@thoughts.dairy: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال سے فرمایا بلال جلدی چلو کسی کام سے جانا ہے حضرت بلال فورا آپ کے ساتھ روانہ ہوئے فرماتے ہیں محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معمول سے ہٹ کر تیز تیز قدموں سے چل رہے تھے کوئی اہم کام تھا اور میں آپ کے پیچھے پیچھے تیز قدموں کے ساتھ دوڑتا رہا یہاں تک کہ ایک جگہ سے گزرے جہاں ایک بوڑھی عورت پھٹے پرانے کپڑے پہنے خستہ حال راستے میں کھڑی رو رہی تھی محبوب کی نظر مبارک پڑی تو رک گئے فرمایا بلال! ذرا پتہ کرو کیا مسلہ ہے؟ عرض کی آقا! آپ چلیے آپ کا کام ضروری ہے میں اس سے پوچھ لیتا ہوں فرمایا بلال اس کام سے ضروری اس کے آنسو پوچنا ہیں حضرت بلال نے اس عورت سے رونے کی وجہ پوچھی تو بتایا کہ میری مالکن ایک سخت مزاج عورت ہے اس نے مجھے تیل لینے کےلیے بھیجا تھا پانچ درہم دیئے میں نے تیل خریدا اور جلدی میں واپس جا رہی تھی کہ میرا پیر مڑ گیا میں گر گئی تو تیل سارا زمین پر گر گیا تیل زمین پی گئی ہے میرے پاس اور درہم بھی نہیں اگر میں خالی واپس جاتی ہوں تو مالکن مجھے کوڑے مارے گی میں غریب ہوں ساری عمر اس کی غلامی میں مار کھا کھا کے گزاری اب بوڑھی ہو گئی ہوں ہڈیاں کمزور ہیں میں اس کی مار برداشت نہیں کر سکتی؟ محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال سے فرمایا جاو جلدی پانچ درہم لاؤ حضرت بلال گئے اور پانچ درہم لے کر آئے آپ نے اس عورت کو تیل دلوایا لیکن وہ اب بھی رو رہی تھی فرمایا اب کیوں رو رہی ہو؟ کہنے لگی مالکن غصہ کرے گی کہ دیر کیوں کر دی اب دیر سے پہنچنے پر مجھے کوڑے مارے جائیں گے وہ نہ تو آقا علیہ السلام کو جانتی تھی اور نہ ہی آپ انہیں جانتے تھے کیونکہ چند ہی روز ہوئے مدینہ منورہ آئے ہوئے لیکن فرمایا چلو ہم بھی تمہارے ساتھ چلتے ہیں وہ عورت آگے آگے چل پڑی محبوب پیچھے پیچھے ساتھ چل رہے گویا اللہ کی ساری رحمت اس کے ساتھ چل پڑی ایک گلی سے گزرے دوسری سے تیسری سے اور پھر کہیں جا کر اس کی مالکن کا گھر آیا دروازے پر دستک دی مالکن نے دروازہ کھولا جیسے ہی باہر آئی نظر ایک نورانی ہالے میں ڈوبی ہوئی شخصیت پر پڑی دھنگ رہ گئی کہ یہ کون ہیں جنہیں میں پہلی بار دیکھ رہی چاند سے زیادہ روشن اور خوبصورت چہرہ سیاہ گھنی زلفیں جھکی نگاہیں اور سادگی اور عاجزی کی بے مثال تصویر سر پر سادہ عمامہ باندھے نظر جھکائے کھڑے تھے وہ سر سے لے کر پاوں تک اللہ کے محبوب کو دیکھے جا رہی مکھ چند بدر شعشانی اے متھے چمکدی لاٹ نورانی اے کالی زلف تے اکھ مستانی اے مخمور اکھیں ہن مد بھریاں سبحان اللہ ما اجملک ما احسنک ما اکملک کتھے مہر علی کتھے تیری ثنا گستاخ اکھیں کتھے جا اڑیاں آپ نے جھکی نگاہوں کے ساتھ بڑے دھیمی اور میٹھے لہجے میں پوچھا یہ تمہاری نوکرانی ہے؟ کہنے لگی ہاں میں اس کی مالکن ہوں فرمایا اسے کچھ مت کہنا اس بیچاری سے تیل گر گیا تھا یہ رو رہی تھی ہم نے اسے تیل دلایا تو اس نے کہا دیر ہو گئی ہے مالکن سزا دے گی میں اس کی سفارش کےلیے یہاں تک آیا ہوں آپ باتیں کیئے جارہے ہیں اور وہ عورت آپ کے جلوؤں میں اس قدر محو تھی کہ اسے آس پاس کی کچھ خبر نہ تھی آپ نے اپنی بات مکمل فرمائی اور فرمایا وعدہ کرو اس غریب کو کچھ نہیں کہو گی وہ مالکن جو سخت مزاج تھی جو کسی کی نہیں مانتی تھی لیکن محبوب کے جملوں میں تاثیر اتنی تھی کہ بول پڑی آپ فکر نہ کریں میں اسے کچھ نہیں کہوں گی وعدہ رہا پھر آقا علیہ السلام نے اس غریب سے فرمایا اب اگر تو کہے تو میں جاؤں؟ اللہ اکبر آتا ہے فقیروں پہ انہیں پیار کچھ ایسا خود بھیک دیں اور خود کہیں منگتے کا بھلا ہو فرمایا اب اگر تو کہے تو میں جاوں اس کی آنکھوں سے آنسو گرے اور کہنے لگی جیسے آپ کی بندہ نوازی حضور نے رخ پھیرا اور چل پڑے، حضرت بلال ابھی پیچھے تھے مالکن نے انہیں روکا اور کہا یہ تو بتاو یہ کون ہیں؟ جو اس قدر مہربان ہے کہ ایک غریب اور کمزور عورت کےلیے یہاں تک تشریف لے آئے؟ حضرت بلال نے فرمایا کیا تم نہیں جانتی یہ کون ہیں؟ یہ وہی ہیں جنہیں اللہ نے سچا رسول بنا کر بھیجا ہے یہ اللہ کے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں یہ سنا تو وہ دونوں عورتیں حیرت میں ڈوب گئیں کیا یہ ہیں مسلمانوں کے سردار اس قدر مہربان؟ دوڑ کر دونوں آقا علیہ السلام کے قدموں میں پہنچی اور عرض کرنے لگیں اے اللہ کے محبوب اب آئے ہی ہیں تو ہمیں بھی نوازتے جائیے ہمیں بھی کلمہ پڑھا دیجیے پھر آپ نے ان دونوں کو کلمہ پڑھایا دین کے کچھ احکام سمجھائے اور وہاں سے چل دیئے #صلي_علي_النبي_محمد_صلي_الله_عليه_وسلم #tiktok #unfrezzmyaccount #viralvideo #islamic