@khaton_: زلیخا نے یوسف کو نہیں چھوڑا تھا، اس نے صرف اپنی بے قرار خواہشوں کو اللہ کی حکمت کے حوالے کر دیا تھا۔ کیونکہ وہ جان گئی تھی کہ جو چیز دعا سے مل سکتی ہو اس کے لیے ضد نہیں کی جاتی۔ ہر سچی محبت وصال تک نہیں پہنچتی مگر ہر سچا صبر اپنے رب تک ضرور پہنچ جاتا ہے۔ بعض اوقات اللہ ہماری پسند کو روک لیتا ہے تاکہ ہمیں اپنی رضا کا مطلب سکھا سکے۔ اگر مقدر میں وصال لکھا ہو تو فاصلے بھی راستہ بن جاتے ہیں اور اگر امتحان لکھا ہو تو انتظار بھی عبادت بن جاتا ہے۔ سچی محبت شور نہیں مچاتی، وہ خاموشی سے رب کے در پر اپنا نام لکھ کر صرف اتنا کہتی ہے: اے اللہ! اگر یہ رشتہ میرے حق میں خیر ہے تو اسے میرے نصیب کی خوبصورت حقیقت بنا دے اور اگر نہیں... تو میرے دل کو اپنی رضا پر راضی کر دے۔ کیونکہ محبت کا سب سے خوبصورت روپ کسی کو تھام لینا نہیں، بلکہ اسے اللہ کے حوالے کر دینا ہے۔ اس لیے اگر تمہاری دعا ابھی تک خاموش ہے تو مایوس مت ہونا، شاید آسمان پر تمہارے حق میں ایک بہتر فیصلہ لکھا جا رہا ہو۔ یاد رکھیں: محبت کی سب سے بلند منزل کسی کو حاصل کر لینا نہیں، بلکہ دل میں بسا کر بھی اسے اللہ کے فیصلے پر چھوڑ دینا ہے۔ اور یہی یقین عشق کو عبادت بنا دیتا ہے۔