@humnewspakistan: مولانا صاحب۔ کس بات کا غصہ ہے؟ آپ نے پوری قوم کا دل دکھایا ہے ،خدا کی قسم شہادتوں کی بدولت پاکستان قائم ہے، ورنہ نہ مولانا آپ اسلام آباد میں اپنے گھر میں رہ سکتے ہیں، نہ میں اسلام آباد میں اپنے گھر میں رہ سکتا ہوں مولانا فضل الرحمان کا فوجی شہدا سے متعلق بیان !حنیف عباسی نے مولانا کوآڑے ہاتھوں لے لیا #HumNews #maulanafazalurrehman

HUM NEWS
HUM NEWS
Open In TikTok:
Region: PK
Tuesday 14 July 2026 08:55:40 GMT
175219
8592
743
232

Music

Download

Comments

zahrishawan
Zahrish Awan :
salary to lety hn gaze kha pe hoty hn ye be Bata do
2026-07-14 19:10:52
1
ibrahimfogi
Ibrahim :
مولانا کو اس بات کا عصا تھا کہ حکومت مجھے ھڈی نہیں ڈال رہی ہے
2026-07-14 09:41:55
53
bilal.khan75820
Bilal Khan :
میں بھی فوجی غازی ھوں مجھے دکھ ہوا ہم نے دن رات ایک کر کے قوم کے لئے خدمات انجام دے چکے ہیں
2026-07-14 11:25:33
40
faizarain09
MAHAR FAIZ ARAIN :
🌹🌹🌹🌹🌹Pakistan Army Zinda Bad🌹🌹🌹🌹🌹
2026-07-14 12:13:32
1
fahadrazzaq192
rAees Faحad IK :
salri na do ek month to pata chal jay gha 😄
2026-07-14 09:00:07
25
asad.abbasi824
Asad abbasi :
zabrdast Abbasi sahb
2026-07-14 14:45:34
1
user1429602256654
user1429602256654 :
قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب
2026-07-14 10:17:39
11
asif.khan38988
Asif Khan :
Pakistan Army zindabad ❤️❤️❤️❤️❤️❤️
2026-07-14 14:51:34
3
sahir.a.khan5
Sahir A Khan :
yeh mulk bhi mera yeh foaj bhi meri pak foaj zindabad
2026-07-14 15:01:11
5
mohsinrazanathoka
Mohsin Raza Nathoka :
Pakistan Army Zinda Bad
2026-07-14 10:08:35
4
abdul.rasheed6513
Abdul Rasheed :
مولانا نے بلکل سچ بولا
2026-07-14 16:02:33
15
syedhumaisshah125
SyedHumaisShah125 :
سیاست میں اختلافات اپنی جگہ، لیکن جو جوان اپنی جان کی بازی لگا کر وطن کی حفاظت کرتے ہیں، ان کی قربانی کو کسی نوکری یا تنخواہ سے تولنا انتہائی تکلیف دہ ہے۔ جب کوئی فوجی یا سیکیورٹی اہلکار بارڈر پر کھڑا ہوتا ہے یا دہشت گردی کے خلاف سینہ تانتا ہے، تو اس کے پیشِ نظر صرف وطن کی مٹی کا دفاع ہوتا ہے، کوئی دنیاوی لالچ یا مراعات نہیں۔ ان شہداء اور ان کے غیور خاندانوں کا احترام ہم سب پر فرض ہے۔ سیاست ضرور کریں، لیکن شہداء کے پاک لہو کو سیاست کی نذر نہ کریں۔ ہمارے شہداء ہمارا فخر ہیں اور ہمیشہ رہیں گے! 🇵🇰✊"
2026-07-14 09:36:39
6
khan...g666
🦋⍣⃝𝐊 𝐇 𝐀 𝐍🦋 :
bilkol tk Bola ha molna
2026-07-14 09:29:49
6
abdul.ahdi1
Abdul Ahdi :
مولانا صاحب نے بالکل ٹھیک فرمایا سیلری لیتے ہیں اسی چیز کی
2026-07-14 15:17:51
16
yasie85
Muhammad Yasir Eyesa :
good voice. pak foj hamesha zindabad🥰
2026-07-14 14:07:37
12
wahidrana885
Wahid Rana885 :
پاک فوج زندہ باد شہداء پاک فوج زندہ باد
2026-07-14 18:53:38
5
.sohail.khan983
😍 Sohail khan 😍 :
mulana sab ne tak bola ha
2026-07-14 09:01:01
10
ali.wally173
Ali wally :
تنخواہیں سب محکمے لیتے ہیں پر اپنی جگہ جان کوئی کوئی دیتا ہے
2026-07-14 11:48:35
5
muhammadismailsajawal
~《Muhammad Ismail sajawal》~ :
مولانا فضل الرحمٰن کے قصور میں کیے گئے خطاب کے ایک حصے پر خاصا شور مچایا جا رہا ہے، حالانکہ اگر پوری بات کو سیاق و سباق کے ساتھ سنا جائے تو ان کا مؤقف بالکل واضح ہے۔ مولانا نے یہ نہیں کہا کہ ملک کی حفاظت ضروری نہیں، بلکہ انہوں نے یہ کہا کہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہے۔ اسی مقصد کے لیے ریاست اپنے ادارے قائم کرتی ہے، انہیں اختیارات، وسائل، تنخواہیں اور مراعات دیتی ہے تاکہ وہ اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کریں۔ ان کا اعتراض اس سوچ پر تھا کہ اگر امن و امان کی ذمہ داری عوام کے کندھوں پر ڈال دی جائے اور لوگوں سے کہا جائے کہ وہ خود لشکر بنا کر مسلــح گروہوں سے لڑیں، تو اس کا نتیجہ معاشرے میں مزید انتشار اور خانہ جنگی کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ ایک مہذب اور آئینی ریاست میں قانون نافذ کرنا، دہشــت گردی کا مقابلہ کرنا اور عوام کی حفاظت کرنا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہوتی ہے، نہ کہ عام شہریوں کی۔ یہ تاثر بھی پھیلایا جا رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن نے شہــداء کی قربانیوں کا مذاق اڑایا یا ان کی توہین کی، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ مولانا کے خطاب میں کہیں بھی شہــداء کی قربانیوں کی نفی یا ان کی بے توقیری نہیں ملتی۔ ان کا مخاطب وہ پالیسی اور وہ سوچ تھی جو ریاست کی بنیادی ذمہ داری عوام کے کندھوں پر ڈالنے کی بات کرتی ہے۔ انہوں نے صرف یہ کہا کہ جو ادارے آئین کے مطابق ملک کے دفاع اور امن و امان کے لیے قائم کیے گئے ہیں، انہیں اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔ شہــداء ہمارے قومی ہیرو ہیں، ان کی قربانیاں پوری قوم کا سرمایہ ہیں، لیکن ان قربانیوں کا احترام اسی وقت مکمل ہوگا جب ان کے نام پر عام شہریوں کو مسلــح تصادم اور خانہ جنگی کی طرف دھکیلنے کے بجائے ریاست خود اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے۔ لہٰذا مولانا کے الفاظ کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کرنا نہ دیانت داری ہے اور نہ ہی اس سے حقیقت واضح ہوتی ہے۔ مولانا کا مؤقف یہ ہے کہ عوام کا فرض قانون کی پابندی کرنا، ریاست کے ساتھ تعاون کرنا اور ملکی استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہے، جبکہ ریاستی اداروں کا فرض اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ جب ہر ادارہ اپنے دائرہ اختیار میں کام کرے گا تو ملک مضبوط ہوگا اور عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔ اختلاف رائے ہر شخص کا حق ہے، لیکن کسی بھی بیان پر رائے قائم کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ اسے مکمل طور پر سنا اور سمجھا جائے۔ چند جملوں کو اٹھا کر اپنا مطلب نکالنا اور پھر تھرڈ کلاس چینلز اور صحافیوں کے ذریعے ٹرولنگ کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مولانا کا ہر ہر ل
2026-07-14 10:16:23
5
hayasaid72
Haya Said :
پاکستان ہمیشہ ذند باد انشاءاللہ ❤️🤲
2026-07-14 10:23:12
6
usernameshsha
user2924788341349 :
Pak armi zindabad
2026-07-14 15:37:19
4
qasim.bashir.khan
Qasim Bashir khan :
فام 47
2026-07-14 14:53:42
2
To see more videos from user @humnewspakistan, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos


About