@arifin.gtg19: pagi yang cerah yahhh🇪🇸🇪🇸#worldcup #spanyol🇪🇸 #fyp

panggil aja ipin
panggil aja ipin
Open In TikTok:
Region: ID
Tuesday 14 July 2026 22:58:41 GMT
8051
341
13
363

Music

Download

Comments

kwlatgbls_
لَا غَالِبَ إِلَّا اللَّهُ :
siap di pulangkan king argen
2026-07-16 12:55:49
2
bagh28
bachtiar_🐟 :
cair"
2026-07-14 23:35:48
1
warungcihuyyy09
ADEBAKOELBATAGOR :
woooooi aku lagi tangi lho
2026-07-14 23:41:09
1
user082838329
youknowaryaaa? :
asek asek tarik pekkkk
2026-07-14 23:16:55
1
lto.jpg
loto_jpg :
2026-07-14 23:04:40
1
semuateman2222
Cuyekk_ :
jan KRIUK 😁
2026-07-15 10:32:17
0
To see more videos from user @arifin.gtg19, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ان الفاظ میں صرف عزت سے جینے کی بات نہیں کی گئی، بلکہ اس کردار کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو انسان کو لوگوں کے درمیان باوقار بناتا ہے۔ دنیا میں ہر شخص عزت، احترام اور وقار چاہتا ہے، لیکن یہ سب صرف خواہش کرنے سے حاصل نہیں ہوتا۔ اس کے لیے اپنے کردار، نیت، گفتار اور عمل کو اس قدر صاف رکھنا پڑتا ہے کہ انسان کو اپنی ذات پر شرمندہ نہ ہونا پڑے۔ جب انسان جھوٹ، دھوکہ، خیانت، ظلم، منافقت اور دوسروں کا حق مارنے سے خود کو بچاتا ہے، تو اس کا ضمیر مطمئن رہتا ہے اور یہی اطمینان اسے ہر محفل اور ہر راستے پر سر اٹھا کر چلنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ اصل عزت وہ نہیں جو لوگ وقتی طور پر تعریف کرکے دے دیں، بلکہ وہ ہے جو انسان اپنے کردار سے کماتا ہے۔ دولت، شہرت اور طاقت وقتی چیزیں ہیں، مگر ایک بے داغ کردار وہ سرمایہ ہے جو برسوں بعد بھی انسان کی پہچان بنتا ہے۔ اگر انسان کا دامن بددیانتی، جھوٹ یا برے اعمال سے آلودہ ہو، تو چاہے وہ ظاہری طور پر کتنا ہی کامیاب کیوں نہ نظر آئے، اندر ہی اندر اسے اپنی حقیقت کا احساس رہتا ہے۔ لیکن جس شخص کا وجود دیانت، سچائی، اخلاق اور پاکیزہ کردار سے مزین ہو، اسے کسی کے سامنے خود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی، کیونکہ اس کا کردار ہی اس کی سب سے بڑی گواہی بن جاتا ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ سر اٹھا کر چلنے کے لیے صرف مضبوط قدم کافی نہیں ہوتے، بلکہ ایک بے داغ وجود بھی ضروری ہوتا ہے۔ جب انسان کا ضمیر پاک ہو، اس کے ہاتھ کسی کے حق سے آلودہ نہ ہوں، اس کی زبان سچ بولتی ہو اور اس کا کردار اعتماد کی علامت ہو، تب ہی وہ حقیقی معنوں میں عزت، وقار اور اطمینان کے ساتھ زندگی گزار سکتا ہے۔ کیونکہ دنیا کی نظروں سے زیادہ اہم اپنے ضمیر کی نظر میں سرخرو ہونا ہے، اور یہی وہ کامیابی ہے جو انسان کو ہر حال میں سر اٹھا کر چلنے کا حق دیتی ہے۔
ان الفاظ میں صرف عزت سے جینے کی بات نہیں کی گئی، بلکہ اس کردار کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو انسان کو لوگوں کے درمیان باوقار بناتا ہے۔ دنیا میں ہر شخص عزت، احترام اور وقار چاہتا ہے، لیکن یہ سب صرف خواہش کرنے سے حاصل نہیں ہوتا۔ اس کے لیے اپنے کردار، نیت، گفتار اور عمل کو اس قدر صاف رکھنا پڑتا ہے کہ انسان کو اپنی ذات پر شرمندہ نہ ہونا پڑے۔ جب انسان جھوٹ، دھوکہ، خیانت، ظلم، منافقت اور دوسروں کا حق مارنے سے خود کو بچاتا ہے، تو اس کا ضمیر مطمئن رہتا ہے اور یہی اطمینان اسے ہر محفل اور ہر راستے پر سر اٹھا کر چلنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ اصل عزت وہ نہیں جو لوگ وقتی طور پر تعریف کرکے دے دیں، بلکہ وہ ہے جو انسان اپنے کردار سے کماتا ہے۔ دولت، شہرت اور طاقت وقتی چیزیں ہیں، مگر ایک بے داغ کردار وہ سرمایہ ہے جو برسوں بعد بھی انسان کی پہچان بنتا ہے۔ اگر انسان کا دامن بددیانتی، جھوٹ یا برے اعمال سے آلودہ ہو، تو چاہے وہ ظاہری طور پر کتنا ہی کامیاب کیوں نہ نظر آئے، اندر ہی اندر اسے اپنی حقیقت کا احساس رہتا ہے۔ لیکن جس شخص کا وجود دیانت، سچائی، اخلاق اور پاکیزہ کردار سے مزین ہو، اسے کسی کے سامنے خود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی، کیونکہ اس کا کردار ہی اس کی سب سے بڑی گواہی بن جاتا ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ سر اٹھا کر چلنے کے لیے صرف مضبوط قدم کافی نہیں ہوتے، بلکہ ایک بے داغ وجود بھی ضروری ہوتا ہے۔ جب انسان کا ضمیر پاک ہو، اس کے ہاتھ کسی کے حق سے آلودہ نہ ہوں، اس کی زبان سچ بولتی ہو اور اس کا کردار اعتماد کی علامت ہو، تب ہی وہ حقیقی معنوں میں عزت، وقار اور اطمینان کے ساتھ زندگی گزار سکتا ہے۔ کیونکہ دنیا کی نظروں سے زیادہ اہم اپنے ضمیر کی نظر میں سرخرو ہونا ہے، اور یہی وہ کامیابی ہے جو انسان کو ہر حال میں سر اٹھا کر چلنے کا حق دیتی ہے۔

About