زندگی کی سب سے تلخ حقیقت یہ ہے کہ انسان سچائی کو اپنا راستہ تو بناتا ہے، مگر دنیا اس راستے پر چلنے والوں کو تنہا چھوڑ دیتی ہے۔ کیوں؟ کیونکہ لوگ سچائی کو سننا تو چاہتے ہیں، مگر جب وہ سچائی ان کے اپنے وجود پر پڑتی ہے، تو وہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ وہ جھوٹے تسلیوں کو ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ جھوٹ میں ایک عجیب سکون ہے، جبکہ سچ میں ایک تلخ حقیقت کا درد۔
مگر کیا یہ ہماری غلطی ہے؟ کیا ہمیں جھوٹ بولنا سیکھ لینا چاہیے تھا تاکہ لوگ ہمارے پاس رہیں؟ میرے خیال سے ہر گز نہیں۔ سچ بولنا کوئی کمزوری نہیں، بلکہ نہایت بہادری ہے۔ یہ بہادری کہ تم اپنی زبان پر قابو رکھتے ہو، مگر دوسروں کی مرضی کے لیے اپنے ضمیر کو بیچتے نہیں۔ ہاں، سچ بولنے والے اکثر اکیلا پن محسوس کرتے ہیں، لیکن یہ تنہائی بری نہیں۔ یہ وہ تنہائی ہے جہاں تم اپنے اصلی دوستوں کو پہچانتے ہو۔
جو لوگ تمہارا سچ برداشت نہیں کر سکتے، وہ تمہاری قدر بھی نہیں کر سکتے۔ اور جو تمہاری قدر کریں گے، وہ تمہارے سچ کو گلے لگائیں گے، چاہے وہ تلخ ہو۔ سچ کے دامن سے مت چھوٹنا، کیونکہ سچ ہی وہ چیز ہے جو تمہیں اندھیرے میں بھی روشنی کی راہ دکھاتی ہے۔
جہانِ ماضی
2026-07-23 06:27:51
2
ch[$]zohaib :
2026-07-19 06:49:18
1
To see more videos from user @ibrahim.u95, please go to the Tikwm
homepage.