@thanhhaoitlg: Trong giai đoạn hệ sinh thái InterLink đẩy mạnh phát triển dApps, các Đại sứ có thể đóng vai trò tích cực trong việc kết nối công nghệ với cộng đồng. Bằng cách chủ động tìm hiểu, trực tiếp trải nghiệm và đóng góp phản hồi, Đại sứ giúp ghi nhận những nhu cầu thực tế từ người dùng. Đồng thời, việc giới thiệu, hướng dẫn và hỗ trợ cộng đồng tiếp cận các dApps sẽ góp phần giúp ứng dụng được hiểu rõ và sử dụng thuận tiện hơn. Đại sứ không chỉ truyền tải thông tin mà còn có thể trở thành cầu nối giữa nhà phát triển và người dùng, cùng nhau xây dựng một hệ sinh thái InterLink ngày càng gắn kết, đa dạng và hoàn thiện. #InterLink #ITLG #ITL

Nguyễn Thanh Hào
Nguyễn Thanh Hào
Open In TikTok:
Region: VN
Tuesday 14 July 2026 09:29:18 GMT
94
0
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @thanhhaoitlg, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

**دشمن اگر مر رہا ہو تو اسے بچا لینا، لیکن اگر کوئی اپنا منافقت کرے تو اسے ہرگز دوسرا موقع مت دینا** انسان کی زندگی میں تعلقات، وفاداری اور دشمنی کے اصول بہت اہم ہوتے ہیں۔ مذکورہ بالا جملہ ایک گہرا اخلاقی، نفسیاتی اور حکمتِ عملی والا پیغام دیتا ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسانیت اور حکمت کے تقاضے الگ الگ ہو سکتے ہیں، اور دونوں کو الگ الگ مواقع پر نبھانا چاہیے۔  دشمن کے ساتھ انسانیت کا رویہ دشمن بھی انسان ہے۔ جب وہ مرنے کے قریب ہو، اسے بچانا دراصل انسانیت کی فتح ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب فاتحین نے زخمی دشمنوں کا علاج کروایا تو ان کے دل جیت لیے۔ اسلام میں بھی جنگ کے اصول بہت واضح ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے حتیٰ کہ جنگی حالات میں بھی عورتوں، بچوں اور زخمیوں پر رحم کرنے کی ہدایت فرمائی۔ دشمن کو بچانے سے کئی فائدے ہوتے ہیں: - یہ آپ کی اخلاقی برتری ثابت کرتا ہے۔ - مستقبل میں وہ دشمن آپ کا دوست بن سکتا ہے۔ - یہ معاشرے میں امن اور عفو و درگزر کی فضا پیدا کرتا ہے۔ یہ رویہ کمزوری نہیں، بلکہ طاقت کی نشانی ہے۔ جو شخص دشمن کے درد کو سمجھ کر اسے بچاتا ہے، وہ اللہ کی رحمت کا مستحق بھی بنتا ہے۔  اپنے کی خیانت — ناقابلِ معافی جرم دوسری طرف جملے کا دوسرا حصہ بہت سخت ہے:
**دشمن اگر مر رہا ہو تو اسے بچا لینا، لیکن اگر کوئی اپنا منافقت کرے تو اسے ہرگز دوسرا موقع مت دینا** انسان کی زندگی میں تعلقات، وفاداری اور دشمنی کے اصول بہت اہم ہوتے ہیں۔ مذکورہ بالا جملہ ایک گہرا اخلاقی، نفسیاتی اور حکمتِ عملی والا پیغام دیتا ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسانیت اور حکمت کے تقاضے الگ الگ ہو سکتے ہیں، اور دونوں کو الگ الگ مواقع پر نبھانا چاہیے۔ دشمن کے ساتھ انسانیت کا رویہ دشمن بھی انسان ہے۔ جب وہ مرنے کے قریب ہو، اسے بچانا دراصل انسانیت کی فتح ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب فاتحین نے زخمی دشمنوں کا علاج کروایا تو ان کے دل جیت لیے۔ اسلام میں بھی جنگ کے اصول بہت واضح ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے حتیٰ کہ جنگی حالات میں بھی عورتوں، بچوں اور زخمیوں پر رحم کرنے کی ہدایت فرمائی۔ دشمن کو بچانے سے کئی فائدے ہوتے ہیں: - یہ آپ کی اخلاقی برتری ثابت کرتا ہے۔ - مستقبل میں وہ دشمن آپ کا دوست بن سکتا ہے۔ - یہ معاشرے میں امن اور عفو و درگزر کی فضا پیدا کرتا ہے۔ یہ رویہ کمزوری نہیں، بلکہ طاقت کی نشانی ہے۔ جو شخص دشمن کے درد کو سمجھ کر اسے بچاتا ہے، وہ اللہ کی رحمت کا مستحق بھی بنتا ہے۔ اپنے کی خیانت — ناقابلِ معافی جرم دوسری طرف جملے کا دوسرا حصہ بہت سخت ہے: "اگر کوئی اپنا منافقت کرے تو اسے ہرگز دوسرا موقع مت دینا۔" یہ اصول وفاداری کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ اپنے لوگ — خاندان، دوست، ساتھی، ملک یا تنظیم — وہ ہوتے ہیں جن پر آپ بھروسہ کرتے ہیں۔ جب یہ لوگ خیانت کرتے ہیں تو وہ صرف ایک غلطی نہیں کرتے، بلکہ پورے اعتماد کے نظام کو تباہ کر دیتے ہیں۔ ایک بار خیانت کرنے والا شخص بار بار دھوکہ دے سکتا ہے کیونکہ اس کی نفسیات ہی بدل چکی ہوتی ہے۔ **کیوں نہیں دینا چاہیے دوسرا موقع؟** - **اعتماد ایک بار ٹوٹ جائے تو دوبارہ جوڑنا مشکل ہوتا ہے۔** - خیانت کرنے والا دوسروں کے لیے بھی خطرہ بن جاتا ہے۔ - اگر آپ اسے موقع دیں گے تو دوسرے وفادار لوگ حوصلہ ہاریں گے اور سوچیں گے کہ خیانت کا کوئی نتیجہ نہیں۔ - یہ اصول تنظیمی نظم و ضبط، فوج، سیاست اور خاندان — ہر جگہ ہوتا ہے۔ عملی زندگی میں اطلاق کاروبار میں، سیاست میں، دوستی میں اور خاندان میں یہ اصول بہت کام آتا ہے۔ ایک ملازم جو بار بار کمپنی کے راز لیک کرے، ایک دوست جو آپ کی عزت کو نقصان پہنچائے، یا ایک رشتہ دار جو بار بار دھوکہ دے — ان سب کے ساتھ نرمی برتنا خود کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ البتہ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ "اپنا" ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر اختلاف کو خیانت سمجھ لیا جائے۔ کبھی غلط فہمی بھی ہو سکتی ہے۔ اس لیے فیصلہ کرنے سے پہلے مکمل ثبوت اور سوچ بچار ضروری ہے۔ نتیجہ یہ جملہ ہمیں متوازن شخصیت بننے کی ترغیب دیتا ہے۔ دشمن کے ساتھ رحم دل انسان بنیں، مگر اپنوں کے ساتھ سخت اور اصول پسند رہیں۔ انسانیت کو زندہ رکھیں، مگر وفاداری کی قدر کریں۔ جو لوگ اس اصول پر عمل کرتے ہیں، وہ نہ صرف کامیاب ہوتے ہیں بلکہ عزت اور احترام بھی پاتے ہیں۔ آج کے دور میں جہاں وفاداری کی قدر کم ہوتی جا رہی ہے، اس جملے کو یاد رکھنا اور اس پر عمل کرنا ہر ذمہ دار شخص کی ذمہ داری ہے۔ **وفاداری کی قدر کرو،** **اور خیانت کو کبھی معاف نہ کرو۔**

About