@luis.escandn.29: El Café x @KEYVINCE 🖤. #juandairiarte #Keyvince #Cartagena #champeta #Viral

Luis Escandón 29
Luis Escandón 29
Open In TikTok:
Region: CO
Friday 17 July 2026 06:28:00 GMT
21332
2053
10
103

Music

Download

Comments

tmartofzs82
Triana p :
whisky whisky
2026-07-18 03:38:33
0
humbertobedoya6
Humberto Bedoya :
hay abigail 🔥🔥🔥
2026-07-18 03:37:14
0
gricelagarcespadilla
Gris :
Nada iba a estar bien si él se iba… ahora estoy mucho mejor sin el
2026-07-17 22:32:50
0
20stefyalejandra
𝐴𝑙𝑒𝑗𝑎𝑛𝑑𝑟𝑎💖🌸 :
Me Encanta Este Tema😍😍😍
2026-07-19 00:15:38
0
misalegonzalez2
el misa.( Isaías 40:29) :
me preguntó si la están tratando bien ❤️‍🩹. para dedicar
2026-07-17 17:07:31
0
carmen.sofia777
Andres Guerrero :
💔😞
2026-07-18 00:58:42
0
andrea.carolina.m345
Andrea Carolina Morales Carmon :
🥰🥰🥰
2026-07-17 15:56:29
0
andre_yu33
YULG :
🥰🥰🥰
2026-07-18 10:33:11
0
To see more videos from user @luis.escandn.29, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

پنجاب کےجنوب مغرب اور سندھ کے شمال مشرق میں دریائے سندھ اور خلیج کے در میان تین سو میل لمبی اور پچاس میل چوڑی ریاست بہاولپور ، اسے نوابی اور جاگیر کا درجہ انگریز ہی کے زمانے میں عطا ہوا۔ اس ریاست پر پہلے  دائود پوتوں کی حکمرانی تھی۔  1739ء میں نادر  شاہ نے صادق محمد خان اول کو پہاولپور تحفہ میں دیا تھا اور صادق محمد خان کو نواب کے خطاب سے سرفراز کیا۔۔ کچھ عرصہ بعد سکھوں نے جب طاقت پکڑی تو انہوں نے بہاولپور پر حملہ کر کے بہاول خان کو نواب کے عمدے سے الگ کر دیا تاہم بہلول خان سوم نے 1825ء میں انگریزوں سے مدد حاصل کر کے بہار پور کو سکھوں سے واگزار کرا لیا۔ 1848ء میں جب انگریزوں کو سکھوں کے ساتھ دوسری بار معرکہ پیش  آیا تو ملتان میں انگریزیوں کے خلاف اس موقع پر بڑی خوفناک شورش بر پا ہوئی۔ نواب آف بہاولپور نے اپنے نوجوان اور فوج ایک انگریز ایڈورڈ کی قیادت میں دے دیئے جنہوں نے مل کر کئی مصر کے کئے اور ہوں جنرل والش ایڈورڈ نواب کے ملی تعاون سے بہت خوش ہوا۔ انہیں لائیف پنشن، ایک لاکھ کی رقم اور آٹھ لاکھ روپے ان کے نوجوانوں اور قومی دستوں کی گراں قدر خدمات کے عوض انعام میں دیے۔ 1850ء میں نواب بہاول خان نے اپنے بڑے بیٹے کی بجائے اپنے چھوٹے بیٹے یارخان کو نواب بنا دیا۔ انگریز سرکار نے بھی نواب بہاول خان کے اس فیصلہ پر کوئی اعتراض نہ کیا۔  1865ء میں  ریاست بہاولپور کا نواب نا بالغ ہونے کی وجہ سے ریاست کا نظام سنبھالنے سے قاصر تھا۔ ریاست کا نظام حکومت کے کنٹرول میں چلا گیا۔ صادق خان چہارم کے بالغ ہونے تک ریاست کا انتظام انگریزوں کے  سپرد رہا۔ 1879ء میں جب نواب بالغ ہوا تو اسے نوابی واپس کر دی گئی۔ نواب صادق خان چہارم نے دوسری افغان جنگ میں انگریزوں کا ساتھ دیا۔ 20 ہزار سے زائد اونٹ، سینکڑوں خچر اور  کئی بیل  انگریز  کی نقل و حرکت کے لئے وقف کر دیتے۔ 300 سپاہیوں کا خصوصی دستہ اور 100   تلوار بردار سپاہی امیر و غازی خان کے محاد پر وقف کر دیئے اور صوبہ سرحد میں نواب نے انگریزوں کی ہر طرح سے مدد کی۔ اس تعاون کے اعتراف میں لارڈ رپن نے 1880ء میں ریاست کا خصوصی دورہ کیا اور انہیں کا خطاب دیا۔
پنجاب کےجنوب مغرب اور سندھ کے شمال مشرق میں دریائے سندھ اور خلیج کے در میان تین سو میل لمبی اور پچاس میل چوڑی ریاست بہاولپور ، اسے نوابی اور جاگیر کا درجہ انگریز ہی کے زمانے میں عطا ہوا۔ اس ریاست پر پہلے دائود پوتوں کی حکمرانی تھی۔ 1739ء میں نادر شاہ نے صادق محمد خان اول کو پہاولپور تحفہ میں دیا تھا اور صادق محمد خان کو نواب کے خطاب سے سرفراز کیا۔۔ کچھ عرصہ بعد سکھوں نے جب طاقت پکڑی تو انہوں نے بہاولپور پر حملہ کر کے بہاول خان کو نواب کے عمدے سے الگ کر دیا تاہم بہلول خان سوم نے 1825ء میں انگریزوں سے مدد حاصل کر کے بہار پور کو سکھوں سے واگزار کرا لیا۔ 1848ء میں جب انگریزوں کو سکھوں کے ساتھ دوسری بار معرکہ پیش آیا تو ملتان میں انگریزیوں کے خلاف اس موقع پر بڑی خوفناک شورش بر پا ہوئی۔ نواب آف بہاولپور نے اپنے نوجوان اور فوج ایک انگریز ایڈورڈ کی قیادت میں دے دیئے جنہوں نے مل کر کئی مصر کے کئے اور ہوں جنرل والش ایڈورڈ نواب کے ملی تعاون سے بہت خوش ہوا۔ انہیں لائیف پنشن، ایک لاکھ کی رقم اور آٹھ لاکھ روپے ان کے نوجوانوں اور قومی دستوں کی گراں قدر خدمات کے عوض انعام میں دیے۔ 1850ء میں نواب بہاول خان نے اپنے بڑے بیٹے کی بجائے اپنے چھوٹے بیٹے یارخان کو نواب بنا دیا۔ انگریز سرکار نے بھی نواب بہاول خان کے اس فیصلہ پر کوئی اعتراض نہ کیا۔ 1865ء میں ریاست بہاولپور کا نواب نا بالغ ہونے کی وجہ سے ریاست کا نظام سنبھالنے سے قاصر تھا۔ ریاست کا نظام حکومت کے کنٹرول میں چلا گیا۔ صادق خان چہارم کے بالغ ہونے تک ریاست کا انتظام انگریزوں کے سپرد رہا۔ 1879ء میں جب نواب بالغ ہوا تو اسے نوابی واپس کر دی گئی۔ نواب صادق خان چہارم نے دوسری افغان جنگ میں انگریزوں کا ساتھ دیا۔ 20 ہزار سے زائد اونٹ، سینکڑوں خچر اور کئی بیل انگریز کی نقل و حرکت کے لئے وقف کر دیتے۔ 300 سپاہیوں کا خصوصی دستہ اور 100 تلوار بردار سپاہی امیر و غازی خان کے محاد پر وقف کر دیئے اور صوبہ سرحد میں نواب نے انگریزوں کی ہر طرح سے مدد کی۔ اس تعاون کے اعتراف میں لارڈ رپن نے 1880ء میں ریاست کا خصوصی دورہ کیا اور انہیں کا خطاب دیا۔ "Grand Cross of the star of India" وہ اپنے علاقے میں 25 سال تک خدمات سر انجام دیتے رہے۔ 1889ء میں ان کی موت واقع ہوئی۔ نواب بہاول خان پنجم ریاست کے وارث بنے۔ نواب کم عمری میں ہی فوت ہو گیا اور صادق محمد خان پنجم ان کے جانشین مقرر ہوئے جو کہ 1904 ء میں ہی ہو گئے۔ تفصیل بہت ہے ان لڑائیاں، رشتے ۔وغیرہ وغیرہ #foryou #pakistan #England #germany #TikTok

About