Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@zofiadao: It's summer so... 😅 #trending #fyp #foryoupage #control
Zofia Dao
Open In TikTok:
Region: FI
Wednesday 15 July 2026 17:19:58 GMT
2224
83
5
3
Music
Download
No Watermark .mp4 (
1.93MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
1.1MB
)
Watermark .mp4 (
0MB
)
Music .mp3
Comments
Irena P.🇫🇮 :
2026-07-15 17:58:08
1
Wäinö💎 :
good control 👌
2026-07-21 18:26:16
0
Katri :
XDDDd❤️
2026-07-16 14:28:05
1
To see more videos from user @zofiadao, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
کچھ روز قبل ایک انڈین صحافی دورانِ انٹرویو پاکستان کے مشہور صحافی حامد میر سے ایک سوال پوچھتا ہے کہ: ’ایک ہی وقت میں امریکا اور چین کو، سعودی عرب اور ایران کو خوش رکھ لینا، کیسے کر لیتا ہے پاکستان یہ سب؟‘ یہ سب کر لینا کتنا مشکل ہے، اس کا اندازہ کسی انڈین سے بہتر کسے ہو سکتا ہے؟ کیونکہ یہ انڈیا ہی تو تھا جس کے لیے ایک ہی وقت میں امریکا اور روس کو خوش رکھنا ہمیشہ کارِ محال ثابت ہوا۔ ڈونلڈ ٹرمپ طیاروں کی گنتیاں اور اس گنتی میں اضافہ اسی لیے تو کرتا جاتا تھا کہ انڈیا ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر پیوٹن دونوں کو بیک وقت خوش رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اور اس ناکام کوشش کے دوران مودی کو عالمی سٹیج پر مسلسل ذلت کا سامنا رہا۔ اور دوسری طرف ایران کے میڈیا پر پاکستان سے متعلق یہ بات عام کہی جاتی تھی کہ یہ امریکا کا پٹھو ہے۔ جبکہ انڈیا انہیں ایک آزاد اور خود مختار ملک نظر آتا تھا۔ چنانچہ پاکستان اور انڈیا کے تنازعات میں انقلابی ایران انڈیا کا ہی ساتھ دیتا آ رہا تھا۔ پاکستان کو ٹھیک سے سمجھنے میں ایران کو پورے 47 سال لگے۔ اس سمجھ میں کلیدی کردار افغانستان میں امریکا کے عبرتناک انجام نے ادا کیا۔ ایرانی شاید یہ دیکھ کر حیران ہوئے کہ ایک ہی وقت میں امریکا اور طالبان دونوں پاکستان سے خوش اور دوحہ مذاکرات پر آمادہ؟ سو انڈینز کی طرح ایرانیوں کے ذہن میں بھی ضرور یہی سوال پیدا ہوا: ’کیسے کر لیتا ہے پاکستان یہ سب؟‘ مگر انڈینز کے برخلاف ایرانی اچھی طرح سمجھ گئے تھے کہ پاکستان امریکا کا پٹھو نہیں بلکہ ایک بہت گہری گیم رکھنے والا ایسا ملک ہے جو اپنے بہت ہی سادہ مگر پیچیدہ نظر آنے والے گیم پلان کی وجہ سے سب کے لیے ہی ایک معمہ بنا رہتا ہے۔ اور ایرانیوں کے لیے یہ معمہ سمجھنا زیادہ مشکل ثابت نہ ہوا، کیونکہ انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ جس پاکستان کو وہ امریکا کا پٹھو سمجھتے رہے، اس نے اسی امریکا کو اپنے پڑوس میں ایک بھی مستقل اڈہ حاصل نہ کرنے دیا۔ وہ اڈہ جو آگے چل کر پاکستان، ایران اور چین سب کے لیے دردِ سر بنتا۔ اس سمجھ کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ ایرانیوں نے انڈیا کا بھی از سرِ نو جائزہ لینا شروع کر دیا کہ کہیں وہ اسے سمجھنے میں بھی غلطی تو نہیں کر رہے؟ اس سوال کا کچھ جواب تو ایران کو پچھلے سال جون والے اسرائیلی حملے میں تب ملا جب ایران نے اپنے ملک میں سرگرم را کے ایجنٹوں کو اسرائیل کے لیے کام کرتے رنگے ہاتھوں پکڑا۔ جو کسر بچی تھی وہ حالیہ جنگ کے بالکل شروع میں اس ایرانی نیول شپ کی تباہی نے پوری کر دی تھی جس پر انڈیا سے روانہ ہوتے ہی امریکا نے حملہ کیا اور انڈیا نے اس پر چوں تک نہ کی۔ صرف چوں نہ کرنا کیا بلکہ انڈیا نے تو اس پر کسی شریکِ جرم جیسی خاموشی کو ترجیح دی۔ ایرانیوں نے یہ بھی دیکھ لیا تھا کہ ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حالیہ حملے سے عین قبل کون تھا جو تل ابیب میں نیتن یاہو کو جپھیاں ڈال کر وفاؤں کا یقین دلا رہا تھا؟ چنانچہ صورتحال یہ تھی کہ ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ جب بھی کہتا کہ ہم مذاکرات پاکستان کو ساتھ بٹھا کر ہی کریں گے تو دوسری طرف ایران کو ذرا بھی ٹینشن نہیں ہوتی تھی۔ پتہ ہے کیوں؟ کیونکہ آج کا ایران یہ کھلی آنکھوں سے دیکھ چکا تھا کہ پاکستان دوستوں کو دھوکہ نہیں دیتا، چاہے وہ دوست امریکا ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن اگر کوئی اس کے مفادات کے لیے خطرہ بن جائے تو پاکستان پھر بخشتا بھی نہیں، چاہے ایسا کرنے والا بھی امریکا ہی کیوں نہ ہو۔ یوں آج کی تاریخ میں ایران کو نہ اس بات سے کوئی پریشانی ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر تو ٹرمپ کو بہت عزیز ہیں، اور نہ ہی اس بات سے کوئی الجھن کہ پاکستان کے تو 13000 فوجی اور 18 لڑاکا طیارے سعودی عرب میں مستقل بنیاد پر لینڈ ہو چکے۔ ایرانیوں کو ٹینشن کیوں نہیں؟ کیونکہ وہ جان گئے ہیں پاکستان وہ جادوگر ہے جو ایک ہی وقت میں بیجنگ اور واشنگٹن کو ہی نہیں بلکہ ریاض اور تہران کو بھی خوش رکھنے والا منتر جانتا ہے۔ مشہورِ زمانہ ٹائم میگزین نے اپنے 25 اکتوبر 1999ء کے شمارے کا ٹائٹل پاکستان کے نام کیا تھا، جس کے فرنٹ پیج پر سوالیہ نشان کے ساتھ لکھا تھا کہ: ’کیا پاکستان کو بچایا جا سکتا ہے؟‘ اس سوال کا پس منظر یہ تھا کہ پاکستان پر ایٹمی دھماکوں کے نتیجے میں عالمی پابندیاں عائد ہو چکی تھیں، وہ پابندیاں جو معاشی بھی تھیں، مالیاتی بھی اور عسکری بھی۔ اور آج 27 سال بعد پوری دنیا اسی پاکستان سے متعلق ایک نیا سوال پوچھ رہی ہے اور وہ یہ کہ: ’کیا پاکستان دنیا کو بچا سکتا ہے؟‘ #GreenPakistan #Geopolitics #IranPakistan #SaudiPakistan #CPEC
@ariadna #inpersoana
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy