@jarar47k: 16جنوری2024 کو اگر کسی کو یاد ہو تو ایران نے پاکستان کے صوبے بلوچستان کے ضلع پنجگور میں کوہ سبز کے علاقے میں میزائل حملے کیے تھے جس میں 2 افراد شہید اور4 زخمی ہوئے تھے اور ایران کی جانب سے کہا گیا کہ اس نے جیش العدل کے ٹھکانوں پر حملہ کیا البتہ پاکستان کی جانب سے ایران کو واپس 18 جنوری 2024 میں ایران کے صوبے سیستان اور بلوچستان کے علاقے سراوان میں ونگ لونگ 2 ڈرونز فتح ملٹی پل لانچ راکٹ سسٹم اور F16اور JF-17 طیاروں کی مدد سے حملے کیے گئے اسے آپریشن مرگ برسرمچار کا نام دیا گیا اور پاکستان کے مطابق ان حملوں میں ایران میں موجود دہشتگرد تنظیموں بی ایل اے اور بی ایل ایف کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ان حملوں میں کئی افراد مارے گئے اس آپریشن میں پاکستان ائیر فورس کے حملہ آور جہازوں نے تقریبا 60 کلومیٹر ایرانی حدود کے اندر اہداف کو نشانہ بنایا اور یہ عراق ایران جنگ کے بعد پہلی بار ہوا تھا جب کسی بیرونی ملک نے ایران کے اندر حملے کیے تھے ۔خیر اس کے بعد ایرانیوں نے ڈپلومیسی کا راستہ پکڑا یا یوں کہیں کہ ان کو پکڑایا گیا اور پھر دونوں ملکوں کے درمیان سٹینڈ ڈاؤن ہو گیا۔چاہبہار میں را کے ایجنٹوں کی موجودگی اور آپریشنز کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہیں اور کلبھوشن یادیو اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہے اس لیے جس کو ایرانی حمایت بہت زیادہ شدت سے یاد آ رہی ہو اسے یہ چیزیں بھی یاد کر لینی چاہئیں ریاستوں کے بیچ دوستیاں نہیں ہوتیں مفادات ہوتے ہیں اور ان مفادات کو دیکھیں تو جن عرب ممالک پر ایرانی حملے کر رہے ہیں وہاں سے ہر سال سولہ ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ پاکستان آتا ہے اور تقریبا 45لاکھ پاکستانی وہاں برسر روزگار ہیں۔یہ 45 لاکھ پاکستانی 45 لاکھ پاکستانی خاندانوں کے کفیل ہیں اور عرب ممالک سے آنے والا یہ پیسہ پاکستانی معیشت کے لیے وینٹیلیٹر کی حیثیت رکھتا ہے تو جن پاکستانیوں کو عرب ممالک کی تباہی دیکھنے کی شدید خواہش ہے انہیں یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیئے کہ اس کا مطلب پاکستان کی تباہی ہے ۔۔ قطر اور سعودی عرب جنھوں نے ایران کے ساتھ امریکی سیز فائر کروانے کے لیے پاکستان کی ساتھ مل کر جان توڑ کوشش کی اور ایک سیز فائر کا معاہدہ سائن کروایا ایران نے اسی قطر اور سعودی عرب کے تجارتی جہازوں پر حملے کیے جس سے امریکہ کو جنگ دوبارہ شروع کرنے کا ایک ٹھوس جواز مل گیا اور اس ایرانی ردعمل سے عرب ممالک نے بھی ایرانی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیا کہ اب امریکہ تمھارے ساتھ جو دل چاہے کرے ہم اسے نہیں روکیں گے ۔۔ایران نے ان عرب ممالک کے انفراسٹرکچر پر حملے کیے انکو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا لیکن پھر بھی انھوں نے صبر کا دامن تھام کر ایران پر جوابی حملہ نہیں کیا اور امریکہ کے ساتھ ایران کا سیز فائر کروانے میں اپنا کردار ادا کیا ۔۔یہ اعلیٰ ظرفی کی ایک بہت بڑی مثال ہے کہ کوئی اپنا ایک ٹکے کا نقصان ہونے پر بھی دوسرے کو نہیں چھوڑتا لیکن عرب اپنا اربوں ڈالر کا نقصان بھی برداشت کر گئے ۔۔لیکن اب ہر رات امریکہ شدت سے ایرانی اہداف کو نشانہ بناتا ہے لیکن پوری دنیا میں اب کوئی آواز نہیں اٹھتی کیونکہ دنیا نے ایرانی طرز عمل دیکھ لیا ہے اور ایران نے اس پوزیشن کو خود کھویا ہے ۔۔پچھلی جنگ میں ایک ایرانی پل تباہ ہونے پر دنیا میں رولا پڑ گیا تھا لیکن کل رات امریکہ نے چھ ایرانی پل تباہ کیے لیکن دنیا میں کسی نے اس پر کوئی آواز نہیں اٹھائی ۔۔امریکہ نے جہاں اب ایران کی سمندری ناکہ بندی دوبارہ شروع کر دی ہے وہیں وہ بڑھ چڑھ کر ایران میں حملے بھی کر رہا ہے اور ہر رات ایران کے بنائے گئے انفراسٹرکچر کو ملیا میٹ کر رہا ہے اور یہ سلسلہ ایسا ہی چلتا رہے گا کیونکہ پہلے عربوں نے ٹرمپ کو نتین یاہو کی شدید مخالفت کے باوجود سیز فائر کے لیے راضی کر لیا تھا لیکن اب وہ ایسا نہیں کرنا چاہ رہے ابھی دو سال پہلے کی ںات ہے،دو صدیوں پرانی نہیں کہ ایران 90 فیصد شیعہ ملک آذربائیجان کے خلاف نوے فیصد عیسائی آبادی کے ملک آرمینیا کی دامے درمے سخنے امداد فرما رہا تھا ۔ایرانی میزائل اور ڈرونز استعمال کر کے عیسائی امامیہ شیعہ کی منجی ثھوک رہے تھے ۔ نہ ایران کے شیعہ کی غیرت اس شیعہ کش پالیسی پر جاگی نہ ہی پاکستان کے شیعہ کے کان پر جوں رینگی ملکوں کی اسٹریٹیجی میں ملکی مفاد دیکھا جاتا ہے، مذہبی مفاد نہیں ۔ پاکستان کے شیعہ نیا برانڈ کا شیعہ ہے جو پہلے بائی چوائس ایرانی ہے پھر اس کے بعد بائی برتھ پاکستانی ہے ۔ جو صورتحال بن رہی ہے اس میں پاکستان کو لا محالہ سعودیہ کے ساتھ کیئے گئے معاہدے کی پابندی کے تحت ایران کے خلاف میدان میں اترنا پڑے گا پاکستانی اداروں کو اگلے دو چار دن بیٹھ کر سنجیدگی کے ساتھ پلاننگ کرنا ہو گی #PakistanNationalInterest #Geopolitics #PakistanForeignPolicy #StrategicAnalysis #NationalSecurity