@gullyall:

❤️‍🩹🥀ملک فہد گلیال🥀❤️‍🩹
❤️‍🩹🥀ملک فہد گلیال🥀❤️‍🩹
Open In TikTok:
Region: PK
Wednesday 15 July 2026 17:05:44 GMT
1919
355
62
1

Music

Download

Comments

marshal.awan.111
Marshal Awan 🔥🔥111 :
Jan 🥀🤲
2026-07-16 05:33:38
0
ali.hassan.bara
Ali Hassan Bara :
chan bhira mashaAllah ♥️
2026-07-16 00:27:08
0
atiqueawan092
عتیق اعوان مردوال❤️🥀 :
Mashallah 🤍
2026-07-17 10:43:55
0
shaniawanyarokhail096
Shani awanyarokhail096 :
mashallah
2026-07-16 02:50:16
0
atifsardar804
Atif Awan💕 :
fvrt in wadi e soon ❤️❤️❤️khair hovi❤️❤️❤️❤️
2026-07-16 10:45:25
0
jaleelhasnain
Malik Jaleel :
Fadi💖
2026-07-16 20:50:36
0
alimalikmalik011
🖤علی احمد اعوان🦅 :
mashallah g ❤️
2026-07-15 17:12:08
0
.maliksajidawan06
☠️♠ملک ساجد اعوانڑ(ولاسر)♠♦ :
MashaAllah
2026-07-16 00:52:15
0
ali.hassan.bara
Ali Hassan Bara :
khairan❤️
2026-07-16 00:27:01
0
alimalikmalik011
🖤علی احمد اعوان🦅 :
slamat rho bhai ❣️🤲
2026-07-15 17:12:29
0
gulyall1122
gulyall1122 :
🌹🌹🌹
2026-07-19 01:55:31
0
awan15451
⚜️ملک جہانزیب اعوان⚜️ :
❤️❤️❤️❤️
2026-07-18 12:31:22
0
n0mii.1
𝐍𝐎𝐌𝐀𝐍 :
❤️❤️❤️
2026-07-17 15:56:43
0
malik48073sja
Malik g 480 :
🥰🥰🥰
2026-07-17 07:23:52
0
jadimalik00007
🅹🅰🅳🅸 🅼🅰🅻🅸🅺 :
🤲🤲🤲
2026-07-17 06:18:20
0
malik.hafeez.awan72313
Malik hafeez awan🫠 :
🥰🥰🥰
2026-07-17 05:45:21
0
shakeeljhapri01
ملک شکیل جھاپری😘👩‍❤️‍👨جان🤗 :
♥️♥️♥️
2026-07-17 04:30:20
0
sulmanawan5979
ملک سلیمان بارا 133 :
❤️❤️❤️
2026-07-17 00:43:25
0
qadeerkhokhar6635
Qadeer khokhar6635 :
🥰🥰🥰
2026-07-16 19:41:24
0
maik..s5
Maik .S. :
💔💔💔
2026-07-16 17:58:26
0
farhansultania
Farhan Awan sultania :
♥️♥️♥️
2026-07-16 17:08:40
0
mudasir.66
@Mudassir jani :
🌹🌹🌹
2026-07-16 15:17:14
0
attarasool212
Atta Rasool :
🥰🥰🥰
2026-07-16 14:31:12
0
attarasool212
Atta Rasool :
♥️♥️♥️
2026-07-16 14:31:02
0
awan51794
Shoaib Awan o55 :
🥰🥰🥰
2026-07-15 17:09:18
0
To see more videos from user @gullyall, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

زندگی کا سب سے کٹھن امتحان وہ نہیں ہوتا جب انسان گناہ کی سزا پائے… بلکہ وہ ہوتا ہے جب بے قصور ہو کر بھی مجرم ٹھہرایا جائے۔ بے قصور ہوتے ہوئے ملنے والی سزائیں… یہ وہ درد ہے جسے صرف وہی سمجھ سکتا ہے جس نے اسے جیا ہو۔ کسی جرم کے بغیر مجرم قرار دے دیا جانا، اپنی نیت صاف ہونے کے باوجود غلط ثابت کر دیا جانا، اور سچ بولتے بولتے بھی جھوٹا سمجھا جانا… یہ ایسے زخم ہیں جو جسم پر نہیں، روح پر لگتے ہیں۔ سب سے زیادہ تکلیف سزا کی نہیں ہوتی… تکلیف اس بات کی ہوتی ہے کہ جن لوگوں سے انصاف کی امید تھی، وہی فیصلہ سنانے والوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔ کتنی عجیب بات ہے نا… جب انسان واقعی غلط ہوتا ہے تو کم از کم اسے اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے، توبہ کا راستہ کھلا ہوتا ہے، معافی مانگنے کا حوصلہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ مگر جب انسان بے قصور ہو… تو وہ کس بات کی معافی مانگے؟ کس جرم کا اعتراف کرے؟ اور کس بات پر خود کو قصوروار سمجھے؟ پھر وہ خاموش ہو جاتا ہے۔ وہ ہر ایک کو اپنی صفائی دیتے دیتے تھک جاتا ہے۔ پہلے وہ سمجھاتا ہے، پھر دلیل دیتا ہے، پھر منت کرتا ہے کہ اس کی بات سن لی جائے، مگر جب ہر وضاحت کو بہانہ سمجھ لیا جائے، تو آخرکار وہ بولنا چھوڑ دیتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ خاموش انسان کے پاس جواب نہیں ہوتے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کے پاس جواب بہت ہوتے ہیں، مگر سننے والے نہیں ہوتے۔ بے قصور انسان کے لیے سب سے بڑی سزا یہ نہیں کہ اس پر الزام لگا دیا گیا… بلکہ یہ ہے کہ اس کے سچ پر بھی شک کیا گیا۔ وہ راتوں کو جاگتا ہے، خود سے سوال کرتا ہے، اپنے ہر لفظ کو یاد کرتا ہے، اپنے ہر رویے کا حساب لیتا ہے کہ شاید کہیں واقعی مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہو۔ پھر آہستہ آہستہ اسے احساس ہوتا ہے کہ بعض اوقات مسئلہ اس کی نیت نہیں، دوسروں کی سوچ ہوتی ہے۔ ہر شخص سچ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ پہلے فیصلہ کر لیتے ہیں، پھر ثبوت ڈھونڈتے ہیں۔ اور جب کسی کے دل میں آپ کے خلاف بدگمانی بیٹھ جائے، تو آپ کی سچائی بھی اسے جھوٹ محسوس ہونے لگتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان اندر سے ٹوٹنے لگتا ہے۔ وہ پہلے جیسا بے فکر نہیں رہتا۔ وہ ہر نئے تعلق سے ڈرنے لگتا ہے۔ ہر وعدے پر سوال اٹھاتا ہے۔ ہر مسکراہٹ کے پیچھے مطلب تلاش کرنے لگتا ہے۔ کیونکہ ایک بار بے قصور ہو کر سزا مل جائے، تو اعتماد دوبارہ قائم ہونے میں بہت وقت لگتا ہے۔ پھر بھی… انسان جیتا رہتا ہے۔ مسکراتا بھی ہے۔ لوگوں کے درمیان بیٹھتا بھی ہے۔ مگر اس کے اندر ایک ایسا کمرہ بن جاتا ہے جہاں وہ کسی کو داخل نہیں ہونے دیتا۔ وہ اپنے درد کو اپنی خاموشی میں دفن کر دیتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ ہر شخص اس کی کہانی سننے کے لیے نہیں، بلکہ اس پر رائے دینے کے لیے بیٹھا ہے۔ اسی لیے وہ اپنے آنسو اللہ کے سامنے بہا دیتا ہے۔ کیونکہ صرف وہی ایک ذات ہے جو صفائی مانگے بغیر حقیقت جانتی ہے۔ وہ جانتی ہے کہ کس کا دل کتنا ٹوٹا، کس نے کس نیت سے محبت کی، کس نے ظلم کیا اور کس نے ظلم سہا۔ شاید اسی لیے قرآن ہمیں بار بار صبر کی تلقین کرتا ہے۔ صبر اس لیے نہیں کہ ظلم کو درست مان لیا جائے… بلکہ اس لیے کہ اللہ کا انصاف انسانوں کے انصاف سے کہیں زیادہ کامل ہے۔ اگر آج تمہیں بے قصور ہو کر سزا ملی ہے… اگر تمہارا کردار لوگوں نے اپنے الفاظ سے زخمی کر دیا ہے… اگر تمہاری نیت کو غلط سمجھ لیا گیا ہے… تو یقین رکھو، یہ کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ ہو سکتا ہے دنیا تمہاری بے گناہی کبھی نہ سمجھے… مگر اللہ کے ہاں کوئی آنسو، کوئی آہ، کوئی خاموش فریاد ضائع نہیں ہوتی۔ ایک دن ایسا ضرور آتا ہے جب انسان مڑ کر اپنے زخموں کو دیکھتا ہے اور محسوس کرتا ہے کہ یہی زخم اسے اللہ کے قریب لے آئے تھے۔ یہی آزمائشیں اسے لوگوں سے کم اور اپنے رب سے زیادہ جوڑ گئی تھیں۔ اور پھر دل آہستہ سے کہتا ہے…
زندگی کا سب سے کٹھن امتحان وہ نہیں ہوتا جب انسان گناہ کی سزا پائے… بلکہ وہ ہوتا ہے جب بے قصور ہو کر بھی مجرم ٹھہرایا جائے۔ بے قصور ہوتے ہوئے ملنے والی سزائیں… یہ وہ درد ہے جسے صرف وہی سمجھ سکتا ہے جس نے اسے جیا ہو۔ کسی جرم کے بغیر مجرم قرار دے دیا جانا، اپنی نیت صاف ہونے کے باوجود غلط ثابت کر دیا جانا، اور سچ بولتے بولتے بھی جھوٹا سمجھا جانا… یہ ایسے زخم ہیں جو جسم پر نہیں، روح پر لگتے ہیں۔ سب سے زیادہ تکلیف سزا کی نہیں ہوتی… تکلیف اس بات کی ہوتی ہے کہ جن لوگوں سے انصاف کی امید تھی، وہی فیصلہ سنانے والوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔ کتنی عجیب بات ہے نا… جب انسان واقعی غلط ہوتا ہے تو کم از کم اسے اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے، توبہ کا راستہ کھلا ہوتا ہے، معافی مانگنے کا حوصلہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ مگر جب انسان بے قصور ہو… تو وہ کس بات کی معافی مانگے؟ کس جرم کا اعتراف کرے؟ اور کس بات پر خود کو قصوروار سمجھے؟ پھر وہ خاموش ہو جاتا ہے۔ وہ ہر ایک کو اپنی صفائی دیتے دیتے تھک جاتا ہے۔ پہلے وہ سمجھاتا ہے، پھر دلیل دیتا ہے، پھر منت کرتا ہے کہ اس کی بات سن لی جائے، مگر جب ہر وضاحت کو بہانہ سمجھ لیا جائے، تو آخرکار وہ بولنا چھوڑ دیتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ خاموش انسان کے پاس جواب نہیں ہوتے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کے پاس جواب بہت ہوتے ہیں، مگر سننے والے نہیں ہوتے۔ بے قصور انسان کے لیے سب سے بڑی سزا یہ نہیں کہ اس پر الزام لگا دیا گیا… بلکہ یہ ہے کہ اس کے سچ پر بھی شک کیا گیا۔ وہ راتوں کو جاگتا ہے، خود سے سوال کرتا ہے، اپنے ہر لفظ کو یاد کرتا ہے، اپنے ہر رویے کا حساب لیتا ہے کہ شاید کہیں واقعی مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہو۔ پھر آہستہ آہستہ اسے احساس ہوتا ہے کہ بعض اوقات مسئلہ اس کی نیت نہیں، دوسروں کی سوچ ہوتی ہے۔ ہر شخص سچ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ پہلے فیصلہ کر لیتے ہیں، پھر ثبوت ڈھونڈتے ہیں۔ اور جب کسی کے دل میں آپ کے خلاف بدگمانی بیٹھ جائے، تو آپ کی سچائی بھی اسے جھوٹ محسوس ہونے لگتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان اندر سے ٹوٹنے لگتا ہے۔ وہ پہلے جیسا بے فکر نہیں رہتا۔ وہ ہر نئے تعلق سے ڈرنے لگتا ہے۔ ہر وعدے پر سوال اٹھاتا ہے۔ ہر مسکراہٹ کے پیچھے مطلب تلاش کرنے لگتا ہے۔ کیونکہ ایک بار بے قصور ہو کر سزا مل جائے، تو اعتماد دوبارہ قائم ہونے میں بہت وقت لگتا ہے۔ پھر بھی… انسان جیتا رہتا ہے۔ مسکراتا بھی ہے۔ لوگوں کے درمیان بیٹھتا بھی ہے۔ مگر اس کے اندر ایک ایسا کمرہ بن جاتا ہے جہاں وہ کسی کو داخل نہیں ہونے دیتا۔ وہ اپنے درد کو اپنی خاموشی میں دفن کر دیتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ ہر شخص اس کی کہانی سننے کے لیے نہیں، بلکہ اس پر رائے دینے کے لیے بیٹھا ہے۔ اسی لیے وہ اپنے آنسو اللہ کے سامنے بہا دیتا ہے۔ کیونکہ صرف وہی ایک ذات ہے جو صفائی مانگے بغیر حقیقت جانتی ہے۔ وہ جانتی ہے کہ کس کا دل کتنا ٹوٹا، کس نے کس نیت سے محبت کی، کس نے ظلم کیا اور کس نے ظلم سہا۔ شاید اسی لیے قرآن ہمیں بار بار صبر کی تلقین کرتا ہے۔ صبر اس لیے نہیں کہ ظلم کو درست مان لیا جائے… بلکہ اس لیے کہ اللہ کا انصاف انسانوں کے انصاف سے کہیں زیادہ کامل ہے۔ اگر آج تمہیں بے قصور ہو کر سزا ملی ہے… اگر تمہارا کردار لوگوں نے اپنے الفاظ سے زخمی کر دیا ہے… اگر تمہاری نیت کو غلط سمجھ لیا گیا ہے… تو یقین رکھو، یہ کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ ہو سکتا ہے دنیا تمہاری بے گناہی کبھی نہ سمجھے… مگر اللہ کے ہاں کوئی آنسو، کوئی آہ، کوئی خاموش فریاد ضائع نہیں ہوتی۔ ایک دن ایسا ضرور آتا ہے جب انسان مڑ کر اپنے زخموں کو دیکھتا ہے اور محسوس کرتا ہے کہ یہی زخم اسے اللہ کے قریب لے آئے تھے۔ یہی آزمائشیں اسے لوگوں سے کم اور اپنے رب سے زیادہ جوڑ گئی تھیں۔ اور پھر دل آہستہ سے کہتا ہے… "اے اللہ! اگرچہ اس سفر نے مجھے بہت رلایا، مگر تیرا ساتھ کبھی نہیں چھینا۔ یہی میرے لیے کافی ہے۔" اس لیے اگر آج تم بے قصور ہو کر بھی سزا کاٹ رہے ہو… تو خود کو ختم مت ہونے دینا۔ اپنی اچھائی کو دوسروں کی برائی کی نذر مت کرنا۔ کیونکہ ظلم سہہ لینا ایک آزمائش ہے… مگر ظلم کرنے والا بن جانا ایک بہت بڑی ہار ہے۔ یاد رکھو… لوگ تمہیں وقتی طور پر مجرم بنا سکتے ہیں، مگر اللہ کے ہاں فیصلہ صرف حقیقت کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ اور جس دن اللہ انصاف فرمائے گا، اُس دن کسی گواہ، کسی دلیل اور کسی صفائی کی ضرورت نہیں ہوگی۔ وہی دن ہر بے قصور دل کے لیے سب سے بڑی تسلی ہوگا۔ #EmotionalWriting #BrokenHeart #Patience #LifeLessons #UrduQuotes

About