@newsview04: جوشی جو کہ ایک انڈین تھا کے ساتھ ملاقاتیں باقاعدہ وقفوں سے جاری رہیں۔ کسی منصوبے آخری شکل دی جارہی تھی۔ مصطفے پاکستان کی مسلح افواج میں چھپے نففوظ کو تلاش کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ غیر مطمین فوجی افسروں کا ایک گروپ اس سے رابطہ قائم کر چکا تھا۔ یہ جو نیئر افسر جنرل ضیاء سے ناخوش تھے اور سمجھتے تھے کہ فوج کا کوئی کام نہیں کہ ملکی سیاست میں دخل دیتی رہے ۔ ان کی نظر انتخاب مصطفے پر اس لیے پڑھی کہ ان کے خیال میں مصطفے دینگ آدمی تھا۔ جن اصلاحات کی کے نزدیک ملک کو ضرورت تھی انہیں مصطفے جیسا سیاست دان می نافظ کر سکتا تھا ۔ انہیں یقین تھا کہ مصطفے پنجاب کے عوام کو صف آرا کرنے اور تحریک میں حصہ لینے پر اکسانے میں کامیاب ہو جائے۔ نوجوان فوجی باغیوں نے محسوس کیا کہ جنرل اور اس کے حواری جنرلوں کو ٹھکانے لگانا پڑے گا۔ جمہوریت کو بحال کرنے کا اور کوئی طریقہ نہ تھا۔ عدالتیں بہت زیادہ اطاعت گزار ثابت ہوئی تھیں۔ اور عوام میں، جو جبرو تشدد کا نشانہ بنتے رہے تھے۔ اٹھ کھڑے ہونے کی سکت نہ تھی۔ نوجوان افسروں سے ابتدائی رابطے تھوڑے مذہب کے ساتھ قائم کیے گئے کہ دیکھیں تو سی ان کی نیت کیا ہے۔ طرفین پیترے بدل بدل کر ایک دوسرے کو آزماتے رہے۔ انہوں نے لندن میں ایک مشترکہ دوست کے فلیٹ پر ملاقات کی۔ مصطفے کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ وہ ہمیشہ سے یہ امید لاتے ہوئے تھا کہ ایک نہ ایک ان فوج کی زرہ بکتر میں کوئی رخنہ ڈھونڈ لگانے کی۔ اس نے فوج کے نوجوان افسروں سے خیر سگالی کے تصورات بنا کر رکھے تھے۔ اُسے یقین تھا کہ ان افسروں کے درمیان سے کوئی انقلابی قیادت ابھر کر سامنے آجائے گی۔ جنرل بددیانت تھے۔ نچلے درجے کے افسر سے سیاسی دشمن دوست پیشہ ور تھے۔ ان افسروں کی صورت میں انہیں اپنی امیدیں جاگتی نظر آ رہی تھیں۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے حوالہ: کتاب مینڈا سائیں۔ تہمینہ درانی( مصطفٰی کھر کی سابقہ بیوی) #foryou #pakistan #England #germany #TikTok