-07-14 07:38:17
6
Khan sab :
subhan AllAH
2026-07-13 16:29:37
6
ملک شیرافضل آہیر☠️ :
مدینہ منورہ کی پاکیزہ اور خوبصورت تاریخ جہاں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے تقوے اور قربانیوں سے سجی ہے، وہیں اس مبارک معاشرے میں کچھ ایسے ایمان افروز لمحات بھی تھے جو دلوں کو موہ لیتے ہیں۔ صحابہ کرام میں ایک بہت ہی منفرد اور جلیل القدر انصاری صحابی تھے جن کا نام حضرت نعیمان بن عمرو رضی اللہ عنہ تھا، وہ غزوہِ بدر سمیت تمام بڑے معرکوں میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شان بشانہ شریک رہے، لیکن ان کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ وہ بہت زندہ دل اور خوش مزاج انسان تھے۔ وہ اکثر ایسی معصوم اور انوکھی شرارتیں کرتے تھے جنہیں دیکھ کر رحمتِ عالم، پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے چہرہِ انور پر خوبصورت مسکراہٹ آ جاتی تھی، اور خود آپ ﷺ ان کی اس معصومیت سے بہت پیار فرماتے تھے۔ تاریخ کی مستند کتابوں میں حضرت نعیمانؓ کا ایک ایسا ہی انوکھی شرارت کا واقعہ درج ہے جو انہوں نے براہِ راست پیارے نبی ﷺ کے ساتھ مدینہ منورہ کے بازار میں کیا تھا اور اس کا تذکرہ جب بھی ہوتا، سب کے چہروں پر مسکراہٹ آ جاتی۔
واقعہ کچھ یوں ہے کہ ایک دن مدینہ منورہ کے بازار میں باہر سے کوئی تاجر آیا جو بہت ہی عمدہ، تازہ اور بہترین قسم کا گھی اور شہد بیچ رہا تھا، حضرت نعیمانؓ بازار سے گزر رہے تھے تو ان کی نظر اس بہترین شہد پر پڑی۔ انہوں نے سوچا کہ یہ شہد تو اتنا لاجواب ہے کہ یہ صرف اور صرف کائنات کی سب سے عظیم ہستی، یعنی میرے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بارگاہ میں ہی پیش ہونا چاہیے، لیکن اس وقت حضرت نعیمانؓ کی جیب بالکل خالی تھی اور ان کے پاس پیسے نہیں تھے۔ انہوں نے اپنی مخصوص زندہ دلی کا استعمال کیا اور اس تاجر سے کہا کہ "تم یہ پورا شہد اور گھی اٹھاؤ اور میرے ساتھ چلو"، وہ تاجر کو ساتھ لے کر سیدھے رسول اللہ ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں پہنچ گئے اور عرض کیا کہ "یا رسول اللہ ﷺ! یہ میری طرف سے آپ کی خدمت میں ایک ادنیٰ سا تحفہ ہے، آپ اسے قبول فرمائیں"۔ آقا ﷺ اپنے اس سچے غلام کی محبت دیکھ کر بہت خوش ہوئے، انہوں نے تحفہ قبول فرما لیا اور شہد اندر گھر بھجوا دیا۔
اب جیسے ہی حضرت نعیمانؓ باہر آئے، تو وہ اس تاجر کو وہیں چھوڑ کر خود چپکے سے وہاں سے نکل گئے، تاجر کافی دیر تک باہر کھڑا رہا اور جب اسے کوئی پیسے دینے نہ آیا تو اس نے مزارِ اقدس کے باہر کھڑے ہو کر آواز لگانا شروع کر دی کہ "اے محمد (ﷺ)! اگر آپ نے شہد رکھ لیا ہے تو مہربانی کر کے اس کی قیمت تو ادا کر دیں کیونکہ مجھے واپس نکلنا ہے"۔ پیارے نبی ﷺ نے جب باہر تاجر کی یہ آواز سنی تو آپ ﷺ فوراً باہر تشریف لائے اور حیرت سے پوچھا کہ "کیا وہ شہد تحفہ نہیں تھا؟" تاجر نے کہا کہ "نہیں حضور! وہ شخص م
2026-07-14 18:42:20
5
m awais qarni :
وہ ہیں پیا رے صحابی
حضرت نعیم
اور
حضرت عبد اللہ بن حذیفہ
رضی اللہ عنہم اجمعین
❤️❤️❤️🥰🥰🥰
2026-07-14 04:07:50
10
Useer :
subhanallh
2026-07-13 16:08:36
7
To see more videos from user @sachisochofficial01, please go to the Tikwm
homepage.