@pakistanishaheen14: جو جتنی مار کھا رہا ہے اس کو اتنا یقین ہو رہا ہے کہ امریکہ ان کو نہیں بچا سکتا اس لیے پاکستان سے ہی مدد مانگنا ٹھیک رہے گا ، سعودیہ کے بعد کافی عرب ممالک تھے جو پاکستان کے ساتھ سعودیہ طرز کا دفاعی معاہدہ کرنا چاہتے تھے درمیان میں ایران امریکہ جنگ آ گئی تو معاملات مختلف ہو گئے لیکن اچھا کام یہ ہوا کے باقی ممالک کو پتا چل گیا سعودیہ کا پاکستان کے ساتھ معاہدہ ہے اس کے اوپر ایران کا کوئی حملہ نہیں ہے جبکہ ہمارا تو امریکہ کے ساتھ معاہدہ ہے لیکن پھر بھی ہم پر حملے ہو رہے ہیں اس کے بعد کویت ، بحرین اور قطر نے پاکستان کے ساتھ سکیورٹی معاہدہ کرنے کا گرین سگنل دیا لیکن معاہدہ نا ہو پایا ، اب کویت کی جانب سے واضح طور پر پاکستان کو پیغام بھیجا گیا ہے اور پاکستان نے اس کے اوپر گرین سگنل دے دیا ہے جس کے بعد سعودیہ کے بعد دوسرا ملک کویت ہو گا جو پاکستان کے سکیورٹی معاہدہ کی چھتری تلے پناہ لے گا اس کے ساتھ کویت گوادر میں متبادل تیل سٹریٹجک ذخائر بھی رکھے گا تاکہ اگر مستقبل میں ہرمز بند بھی ہو تو دنیا کو تیل کی سپلائی چلتی رہی اور کویت کی آمدن نا رکے ، یہئ فیصلہ سعودیہ نے بھی کیا ہے ، لیکن یہاں ایک بات بہت دلچسپ ہے کہ کویت کی جانب سے اس آفر کی سب سے زیادہ تکلیف یو اے ای کو محسوس ہوی ہے اور انہوں نے پاکستان کے اوپر سخت تنقید کی ہے اور “کرائے کی فوج یا ریاست “ کا نام دیا ہے لیکن عوام نے ان کی ایسی چھترول سوشل میڈیا پر کی ہے کہ رہے رب کا نام ، جس میں صارفین کا کہنا تھا اگر یہی کام امریکہ کرے اپنے فوجی اڈے قائم کرے تو وہ سکیورٹی شراکت دار بنتا ہے اور پاکستان کرے تو کرائے کی فوجی ، صارفین نے کہا اگر امریکی اڈوں کے باوجود تم لوگ ایران کے حملوں سے نہیں بچ سکتے تو ڈوب مرنے کا مقام امریکہ کے لیے ہے اس میں پاکستان کے اوپر تنقید کہاں سے آ گئی ،، اس کے بعد یو اے ای کی عوام کو ٹھنڈ پڑ گئی ہے اور خاموشی سے یہ معاہدہ ہوتے دیکھ رہے ہیں ، تو اب خطے میں پاکستان اکلوتا ملک ہو گا جس کے خلیج میں دو ممالک میں فوجی اڈے ہوں گے ، جو مستقبل میں بڑھے گے کم نہیں ہون گے #creatorsearchinsights #foryoypage #foryou