@nimrakhani189: جب میں پاکستان میں تھی تو ایک دن میرے پوپو کے گردے خراب تھے۔ میں ان کے ساتھ تھی۔ ہم دوڑتے ہوئے اس بڑے ڈاکٹر کے پاس پہنچے جو "کڈنی سپیشلسٹ" تھا اور سرکاری ہسپتال میں بیٹھتا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے ایک نظر دیکھا۔ ٹیسٹ لکھ دیے۔ "جاؤ یہ ٹیسٹ کرا کر لاؤ" ہم بھاگے۔ لیب گئے۔ ٹیسٹ کرائے۔ واپس آئے تو دن کے بارہ بج چکے تھے۔ میں نے فائل ڈاکٹر کے سامنے رکھی اور کہا: "سر، ٹیسٹ ہو گئے ہیں" ڈاکٹر صاحب نے گھڑی دیکھی اور بولے: *"اب میں چیک اپ بند کر چکا ہوں۔ دو بجے پرائیویٹ کلینک میں بیٹھوں گا۔ وہاں آ جانا"* میں نے ہاتھ جوڑے: "ڈاکٹر صاحب صرف ٹیسٹ دیکھنے ہیں۔ دو منٹ کا کام ہے۔ ہم دو گھنٹے اور کیسے انتظار کریں؟ ہم دور سے آئے ہیں" اور وہ اٹھ کر چلے گئے۔ اسی لمحے سمجھ آ گیا کہ پاکستان میں ننانوے فیصد ڈاکٹر سرکاری نوکری کیوں کرتے ہیں۔ نوکری اس لیے نہیں کہ غریب کا علاج کریں۔ نوکری اس لیے کہ غریب کو بتا سکیں کہ *"شام چار بجے میرا پرائیویٹ کلینک ہے۔ وہاں آ جاؤ۔ وہاں صحیح علاج ہو گا"* سرکاری ہسپتال مریض پکڑنے کی دکان بن گیا ہے۔ اور پرائیویٹ کلینک نقد کی مشین۔ ہم دو گھنٹے بینچ پر بیٹھے رہے۔ پوپو درد سے کراہتے رہے۔ اور دو بجے ہم ھزار روپے دے کر وہی ٹیسٹ دکھا کر آ گئے جو بارہ بجے مفت میں دکھائے جا سکتے تھے۔ یہ حال صرف پشاور کا نہیں۔ یہ پورے پاکستان کا حال ہے۔ ڈاکٹر کم ہیں، قصائی زیادہ ہیں۔ *میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کیسے ڈاکٹر صبح سرکاری ہسپتال میں غریب کو بھگاتے ہیں اور شام کو ھزار روپے لے کر اسی کا علاج کرتے ہیں۔* *یہ میری آخری نصیحت ہے:* *لعنت بھیجو ایسے نظام پر جہاں ڈاکٹر قصائی بن جائے۔* *لعنت بھیجو ایسے وطن پر جہاں مریض کی جان سے زیادہ فیس کی قیمت ہو۔* *لعنت بھیجو ایسے وطن پر جہاں آپ کے بچے محفوظ نہ ہوں۔ *چھوڑ دو یہ ملک۔* *_اور مبارک ہو یہ وطن ان بکے ہوئے لوگوں کو۔ جو مرضی کرتے رہیں، کرنے دو۔"_*