@musafar868: سمندر میں ڈوبنا لیکن گیلا نہ ہونا: یہاں "سمندر" سے مراد گناہوں، برائیوں یا دنیاوی آلودگی کا سمندر ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ میں گناہوں کے اس گہرے سمندر میں غرق تو ہو گیا، لیکن "لوند نہ شوم" (گیلا نہیں ہوا)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیاوی گناہوں نے میرے جسم یا میری ظاہر زندگی کو تو گھیر لیا، لیکن وہ میرے ایمان اور اندرونی ضمیر کو داغدار نہ کر سکے، یا مجھے اس گناہ کا وہ احساس اور ندامت نہ مل سکی جو توبہ کے لیے ضروری ہے۔بارش مانگنا تاکہ خشک ہو جاؤں: عام طور پر بارش سے انسان گیلا ہوتا ہے، لیکن شاعر الٹ بات کر رہا ہے کہ "یا اللہ! تھوڑی بارش برسا تاکہ میں خشک (پاک) ہو جاؤں"۔ یہاں "باران" سے مراد اللہ کی رحمت اور مغفرت کی بارش ہے۔ شاعر دعا کر رہا ہے کہ اے خدا! مجھ پر اپنی رحمت کی ایسی بارش برسا جو گناہوں کی اس دلدل اور سمندر کے اثرات کو مجھ سے دھو ڈالے اور مجھے بالکل صاف، ستھرا اور خشک (پاکیزہ) کر دے۔ #creatorsearchinsights #perfectcarwrap #foryoupage #pottery🖤🥀⚡️#virlvideo