@empecamxinggai:

𝙀𝙢𝙋é𝘾𝙖𝙢𝙓𝙜á𝙞 ?
𝙀𝙢𝙋é𝘾𝙖𝙢𝙓𝙜á𝙞 ?
Open In TikTok:
Region: VN
Saturday 18 July 2026 09:32:25 GMT
61
5
0
2

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @empecamxinggai, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

اللہ تعالیٰ تو ہر جگہ موجود ہے اور اُس کے لئے کسی خاص مقام یا وسیلے کی ضرورت نہیں۔ وہ حضرت اللہ تعالیٰ تو ہر جگہ موجود ہے اور اُس کے لئے کسی خاص مقام یا وسیلے کی ضرورت نہیں۔ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے جہاں چاہتا کلام فرما سکتا تھا، لیکن کوه طور کو خاص کرنے کے کئی حکمتیں مفسرین نے بیان کی ہیں امتحان اور تربیت 1. حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ایک خاص مقام پر بلانے کا مقصد اُنہیں تیاری خشوع و خضوع اور روحانی کیفیت کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں پیش کرنا تھا۔ یہ ایک امتحان اور عظیم شرف کی تیاری تھی۔ : مقام کی برکت 2. کوه طور کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و جلال کے ظہور کا مرکز بنایا۔ جب اللہ تعالیٰ کسی جگہ کو کسی خاص مقصد کے لئے منتخب کر لیتا ہے تو وہ جگہ مبارک اور عظمت والی ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوہ طور کا ذکر قرآن میں
اللہ تعالیٰ تو ہر جگہ موجود ہے اور اُس کے لئے کسی خاص مقام یا وسیلے کی ضرورت نہیں۔ وہ حضرت اللہ تعالیٰ تو ہر جگہ موجود ہے اور اُس کے لئے کسی خاص مقام یا وسیلے کی ضرورت نہیں۔ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے جہاں چاہتا کلام فرما سکتا تھا، لیکن کوه طور کو خاص کرنے کے کئی حکمتیں مفسرین نے بیان کی ہیں امتحان اور تربیت 1. حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ایک خاص مقام پر بلانے کا مقصد اُنہیں تیاری خشوع و خضوع اور روحانی کیفیت کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں پیش کرنا تھا۔ یہ ایک امتحان اور عظیم شرف کی تیاری تھی۔ : مقام کی برکت 2. کوه طور کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و جلال کے ظہور کا مرکز بنایا۔ جب اللہ تعالیٰ کسی جگہ کو کسی خاص مقصد کے لئے منتخب کر لیتا ہے تو وہ جگہ مبارک اور عظمت والی ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوہ طور کا ذکر قرآن میں "وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ وَطُورِ سِينِينَ" (التین: (1-2) میں آیا۔ عبرت و نشانیاں 3. بنی اسرائیل کے لئے یہ ایک عظیم نشانی تھی کہ اُن کے نبی نے براہ راست اللہ سے کلام کیا۔ یہ واقعہ کسی عام جگہ پر نہیں بلکہ ایک نمایاں اور بلند پہاڑ پر ہوا تاکہ اس واقعہ کی عظمت ظاہر ہو۔ تنہائی اور توجہ 4. پہاڑ پر بلانے کی حکمت یہ بھی تھی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام دنیاوی مشاغل اور لوگوں سے الگ ہو کر صرف اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوں۔ پہاڑ کی تنہائی اور جلالت روح کو مزید یکسو کرتی ہے۔ اللہ کی مشیت 5. آخر میں سب سے بڑی حکمت یہ ہے کہ یہ اللہ کی مرضی اور مشیت تھی۔ وہ جس چیز کو چاہے شرف اور خصوصیت عطا کر دیتا ہے۔ جیسے مکہ کو حرمت دی مدینہ کو برکت دی بیت المقدس کو فضیلت دی ویسے ہی کوہ طور کو اپنی کلام گاہ بنایا@YouTube Automation wala #everyone #pleasegoviral #support_me #knowledge #fu

About