@stiven._.066: #fypシ゚ #🖤 #foryou #dhok #actives?

𝐒𝐭𝐢𝐯𝐞𝐧_𝟎𝟔𝟔
𝐒𝐭𝐢𝐯𝐞𝐧_𝟎𝟔𝟔
Open In TikTok:
Region: IQ
Friday 17 July 2026 20:37:05 GMT
20147
1985
13
382

Music

Download

Comments

h4d1_09
🖤. :
Alahhhhhhh😍
2026-08-07 01:19:12
3
shreen.96
❤️‍🩹𝓢𝓱𝓻𝓮𝓮𝓷 :
bzabt😍💔
2026-07-18 03:26:35
4
love_m_022
#ْ𝟢ِ𝟤ِ𝟤♾️٫ :
💔‘
2026-07-17 23:55:52
2
gashbin.20
shajwan.2 :
خودي شه فه 😂😂😂😂هيشتا نه بيه روژ
2026-08-30 02:11:42
2
firas_uk2
firas_uk🇬🇧 :
2026-07-18 11:50:47
2
just.k.y.29
⚜️𝐑⚜️ :
Pssssss 😁💔
2026-07-17 20:44:58
0
regash_12
رێگەش دوسکی :
2026-07-18 12:10:09
0
z4x0yi21
Z4x0yi :
2026-07-25 21:54:57
0
barwari0331
حــ44مــوو🥷 :
🖤🖤🖤
2026-07-17 20:39:25
0
To see more videos from user @stiven._.066, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

حضرت سعد بن ابی وقاصؓ وہی جلیل القدر صحابی ہیں جن کے بارے میں نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا:🥀 “اے سعد! تیر چلاؤ، میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔”🏹 ایسا مقام پانے والا شخص جب اپنی زندگی کے آخری لمحات میں پہنچا، تو منظر ہی کچھ اور تھا۔ جب حضرت سعدؓ کی وفات کا وقت قریب آیا، تو اُن کے چہرے پر دنیا کی کوئی رغبت نہ تھی۔ وہ بار بار اپنی نگاہیں جھکاتے اور آسمان کی طرف دیکھتے۔ اُن کے پاس بیٹھنے والے لوگوں نے محسوس کیا کہ وہ کسی گہری سوچ میں ہیں۔ انہوں نے آہستہ آواز میں فرمایا: “میں مہاجرین میں سے ہوں… میں نے اللہ کے راستے میں بہت کچھ دیکھا… مگر مجھے اپنے اعمال کا خوف ہے…” یہ سن کر اردگرد بیٹھے لوگ رو پڑے۔ پھر انہوں نے ایک عجیب وصیت کی۔ فرمایا: “مجھے میرے اُس پرانے کپڑے (کفن) میں دفن کرنا، جسے میں نے غزوۂ بدر کے دن پہنا تھا۔” یہ وہ کپڑا تھا جس میں انہوں نے اسلام کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالی تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ اللہ کے سامنے اسی حالت میں پیش ہوں—جیسے ایک مجاہد، ایک سچا بندہ۔ جب اُن کی آنکھوں میں آنسو آئے، تو کسی نے عرض کیا: “آپ تو اُن خوش نصیبوں میں سے ہیں جنہیں نبی کریم ﷺ کی دعائیں حاصل ہوئیں، پھر یہ خوف کیوں؟” حضرت سعدؓ نے روتے ہوئے فرمایا:👉 “اللہ کے ہاں حساب بہت سخت ہے…” یہ جملہ سن کر محفل میں سناٹا چھا گیا۔ ایک ایسا شخص جس کے لیے نبی ﷺ نے دعا فرمائی، جو عشرہ مبشرہ میں سے ہے، وہ بھی اللہ کے خوف سے رو رہا ہے—تو ہمارا کیا حال ہونا چاہیے؟😰 جب اُن کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی، تو فضا میں ایک عجیب خاموشی تھی۔ لوگ رو رہے تھے، مگر ساتھ ہی دل میں یہ سکون بھی تھا کہ ایک عظیم مجاہد، ایک سچا عاشقِ رسول ﷺ اپنے رب سے جا ملا۔😭 یہ واقعہ ہمیں ہنسی نہیں بلکہ ایک گہری سوچ دے جاتا ہے— وہ سعدؓ جو میدانِ جنگ میں شیروں کی طرح لڑتے تھے، آخری وقت میں اللہ کے خوف سے رو رہے تھے۔😰 حوالہ: 📚 صحیح بخاری، کتاب المغازی (سعدؓ کے فضائل و واقعات) الطبقات الکبریٰ از ابن سعد سیر اعلام النبلاء از امام ذہبی یہ واقعہ اُن کی وفات کے حالات کو بیان کرتا ہے، اور ہمیں عاجزی، خوفِ خدا اور آخرت کی تیاری کا سبق دیتا ہے۔
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ وہی جلیل القدر صحابی ہیں جن کے بارے میں نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا:🥀 “اے سعد! تیر چلاؤ، میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔”🏹 ایسا مقام پانے والا شخص جب اپنی زندگی کے آخری لمحات میں پہنچا، تو منظر ہی کچھ اور تھا۔ جب حضرت سعدؓ کی وفات کا وقت قریب آیا، تو اُن کے چہرے پر دنیا کی کوئی رغبت نہ تھی۔ وہ بار بار اپنی نگاہیں جھکاتے اور آسمان کی طرف دیکھتے۔ اُن کے پاس بیٹھنے والے لوگوں نے محسوس کیا کہ وہ کسی گہری سوچ میں ہیں۔ انہوں نے آہستہ آواز میں فرمایا: “میں مہاجرین میں سے ہوں… میں نے اللہ کے راستے میں بہت کچھ دیکھا… مگر مجھے اپنے اعمال کا خوف ہے…” یہ سن کر اردگرد بیٹھے لوگ رو پڑے۔ پھر انہوں نے ایک عجیب وصیت کی۔ فرمایا: “مجھے میرے اُس پرانے کپڑے (کفن) میں دفن کرنا، جسے میں نے غزوۂ بدر کے دن پہنا تھا۔” یہ وہ کپڑا تھا جس میں انہوں نے اسلام کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالی تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ اللہ کے سامنے اسی حالت میں پیش ہوں—جیسے ایک مجاہد، ایک سچا بندہ۔ جب اُن کی آنکھوں میں آنسو آئے، تو کسی نے عرض کیا: “آپ تو اُن خوش نصیبوں میں سے ہیں جنہیں نبی کریم ﷺ کی دعائیں حاصل ہوئیں، پھر یہ خوف کیوں؟” حضرت سعدؓ نے روتے ہوئے فرمایا:👉 “اللہ کے ہاں حساب بہت سخت ہے…” یہ جملہ سن کر محفل میں سناٹا چھا گیا۔ ایک ایسا شخص جس کے لیے نبی ﷺ نے دعا فرمائی، جو عشرہ مبشرہ میں سے ہے، وہ بھی اللہ کے خوف سے رو رہا ہے—تو ہمارا کیا حال ہونا چاہیے؟😰 جب اُن کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی، تو فضا میں ایک عجیب خاموشی تھی۔ لوگ رو رہے تھے، مگر ساتھ ہی دل میں یہ سکون بھی تھا کہ ایک عظیم مجاہد، ایک سچا عاشقِ رسول ﷺ اپنے رب سے جا ملا۔😭 یہ واقعہ ہمیں ہنسی نہیں بلکہ ایک گہری سوچ دے جاتا ہے— وہ سعدؓ جو میدانِ جنگ میں شیروں کی طرح لڑتے تھے، آخری وقت میں اللہ کے خوف سے رو رہے تھے۔😰 حوالہ: 📚 صحیح بخاری، کتاب المغازی (سعدؓ کے فضائل و واقعات) الطبقات الکبریٰ از ابن سعد سیر اعلام النبلاء از امام ذہبی یہ واقعہ اُن کی وفات کے حالات کو بیان کرتا ہے، اور ہمیں عاجزی، خوفِ خدا اور آخرت کی تیاری کا سبق دیتا ہے۔

About