@loracolodellaverita: 🇩🇿 Algeria ⚽️⚽️⚽️ 🇦🇹 Austria ⚽️⚽️ 🇯🇴 Giordania ⚽️ 🇨🇻 Capo Verde ⚽️ 🇪🇬 Egitto ⚽️👟 🇨🇭 Svizzera 👟 🏴󠁧󠁢󠁥󠁮󠁧󠁿 Inghilterra 👟👟 8 gol e 4 assist in 7 partite, a 39 anni. Non c’è bisogno di aggiungere altro, inventarsi paragoni, metafore o sforzarci di trovare parole che non sarebbero oggettivamente all’altezza. Godiamocelo finché possiamo ragazzi 💎 #leomessi #calcio #mondiale #bomber #argentina

Loracolodellaverita
Loracolodellaverita
Open In TikTok:
Region: IT
Wednesday 15 July 2026 22:34:49 GMT
11989
552
2
29

Music

Download

Comments

nicot9416
Nicola94 :
le palle in faccia a tutti sta mettendo
2026-07-15 23:01:39
8
To see more videos from user @loracolodellaverita, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

یہ تصویر پاکستان کی تاریخ کے ایک انتہائی دردناک، تلخ اور یادگار دن کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ روزنامہ ** *"اگر کبھی ایسا وقت آ جائے کہ پاکستان کی حفاظت کے لیے جنگ لڑنی پڑے تو کسی صورت میں ہتھیار نہ ڈالیں، پہاڑوں میں، جنگلوں میں، میدانوں میں، مٹی اور دریاؤں میں جنگ جاری رکھیں۔"* > یہ قول اس وقت کے مایوس کن حالات میں عوام کے ٹوٹے ہوئے حوصلوں کو سہارا دینے اور ہتھیار ڈالنے کی ہزیمت کا مقابلہ کرنے کے لیے چھاپا گیا تھا۔ ### 2۔ "ہم مشرقی پاکستان واپس لے کر رہیں گے" اس وقت کے سیاسی رہنما ذوالفقار علی بھٹو (جن کی تصویر بھی نیچے نمایاں ہے) اور دیگر رہنماؤں کی طرف سے عوام کو حوصلہ دینے کے لیے یہ عزم ظاہر کیا جا رہا تھا کہ یہ جدائی عارضی ہے اور پاکستان دوبارہ یکجا ہوگا۔ ### 3۔ "اب بھارت نہیں بچ سکتا: چو این لائی" چین کے اس وقت کے وزیرِ اعظم **چو این لائی** کی تصویر کے ساتھ یہ سرخی پاکستان کے دوست ملک چین کی حمایت کو ظاہر کرتی ہے، جو اس کڑے وقت میں پاکستان کے ساتھ سفارتی سطح پر کھڑا تھا۔ ### 4۔ "جنگ بندی کا خیر مقدم، بھارتی طیاروں نے لاہور پر راکٹوں اور بموں کی بارش کر دی" یہ سرخی اس منافقت کو عیاں کرتی ہے کہ ایک طرف جنگ بندی کا اعلان ہو رہا تھا اور دوسری طرف بھارتی فضائیہ لاہور اور دیگر سرحدی علاقوں پر حملے کر رہی تھی۔ ذیلی سرخی میں شکر گڑھ کے محاذ پر دشمن کو بھاری نقصان پہنچانے کا ذکر بھی موجود ہے۔ ### 5۔ "جنگ جاری رکھو، عوامی فوج تیار کرو" اخبار کے نچلے حصے میں عوام کے شدید غصے اور جذبات کو دکھایا گیا ہے، جہاں لوگ جنگ بندی تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھے اور گلی محلوں میں "جنگ جاری رکھنے" کے مطالبات کر رہے تھے۔ ## کہانی: 18 دسمبر 1971ء کا وہ اداس سویرا **18 دسمبر 1971ء** کی صبح جب لوگوں کے گھروں میں یہ اخبار پہنچا، تو ملک کا انگ انگ زخمی تھا۔ ریڈیو پاکستان پر گزشتہ رات ہی جنرل یحییٰ خان کا قوم سے آخری خطاب نشر ہو چکا تھا جس میں انہوں نے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ لاہور، کراچی، پشاور اور راولپنڈی کی سڑکوں پر ایک عجیب سا سکوت طاری تھا۔ ہر آنکھ اشکبار تھی کیونکہ ملک کا آدھا حصہ الگ ہو چکا تھا۔ لوگ چائے کے ہوٹلوں اور دکانوں پر جمع ہو کر اس اخبار کے صفحے کو دیکھ رہے تھے، جہاں ایک طرف سقوطِ ڈھاکہ کا دکھ تھا اور دوسری طرف اخبار کے صفحات میں ابھی بھی "لڑتے رہنے" اور "مشرقی پاکستان واپس لینے" کا جوش بھرا پروپیگنڈا اور تسلیاں موجود تھیں۔ یہ اخبار اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ کس طرح شکست اور سانحے کے ملبے سے ایک نئے، نوزائیدہ پاکستان نے جنم لینا تھا، جس کی باگ ڈور چند دن بعد ہی ذوالفقار علی بھٹو کے ہاتھوں میں آنے والی تھی۔ یہ کاغذ کا ٹکڑا محض ایک پرانی خبر نہیں، بلکہ ہماری تاریخ کا وہ زخم ہے جو کبھی نہیں بھر سکتا۔#18December1971 #FallOfDhaka #PakistanHistory #SanoohaDhaka #HistoricalNewspaper " width="135" height="240">
یہ تصویر پاکستان کی تاریخ کے ایک انتہائی دردناک، تلخ اور یادگار دن کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ روزنامہ **"مساوات" لاہور** کا **18 دسمبر 1971ء** کا صفحہ اول ہے، جو سقوطِ ڈھاکہ اور پاک-بھارت جنگ کی باضابطہ بندش (سیز فائر) کے اگلے دن شائع ہوا تھا۔ آئیں اس تاریخی دن کی کہانی اور اس اخبار کی سرخیوں کے پیچھے چھپے کرب اور حالات کو تفصیل سے جانتے ہیں۔ ## پسِ منظر: وہ تاریک موڑ اور تاریخ کا دردناک ترین دن یہ کہانی شروع ہوتی ہے **16 دسمبر 1971ء** کو، جب پاکستان کا مشرقی حصہ (مشرقی پاکستان) ہم سے الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔ اس وقت کے صدر اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل یحییٰ خان نے بھارت کی یکطرفہ جنگ بندی کی پیشکش کو قبول کر لیا، جس کے بعد 17 دسمبر 1971ء کو مغربی محاذ پر بھی جنگ باقاعدہ طور پر بند ہو گئی۔ یہ اخبار **18 دسمبر 1971ء (بروز ہفتہ)** کا ہے، جو جنگ بندی کے فوری بعد عوام تک پہنچنے والی خبروں کی دلیری اور مایوسی کا ایک ملا جلا منظر پیش کر رہا ہے۔ ## اخبار کی اہم سرخیاں اور ان کے پیچھے چھپی کہانی اس صفحہ اول پر لکھی تحریریں اس وقت کے عوامی اور سیاسی جذبات کی عکاسی کرتی ہیں: ### 1۔ "صدر یحییٰ نے جنگ بند کر دی" یہ اس دن کی سب سے بڑی سرخی ہے۔ اس سرخی کے ساتھ بائیں جانب بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہے جس کے ساتھ ان کا ایک قول درج ہے: > *"اگر کبھی ایسا وقت آ جائے کہ پاکستان کی حفاظت کے لیے جنگ لڑنی پڑے تو کسی صورت میں ہتھیار نہ ڈالیں، پہاڑوں میں، جنگلوں میں، میدانوں میں، مٹی اور دریاؤں میں جنگ جاری رکھیں۔"* > یہ قول اس وقت کے مایوس کن حالات میں عوام کے ٹوٹے ہوئے حوصلوں کو سہارا دینے اور ہتھیار ڈالنے کی ہزیمت کا مقابلہ کرنے کے لیے چھاپا گیا تھا۔ ### 2۔ "ہم مشرقی پاکستان واپس لے کر رہیں گے" اس وقت کے سیاسی رہنما ذوالفقار علی بھٹو (جن کی تصویر بھی نیچے نمایاں ہے) اور دیگر رہنماؤں کی طرف سے عوام کو حوصلہ دینے کے لیے یہ عزم ظاہر کیا جا رہا تھا کہ یہ جدائی عارضی ہے اور پاکستان دوبارہ یکجا ہوگا۔ ### 3۔ "اب بھارت نہیں بچ سکتا: چو این لائی" چین کے اس وقت کے وزیرِ اعظم **چو این لائی** کی تصویر کے ساتھ یہ سرخی پاکستان کے دوست ملک چین کی حمایت کو ظاہر کرتی ہے، جو اس کڑے وقت میں پاکستان کے ساتھ سفارتی سطح پر کھڑا تھا۔ ### 4۔ "جنگ بندی کا خیر مقدم، بھارتی طیاروں نے لاہور پر راکٹوں اور بموں کی بارش کر دی" یہ سرخی اس منافقت کو عیاں کرتی ہے کہ ایک طرف جنگ بندی کا اعلان ہو رہا تھا اور دوسری طرف بھارتی فضائیہ لاہور اور دیگر سرحدی علاقوں پر حملے کر رہی تھی۔ ذیلی سرخی میں شکر گڑھ کے محاذ پر دشمن کو بھاری نقصان پہنچانے کا ذکر بھی موجود ہے۔ ### 5۔ "جنگ جاری رکھو، عوامی فوج تیار کرو" اخبار کے نچلے حصے میں عوام کے شدید غصے اور جذبات کو دکھایا گیا ہے، جہاں لوگ جنگ بندی تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھے اور گلی محلوں میں "جنگ جاری رکھنے" کے مطالبات کر رہے تھے۔ ## کہانی: 18 دسمبر 1971ء کا وہ اداس سویرا **18 دسمبر 1971ء** کی صبح جب لوگوں کے گھروں میں یہ اخبار پہنچا، تو ملک کا انگ انگ زخمی تھا۔ ریڈیو پاکستان پر گزشتہ رات ہی جنرل یحییٰ خان کا قوم سے آخری خطاب نشر ہو چکا تھا جس میں انہوں نے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ لاہور، کراچی، پشاور اور راولپنڈی کی سڑکوں پر ایک عجیب سا سکوت طاری تھا۔ ہر آنکھ اشکبار تھی کیونکہ ملک کا آدھا حصہ الگ ہو چکا تھا۔ لوگ چائے کے ہوٹلوں اور دکانوں پر جمع ہو کر اس اخبار کے صفحے کو دیکھ رہے تھے، جہاں ایک طرف سقوطِ ڈھاکہ کا دکھ تھا اور دوسری طرف اخبار کے صفحات میں ابھی بھی "لڑتے رہنے" اور "مشرقی پاکستان واپس لینے" کا جوش بھرا پروپیگنڈا اور تسلیاں موجود تھیں۔ یہ اخبار اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ کس طرح شکست اور سانحے کے ملبے سے ایک نئے، نوزائیدہ پاکستان نے جنم لینا تھا، جس کی باگ ڈور چند دن بعد ہی ذوالفقار علی بھٹو کے ہاتھوں میں آنے والی تھی۔ یہ کاغذ کا ٹکڑا محض ایک پرانی خبر نہیں، بلکہ ہماری تاریخ کا وہ زخم ہے جو کبھی نہیں بھر سکتا۔#18December1971 #FallOfDhaka #PakistanHistory #SanoohaDhaka #HistoricalNewspaper

About