@theworldofbooks11: میں ایک لڑکے کو جانتا ہوں جس کا باپ اسکول ٹیچر تھا۔ تنخواہ کم تھی اور گزارہ مشکل سے ہوتا۔ مگر وہ لڑکا کبھی بھی اپنے باپ کے سامنے خواہشات کی فہرست نہیں رکھتا تھا۔ اسکول لے جانے کو پیسے بھی نہ مانگتا۔ مگر جب وہ تیرہ سال کا تھا تو اسکول فنکشن کے لیے اسے نئے جوتوں کی ضرورت پڑی۔ بلکہ ضرورت نہیں صرف خواہش تھی۔ کیونکہ اس کے دوستوں نے نئے جوتوں کی نمائش کی تھی وہ جن میں رنگ برنگی لائنیں لگی ہوتی ہیں۔ اس روز اس نے اپنے باپ سے کہا کہ اسے بھی وہی جوتے چاہئیں۔ باپ کچھ دیر کو چپ ہوا تو وہ سمجھا کہ باپ نہیں لے کر دے گا۔ وہ باپ سے ناراض ہو گیا۔ اس نے باپ سے بات کرنا بھی ترک کر دی۔ رات اس کے سرہانے اس کا باپ آیا اور کہا کہ وہ اسے کل جوتے لادے گا۔ بالکل وہی جوتے ۔ مگر وہ لڑکا ناراض رہا اور آنکھیں بند کر کے سوتا بن گیا۔ صبح اس کا باپ اسکول سے جلدی چھٹی لے کر جوتوں کی اس مہنگی دکان پر گیا۔ جانے کہاں سے پیسے جوڑ کر اس نے وہ جوتے خریدے۔ اور جب وہ سڑک عبور کر رہا تھا تو ایک بس سے اسے ٹکر مار دی ۔ لمحے بھر کو نیچے دیکھتا سعدی خاموش ہوا۔ جب لوگ اس کے باپ کی لاش کو گھر لائے تو ساتھ خون میں نہایا جوتوں کا ڈہا بھی تھا۔ جوتے آگئے نوشیروا ! باپ چلا گیا ۔ اگر تم اس ان کے کو کہو کہ اس شرط پر کہ اس کی زندگی پانچ منٹ بعد لے لی جائے گی اس کا باپ اس کے سامنے آجائے اور ان پانچ منٹ میں صرف اس کو انئے اور وہ ساری ڈانٹ سن کر صرف معافی مانگ سکے تو اس لڑکے کو وہ پانچ منٹ کی زندگی بھی قبول ہوگی ۔ کیونکہ اپنی زندگی کے اگلے پانچ سال میں اس نے یہ بات اچھی طرح جان لی تھی کہ باپ کا کوئی replacement نہیں ہوتا ۔" (نمل ازقلم نمرہ احمد) #story #novelshort #edit #trend #fyp