@shanogadi06: جب بھی میں اپنی موت کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے وہ ماں یاد اتی ہے جس نے اپنے ہی جوان بیٹے کا اخری بار چہرہ بھی نہیں دیکھا تھا وہ صرف کہنے کی ماں رہ گئی تھی کیونکہ وہ اس سے ماں ہونے کے سارے حق چھین لیے گئے تھے اسے گھر سے نکال دیا گیا اور اس نے اپنے بھائی کے گھر پناہ کے رکھی تھی پھر ایک دن اسے خبر ملی کہ اس کا جوان بیٹا اب اس دنیا میں نہیں رہا وہ بیٹا جس سے بات کرنے کو وہ ترستی تھی وہ بیٹا جس کو دیکھے بغیر کچھ مہینے گزر گئے تھے وہ کئی گھنٹوں کا سفر روتے چیختے طے کر کے ائی مگر جب تک پہنچی سب ختم ہو چکا تھا نہ اس کو جنازہ نظر ایا نہ بیٹے کی میت نہ کوئی ایسی چیز جو ثابت کر سکے کہ واقعی اس سے اتنا کچھ چھن گیا ہے وہ اج بھی بتاتی ہے کہ وہ سفر اس کے لیے سب سے زیادہ اذیت ناک سفر تھا اس رات اس پر کیا گزری تھی اس سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا اس کا دل اور دماغ یہ ماننے کو تیار ہی نہیں تھا کہ واقعی اس کا بیٹا چلا گیا ہے وہ اج بھی زندہ ہے مگر ایک چلتی پھرتی لاش کی طرح اگر تم اس سے بات کرو تو اس کی انکھوں میں ایک عجیب سا خوف دکھائی دے گا اس کی انکھوں میں تمہیں ہزاروں الفاظ ملیں گے لیکن وہ الفاظ جن کو بیان کرنے پر وہ رو پڑتی ہے اور کچھ وہ نہیں پاتی بس یہی کہے گی کہ مجھے نہیں پتہ میرے ساتھ کیا ہوا میرے بیٹے کو مجھ سے چھین لیا گیا لوگ اسے لے گئے اور میں کچھ نہ کر سکی اتنی سی بات کرنے کے بعد وہ زار و قطار روتی ہے اور اگے کچھ نہیں بول پاتی کچھ مائیں اپنے بچوں کو دفن نہیں کرتی وہ خود اپنے بچوں کے ساتھ اندر سے دفن ہو جاتی ہیں اور شاید وہ ماں بھی ایسی ہے زندہ تو ہے لیکن اپنے بیٹے کے ساتھ اس کی خوشیاں مسکراہٹ باتیں سب کچھ اس کا دفن ہو گیا #foryou #تونسہ_شریف_آلے #شانوگاڈی