@ghanikhan1438: #غنی #خان پا جومات کښې مې امام وموند، په مکه کښې رانه ورک شو. خدای مې زړه کښې راپیدا کړو، چې مخ د یار کړو ښکول. اردو ترجمہ “مسجد میں مجھے امام ملا، مکہ میں وہ مجھ سے اوجھل ہو گیا۔ خدا مجھے اپنے دل میں محسوس ہوا، جب میں نے محبوب کا چہرہ دیکھا۔” تشریح غنی خان اس شعر میں ظاہری عبادت اور باطنی معرفت کے فرق کو بیان کرتے ہیں۔ * “مسجد میں مجھے امام ملا” سے مراد یہ ہے کہ شاعر نے دین کی ظاہری رہنمائی حاصل کی۔ * “مکہ میں وہ مجھ سے اوجھل ہو گیا” کا مطلب یہ نہیں کہ امام واقعی گم ہو گیا، بلکہ یہ ایک استعارہ ہے کہ روحانی سفر میں انسان ایک ایسے مقام پر پہنچتا ہے جہاں صرف ظاہری رہنمائی کافی نہیں رہتی۔ * “خدا مجھے اپنے دل میں محسوس ہوا” یعنی شاعر کو اخلاص، محبت اور روحانی معرفت کے ذریعے اللہ کی قربت کا احساس ہوا۔ * “جب میں نے محبوب کا چہرہ دیکھا” میں “محبوب” صوفیانہ شاعری میں اکثر اللہ تعالیٰ یا اس کے حسن و جمال کی علامت ہوتا ہے، اور بعض اوقات حقیقی محبوب کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے