@yaran.1: #minnen

yaran.1
yaran.1
Open In TikTok:
Region: SE
Tuesday 14 July 2026 11:48:01 GMT
71288
8505
253
847

Music

Download

Comments

hajipary
حاجی پەری :
ماشاللە براگەوەرە اللە پایە داریت بکات
2026-07-14 13:12:19
51
awatkokaee
Awat Kokaee :
ئەی تەمەندرێژبیت گەنجی ژیر
2026-09-07 22:43:37
1
user84159733992562
Arian :
تەلاقم کەوتێێ لەکاتی دەنگ دانا دەنگی داوە ێە یەکێتی یان پارتی ،
2026-07-14 19:48:32
3
mahamad_xelehamay
Mahamad Osman :
ئای چەن دڵ خۆشکەرە بینینی ئەم جۆرە گەنجانە خوای گەورە نموونەی زیادکات
2026-08-16 09:11:35
13
danahamasalah3
danahamasalah :
:قسەکانی ئەم گەنجە بەڕێزە بەقەد وتاریکی یەک سەعاتیکەی مامۆستایەکی ئەینی بەسودتر بو .؟؟
2026-07-15 10:04:19
44
jvxyxbnnbcxbc6
Danyal Omer :
جوانه الحمدلله ئافه رم كوريكي ئاقل
2026-09-07 21:20:30
1
khalidmohamad09
Khalid Mohamad :
@Khalid Mohamad:نازانم من تەمەنم پەنجاو پێنج ساڵە نازانم وللا وبرا چیە بۆ کوردی قسە ناکەیت خۆ ئێمە عەرەب نین
2026-07-15 05:01:32
4
userz19rbwk0ps
hajjey gyan :
هەر کەسێک لەسەر عەقیدەی وەلاء و براء بڕوات بە هەموو عومری دەنگ نادات
2026-07-15 03:55:12
36
shex_rzgar_24
شـــــێخ ڕزگــــار :
ئەها ئەم ئیسلامەو ئەم دینە چەند گەورەیەو چۆن مرۆڤ گەورەو شکۆدار ئەکات ئەها پیاوی چۆن دروست ئەکات دڵنیام ئەم گەنجە بەڕێزو خۆشەویستە داهاتوویەکی زۆر گەش و پرشنگداری ئەبێت
2026-09-06 20:22:32
2
d.same5
same :
درۆیە
2026-07-14 17:19:20
1
daryasharif
Darya Sharif :
ماشااللە ٫ لە هەنێ شوێن بە ٢٠ کەس نوێژی جەنازە نازانن چۆنە!
2026-07-14 14:30:10
22
hamdobhdjxididbdb
..... :
نمونەت زۆربێت ، ڕەحمەت لە خۆت و پەروەردەت
2026-08-03 16:07:50
4
xzalaalsahud3
🌾تةنها وةحي🌾 :
دةكريت لةقورئان و حديث بةلگةم بدةنئ كة كافري موسالم و محارب هةبيت قسةي شيخ و مةلاو مةزاهيب نا قسةي الله
2026-07-14 20:20:22
0
soran_ranya30
Soran Ranya :
ئەوە نموونەی مسوڵمانی خاوەن توحید و یەک خوا پەرستە الڵە تعالی سەربەرزی بکات
2026-07-16 07:50:44
10
parwin0992
Parwin :
ماشاءالله تبارك الرحمن
2026-07-14 14:59:10
9
sabah.mohamad1
sabah Mohamad صباح محمد :
2026-07-14 18:04:47
1
ii.july0
𓆩 𝓗𝓐𝓜𝓐 𓆪 :
ما شاء الله
2026-07-23 00:57:15
2
alhamdulillaaaaaaaa
الحمداللە :
ماشاءاللە قسەکانی زۆر کارگەرن
2026-08-30 10:55:27
1
rawand3566
ره وه ند خؤشناو :
به راستى خه لكى كؤمينتيش خه لكيكى جوان و خودا وويستن له كلامى راست گؤيي ،خودا پايه دارت بكات نه وه ى باپير صلاحالدين أيوبي
2026-09-04 17:20:18
1
dlzar_sardar_
dlzar_sardar✪ :
گەنج پەروەردەی تەوحید و دین و ولاء و براء بێت ئاوا جوان و ڕۆشنبیر دەبێت
2026-08-24 14:49:12
2
hazel12755
hazel :
نموونەت زۆر بێت اللە بوکاتە ئەداتی قەدری خۆی بۆ سەرخستنی دینەکەی 🤲
2026-07-15 22:04:07
4
awesar3
Awesar :
ئەوئینسانانەی لەدین تێگەشتون چەن خۆشەویستن لەدڵا بێ ئەوەی بیشی ناسی
2026-07-15 11:04:27
2
_ballenali
𝗕𝗮𝗹𝗹𝗲𝗻 𝗬 𝗔𝗹𝗶📖📙🕊️ :
خەڵەتێنراوی برای بەڕێـــــزم . ڕێزم بۆت
2026-07-15 02:24:01
1
tanya.aiyni.islam
عومەر :
جزاک اللە خیرا 🩵
2026-07-14 17:10:36
3
To see more videos from user @yaran.1, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ہم اس بدبخت معاشرے کا حصہ ہیں جہاں بڑوں کی جہالت کو تسلیم کرنا ادب کے زمرے میں آتا ہے۔ جہاں کسی بڑے کی غلط بات پر سوال اٹھانا بدتمیزی سمجھا جاتا ہے، مگر اس کی غلطی کو نسل در نسل آگے پہنچانا روایت اور تربیت کا نام بن جاتا ہے۔ ہمیں بچپن سے سکھایا جاتا ہے کہ بڑوں کے سامنے زیادہ نہ بولو، سوال نہ کرو، اختلاف نہ کرو، بس سر جھکا کر بات مان لو۔ احترام اپنی جگہ بہت ضروری ہے، لیکن احترام کا مطلب یہ کب سے ہو گیا کہ انسان اپنی عقل بھی دوسروں کے حوالے کر دے؟ عمر یقیناً تجربہ دیتی ہے، مگر صرف عمر کسی انسان کو ہر معاملے میں درست نہیں بنا دیتی۔ ایک شخص ساٹھ سال کا ہو سکتا ہے اور پھر بھی کسی معاملے میں غلط ہو سکتا ہے، جبکہ ایک نوجوان کم عمر ہونے کے باوجود کسی بات کو زیادہ بہتر سمجھ سکتا ہے۔ علم عمر کی جاگیر نہیں، اور جہالت عمر دیکھ کر ختم نہیں ہوتی۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے معاشرے میں بڑے غلطیاں کرتے ہیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے ان کی غلطیوں کو سوال سے بالاتر بنا دیا ہے۔ اگر کوئی بڑا غلط بات کرے تو ہم دلیل سننے کے بجائے کہتے ہیں،
ہم اس بدبخت معاشرے کا حصہ ہیں جہاں بڑوں کی جہالت کو تسلیم کرنا ادب کے زمرے میں آتا ہے۔ جہاں کسی بڑے کی غلط بات پر سوال اٹھانا بدتمیزی سمجھا جاتا ہے، مگر اس کی غلطی کو نسل در نسل آگے پہنچانا روایت اور تربیت کا نام بن جاتا ہے۔ ہمیں بچپن سے سکھایا جاتا ہے کہ بڑوں کے سامنے زیادہ نہ بولو، سوال نہ کرو، اختلاف نہ کرو، بس سر جھکا کر بات مان لو۔ احترام اپنی جگہ بہت ضروری ہے، لیکن احترام کا مطلب یہ کب سے ہو گیا کہ انسان اپنی عقل بھی دوسروں کے حوالے کر دے؟ عمر یقیناً تجربہ دیتی ہے، مگر صرف عمر کسی انسان کو ہر معاملے میں درست نہیں بنا دیتی۔ ایک شخص ساٹھ سال کا ہو سکتا ہے اور پھر بھی کسی معاملے میں غلط ہو سکتا ہے، جبکہ ایک نوجوان کم عمر ہونے کے باوجود کسی بات کو زیادہ بہتر سمجھ سکتا ہے۔ علم عمر کی جاگیر نہیں، اور جہالت عمر دیکھ کر ختم نہیں ہوتی۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے معاشرے میں بڑے غلطیاں کرتے ہیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے ان کی غلطیوں کو سوال سے بالاتر بنا دیا ہے۔ اگر کوئی بڑا غلط بات کرے تو ہم دلیل سننے کے بجائے کہتے ہیں، "یہ تم سے بڑے ہیں، ادب کرو۔" اگر کوئی پرانی سوچ پر سوال کرے تو اسے نافرمان کہہ دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی نئی بات پیش کرے تو اسے "آج کل کے بچوں" کے طعنے دے کر خاموش کرا دیا جاتا ہے۔ یوں ایک نسل اپنی غلطیوں کو اگلی نسل کے لیے اصول بنا دیتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ادب اور اندھی اطاعت دو الگ چیزیں ہیں۔ آپ کسی سے اختلاف کرتے ہوئے بھی باادب رہ سکتے ہیں۔ آپ کسی بڑے کی بات سے اختلاف کر سکتے ہیں، مگر اس کی بے عزتی کیے بغیر۔ آپ سوال کر سکتے ہیں، مگر بدتمیزی کیے بغیر۔ آپ کسی روایت کو غلط سمجھ سکتے ہیں، مگر اپنے بڑوں کی تضحیک کیے بغیر۔ اصل تربیت شاید یہی ہے کہ بچوں کو صرف بڑوں کا احترام کرنا نہ سکھایا جائے، بلکہ بڑوں کو بھی بچوں کے سوالات کا احترام کرنا سکھایا جائے۔ کیونکہ جو بچہ سوال نہیں کرتا، ضروری نہیں کہ وہ بہت فرمانبردار ہو؛ ممکن ہے وہ صرف ڈرتا ہو۔ اور جو نوجوان ہر پرانی بات پر سوال اٹھاتا ہے، ضروری نہیں کہ وہ بدتمیز ہو؛ ممکن ہے وہ اپنے زمانے کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو۔ معاشرے تب ترقی کرتے ہیں جب سوال پوچھنے والے لوگوں کو خاموش نہیں کیا جاتا۔ جب استاد سے سوال کیا جا سکتا ہے، والدین سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، روایت کو پرکھا جا سکتا ہے اور کسی بات کو صرف اس لیے درست نہیں مانا جاتا کہ "ہمارے زمانے میں بھی یہی ہوتا تھا۔" ہر پرانی چیز غلط نہیں ہوتی، مگر ہر پرانی چیز صحیح بھی نہیں ہوتی۔ کچھ روایات ہمارے لیے قیمتی ہوتی ہیں اور کچھ ایسی ہوتی ہیں جنہیں وقت کے ساتھ بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ عقل مند معاشرہ دونوں میں فرق کرنا سیکھتا ہے۔ ہمیں اپنے بڑوں سے محبت اور احترام ضرور رکھنا چاہیے، مگر ان کی ہر بات کو قانون سمجھنے کی ضرورت نہیں۔ اسی طرح نئی نسل کو بھی اپنی آزادی کے نام پر ہر تجربے اور ہر مشورے کو رد نہیں کرنا چاہیے۔ اصل خوبصورتی وہاں ہے جہاں تجربہ اور سوال، روایت اور عقل، احترام اور اختلاف ایک ساتھ چل سکیں۔ کاش ہمارے گھروں میں ایسا ماحول ہو جہاں ایک بچہ اپنے والد سے کہہ سکے، "ابو، میں آپ کی عزت کرتا ہوں، لیکن اس بات سے اختلاف کرتا ہوں"، اور والد اسے بدتمیز کہنے کے بجائے پوچھے، "اچھا، مجھے سمجھاؤ کہ تم ایسا کیوں سوچتے ہو؟" شاید یہی وہ لمحہ ہوگا جہاں ایک بہتر معاشرہ جنم لے گا۔ بڑوں کا احترام ضرور کریں، مگر جہالت کو صرف عمر کی وجہ سے علم کا درجہ نہ دیں۔ اور اختلاف کو بدتمیزی سمجھنے کے بجائے اسے سیکھنے اور بہتر ہونے کا موقع سمجھیں۔ 🤍🥀#foryoure #viralvideos #foryoupage #followers #everyone

About