@hali.dang: Kem đánh răng làm trắng răng #xuhuong #CapCut

HaLi Đặng
HaLi Đặng
Open In TikTok:
Region: VN
Sunday 19 July 2026 00:22:00 GMT
170
0
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @hali.dang, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

#creatorsearchinsights #poetrylover #whatsappstatus #sadstatus #reels میرے لیے گھر ایک سکون کی جگہ ہے🫰🌼(یعنی میری امی کا 🏠🩷) بہت افسوس کے ساتھ مجھے یہ کہنا پڑھ رہا ہے اور یقیناً یہ کچھ خاندانوں اور کچھ عورتوں کی زندگی کی تلخ حقیقت ہے۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ کچھ لوگوں کےلئے شاید گھر سکون کی جگہ نہیں ہوتی ایک جہاں ہر وقت آپ پر نظر رکھی جا رہی ہو یا آپ اگر کوئی کام کریں تو اس میں سو خامیاں نکالی جائیں تو میں اس گھر کو گھر نہیں کہتی اور نہ ہی وہ پھر ہمارے اپنے ہوتے ہیں جو ہمیں ہر چھوٹی بات پہ شرمندہ کر رہے ہوتے ہیں۔۔اپنے ایسے ہوتے ہیں کیا ۔۔؟؟   اور وہ آپ کے اپنے ہی ہوتے ہیں کوئی غیر نہیں کہ آپ کیا کر رہے ،کیا کھا رہے ، وغیرہ وغیرہ حالانکہ  اگر آپ شادی شدہ ہیں تو آپ کو کمرے تک کی آزادی نہیں ملتی کہ آپ اپنے کمرے میں دو گھڑی سکون کے بیٹھ جائیں  بعض گھروں میں شاید یہ نہ ہو لیکن  جہاں گھر کے بڑوں میں یہ چیز موجود ہو وہاں چھوٹوں میں بھی ہوتی ہے۔کہ  گھر کے بڑے ہی شک کی نگاہ سے آپ کو دیکھیں تو وہ گھر ،گھر نہیں ہوتا میں اس کو قید خانے کا نام دیتی ہوں ۔ جیسا کہ آپ مجرم ہوں ،اور ذیادہ تر مجھے لگتا ہے کی یہ ایک عورت فیس کرتی ہے ایک (شادی شدہ) عورت۔۔۔۔ اور ایک شادی شدہ عورت بھی تب ان سب چیزوں کا سامنا کرتی ہے جب اس کا شوہر اس کا شوہر کم بن رہا ہو اور گھر والوں کا بیٹا زیادہ بن رہا ہو تو تب عورت یہ سب فیس کرتی ہے اور نہ ہی اس دوران اس عورت کی سنی جا رہی ہوتی ہے۔۔ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو جوائنٹ فیملی سسٹم کو پسند کرتے ہیں اور میں بھی ان میں سے ایک ہوں
#creatorsearchinsights #poetrylover #whatsappstatus #sadstatus #reels میرے لیے گھر ایک سکون کی جگہ ہے🫰🌼(یعنی میری امی کا 🏠🩷) بہت افسوس کے ساتھ مجھے یہ کہنا پڑھ رہا ہے اور یقیناً یہ کچھ خاندانوں اور کچھ عورتوں کی زندگی کی تلخ حقیقت ہے۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ کچھ لوگوں کےلئے شاید گھر سکون کی جگہ نہیں ہوتی ایک جہاں ہر وقت آپ پر نظر رکھی جا رہی ہو یا آپ اگر کوئی کام کریں تو اس میں سو خامیاں نکالی جائیں تو میں اس گھر کو گھر نہیں کہتی اور نہ ہی وہ پھر ہمارے اپنے ہوتے ہیں جو ہمیں ہر چھوٹی بات پہ شرمندہ کر رہے ہوتے ہیں۔۔اپنے ایسے ہوتے ہیں کیا ۔۔؟؟ اور وہ آپ کے اپنے ہی ہوتے ہیں کوئی غیر نہیں کہ آپ کیا کر رہے ،کیا کھا رہے ، وغیرہ وغیرہ حالانکہ اگر آپ شادی شدہ ہیں تو آپ کو کمرے تک کی آزادی نہیں ملتی کہ آپ اپنے کمرے میں دو گھڑی سکون کے بیٹھ جائیں بعض گھروں میں شاید یہ نہ ہو لیکن جہاں گھر کے بڑوں میں یہ چیز موجود ہو وہاں چھوٹوں میں بھی ہوتی ہے۔کہ گھر کے بڑے ہی شک کی نگاہ سے آپ کو دیکھیں تو وہ گھر ،گھر نہیں ہوتا میں اس کو قید خانے کا نام دیتی ہوں ۔ جیسا کہ آپ مجرم ہوں ،اور ذیادہ تر مجھے لگتا ہے کی یہ ایک عورت فیس کرتی ہے ایک (شادی شدہ) عورت۔۔۔۔ اور ایک شادی شدہ عورت بھی تب ان سب چیزوں کا سامنا کرتی ہے جب اس کا شوہر اس کا شوہر کم بن رہا ہو اور گھر والوں کا بیٹا زیادہ بن رہا ہو تو تب عورت یہ سب فیس کرتی ہے اور نہ ہی اس دوران اس عورت کی سنی جا رہی ہوتی ہے۔۔ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو جوائنٹ فیملی سسٹم کو پسند کرتے ہیں اور میں بھی ان میں سے ایک ہوں "لیکن " اس جوائنٹ فیملی سسٹم میں اگر اصول نہیں ہیں تو وہاں ایک با شعور عورت کا رہنا بہت مشکل ہو جاتا ہے اس کی شادی شدہ زندگی کو اس ماحول میں ایک قیدی کی طرح گزار رہی ہوتی ہے۔ کچھ عادات: اگر روم میں آنا ہے تو دروازے پر دستک دیں۔ اگر آپ کے کسی بھی بڑے کا روم ہے (بھائی ،بہن،بھابھی،یا بیٹا،بیٹی وغیرہ)تو ان کی غیر موجودگی میں ان کے روم سے کوئی چیز نہ لیں یا ان کے روم میں موجود کسی الماری یا دراز کو نہ کھولیں ۔ آپس میں اگر آپ مل کر رہ رہے ہیں تو اس میں ایک دوسرے کا ادب بھی لازمی ہے۔ بعض دفعہ جب ایک نئی عورت کی شادی ہو کر کسی گھر میں جاتی ہے تو کچھ عورتوں کو ٹائم لگتا ہے ۔گھر کی چیزوں کو سمجھنے میں تو خدارا گھر کے معاملات میں ان کا مزاق نہ اڑایا کریں ۔بلکہ پیار سے آپ اس عورت کو گھر کے اصول سمجھائیں ۔ اور الگ ہو کہ سمجھائیں نا کے تمام گھر والوں کے سامنے تاکہ اس کو یہ نہ لگے کی اس کی عزت نفس مجروح ہو رہی ہے ۔ یہ عادات بڑوں کو خود بھی سیکھنی چاہیے اور اپنے گھر میں موجود ان چھوٹوں کو بھی سکھائیں جو ابھی تو رشتوں میں چھوٹے ہیں لیکن بعد میں ان سب کو بھی کل ذمہ دار انسان اور معاشرے کے اچھے شہری بننے گے۔۔۔۔

About